:سوال
والد صاحب کی کون سی جائیداد وراثت میں تقسیم ہوگی اور کون سی ہبہ شمار ہوگی؟ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
:جواب
عرف میں مشترکہ خاندانی نطام ( جوائنٹ فیملی سسٹم )میں رہتے ہوئے اس طرح تقسیم کرنے کو الگ سے ہبہ کرنا نہیں سمجھا جاتا اور نہ ہی والد کا مقصود ایسا ہوتا ہے بلکہ یہ متوقع وراثت کا پیشگی حصہ ہوتا ہے اس لیے والد نے بیٹوں کو جو جو چیزیں دی ہیں یا بیٹی کو دینے کا کہا ہے یعنی اسکول کی جگہ جو***اور *** کو دی ہے یاHonda گاڑی جو ***کو دی ہے یہ وراثت بنے گی یعنی کل وراثت میں ان لوگوں کا جتنا حصہ ہے اگر یہ اس کے بقدر ہے تو ٹھیک اگر زائد ہے تو واپس کریں گے اور اگر کم ہو تو حصہ پورا کریں گے باقی جو اس دوران مشترکہ کھاتےسے تنخواہ کی مد میں جس نے جو لیا ہے وہ وراثت شمار نہ ہوگی۔
البتہ والدہ کے نام جو مکان کروایا ہے اور زبانی ان کو دینے کا کہا ہے وہ والدہ کو دینا ہی مقصود تھا اس لیے وہ انہی کی ملکیت ہوگا، وراثت شمار نہ ہوگا۔ باقی مشغول چیز کا ہبہ اگرچہ وہ قبضے سے مانع ہوتا ہے لیکن ہماری تحقیق میں رجسٹری قبضے کے قائم مقام ہے لہٰذا مشغولیت قبضے سے مانع نہ ہوگی۔
