: سوال
.زکوٰۃ کی مد میں کپڑے یا راشن وغیرہ دینا
کیا زکوۃمیں کپڑے یا راشن دے سکتے ھیں
دلیل سے بتائیں۔؟
الأموال لابن زنجويه (3/ 1188)
2233 – أخبرنا حميد أنا محمد بن يوسف، أنا ابن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن طاوس قال: قال لهم معاذ باليمن: ائتوني بعرض آخذه منكم مكان الصدقة؛ فإنه أهون عليكم، وخير للمهاجرين بالمدينة
سنن الدارقطني (2/ 487)
1930 – حدثنا أبو روق الهزاني أحمد بن محمد بن بكر بالبصرة , ثنا أحمد بن روح , ثنا سفيان بن عيينة , عن إبراهيم بن ميسرة , وعمرو بن دينار , عن طاوس , قال: قال معاذ بن جبل لأهل اليمن: ائتوني بخمس أو لبيس آخذ منكم في الصدقة فهو أهون عليكم وخير للمهاجرين بالمدينة , فقال عمرو: ائتوني بعرض ثياب. هذا مرسل , طاوس لم يدرك معاذا
السنن الكبير للبيهقي (معتمد)
(8/ 107) 7447- أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو، حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفان، حدثنا يحيى بن آدم، حدثنا سفيان بن عيينة، عن إبراهيم بن ميسرة، عن طاووس، قال: قال معاذ، يعني ابن جبل باليمن: ائتوني بخميس أو لبيس آخذه منكم مكان الصدقة فإنه أهون عليكم وخير للمهاجرين بالمدينة. كذا قال إبراهيم بن ميسرة. وخالفه عمرو بن دينار عن طاووس، فقال: قال معاذ باليمن: ائتوني بعرض ثياب آخذه منكم مكان الذرة والشعير
وأخرج الدارقطني في السنن (ج2/ص487) حدثنا أبو روق الهزاني أحمد بن محمد بن بكر بالبصرة، ثنا أحمد بن روح، ثنا سفيان بن عيينة، عن إبراهيم بن ميسرة، وعمرو بن دينار، عن طاوس، قال: قال معاذ بن جبل لأهل اليمن: ائتوني بخمس أو لبيس آخذ منكم في الصدقة فهو أهون عليكم وخير للمهاجرين بالمدينة، فقال عمرو: ائتوني بعرض ثياب. قال الدارقطني هذا مرسل، طاوس لم يدرك معاذاً. قلت وهو كما قال
📖 حدیث
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:
“صَدَقَةُ الفِطْرِ طُهُورَةٌ لِلصَّائِمِ وَصَدَقَةٌ عَلَى الفُقَرَاءِ: صاعٌ مِنْ تَمْرٍ أَوْ صاعٌ مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صاعٌ مِنْ قَمْحٍ أَوْ صاعٌ مِنْ زَوْدٍ أَوْ صاعٌ مِنْ رِيزٍ“
(سنن أبي داود، حدیث نمبر: 1607؛ صحیح ابن خزیمہ 1856)
اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو جب یمن بھیجا تھا وہاں انہوں نے یمن والوں سے فرمایا کہ تم زکوات میں مجھے کپڑے دے دو مکئی اور جو کے بدلے میں یہ تمہارے لیے آسان بھی ہوگا دینا اور مدینہ میں حضور کے صحابہ کے لیے اس میں فائدہ بھی ہے اور اس میں بہتری ہے ان کے لیے تو جس میں مستحقین کا فقرا کا فائدہ ہو انفع الفقراء ہو وہ چیز زکوات میں دینی چاہیے اور وہ ضروری نہیں ہوتا کہ وہ صرف پیسے دیے جائیں بلکہ اس کے عوض میں سامان بھی دے سکتے ہیں کپڑے بھی دے سکتے ہیں غلہ بھی دے سکتے ہیں جیسے صدقہ فطر میں حدیث غلے کے متعلق ہے لیکن ہم پیسے دیتے ہیں قیمت دیتے ہیں اصل میں تو صدقہ فطر میں غلہ واجب ہوتا ہے نہ جو ہے کھجور ہے اور کشمش ہے گندم ہے تو گندم، کشمش، کھجور ان میں جو ہے وہ صدقہ فطر واجب ہوتا ہے لیکن ہم اس کی قیمت دیتے ہیں کیونکہ وہ انفع الفقراء ہے
