There Is Another World Beyond Likes and Comments

(لائکس اور کمنٹس کا ایک جہان اور بھی ہے۔)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مفتی محمد خالد قاسمی مظفرنگری
آج کے دور کا المیہ یہ ہے کہ ہر انسان اپنی زندگی کے لمحات کو لوگوں کی نظروں میں قابلِ قبول بنانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ اپنی تصویر ہو، کوئی کامیابی ہو، کوئی سفر ہو، کوئی دعوت ہو یا کوئی خوبصورت منظر—ہم فوراً اسے سوشل میڈیا پر پیش کر دیتے ہیں اور پھر نگاہیں اسکرین پر جم جاتی ہیں کہ کتنے لائکس، کمنٹس اور شیئرز ملے؟
کسی کی ایک پوسٹ پر ہزاروں لائکس آجائیں تو وہ خوشی سے پھولے نہیں سماتا، اور کسی کی پوسٹ پر چند لائکس ہوں تو وہ سوچنے لگتا ہے کہ آخر لوگوں نے اسے پسند کیوں نہیں کیا؟ بعض اوقات تو انسان اپنی عزت، وقار اور سکون تک کو سوشل میڈیا کے ان اعداد و شمار کے حوالے کر دیتا ہے۔
مگر ذرا ٹھہریے!
کیا دنیا کے لائکس اور کمنٹس ہی اصل کامیابی ہیں؟
کیا ہماری قدر و منزلت کا فیصلہ صرف یہ ہے کہ دنیا ہمیں کتنی مرتبہ پسند کرتی ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ لائکس اور کمنٹس کا ایک اور جہان بھی ہے۔۔۔
وہ جہان جہاں لوگوں کے ہاتھ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اصل کامیابی ہے۔ وہاں فالوورز کی تعداد نہیں دیکھی جاتی بلکہ اخلاص دیکھا جاتا ہے۔ وہاں پوسٹ کتنی وائرل ہوئی، یہ نہیں دیکھا جاتا بلکہ عمل کتنا مقبول ہوا، یہ دیکھا جاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نقل فرمایا:
«فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَإٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ»
یعنی:
اگر میرا بندہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے پاس یاد کرتا ہوں، اور اگر وہ مجھے کسی مجلس میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اس سے بہتر مجلس میں یاد کرتا ہوں۔
یہ کیسا عجیب معاملہ ہے!
دنیا میں ہم کسی کی پوسٹ پر ایک لائک کر کے سمجھتے ہیں کہ ہم نے اسے اہمیت دے دی، مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے معاملہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ بندہ اپنے رب کو یاد کرتا ہے تو ربِّ کائنات اسے اپنے پاس یاد فرماتا ہے۔
یہ ہے اصل لائک!
یہ ہے اصل قبولیت!
یہ ہے وہ کمنٹ جس کے بعد انسان کو کسی اور تعریف کی ضرورت نہیں رہتی۔
اصل کامیابی: اللہ کی محبت
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو جبرئیل علیہ السلام کو آواز دیتا ہے:
«إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحْبِبْهُ»
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں، تم بھی اس سے محبت کرو۔
چنانچہ جبرئیل علیہ السلام اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر آسمان والوں میں اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت کرتا ہے، تم بھی اس سے محبت کرو۔ پھر اہلِ آسمان بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور زمین میں بھی اس کے لیے قبولیت رکھ دی جاتی ہے۔
ذرا سوچئے!
ایک طرف انسان دنیا کے چند سو، چند ہزار یا لاکھوں لائکس حاصل کرنے کے لیے بے چین ہے، اور دوسری طرف ایک ایسی قبولیت ہے جو آسمانوں تک پہنچتی ہے اور پھر زمین والوں کے دلوں میں بھی اتار دی جاتی ہے۔
دنیا کے لائکس چند لمحوں کے ہیں،
اللہ کی محبت ہمیشہ کے لیے ہے۔
دنیا کے کمنٹس اسکرین پر رہتے ہیں،
اللہ کی طرف سے قبولیت دلوں میں اترتی ہے۔
دنیا کا فالوور آج ساتھ ہے، کل اَن فالو بھی کر سکتا ہے،
مگر جسے اللہ اپنا بنا لے، اسے کون محروم کرسکتا ہے؟
سوشل میڈیا کی مقبولیت اور حقیقی مقبولیت
آج اگر کسی شخص کی کوئی تصویر یا ویڈیو وائرل ہوجائے تو لوگ اسے کامیابی سمجھتے ہیں۔ چند لمحوں میں ہزاروں لوگ اسے دیکھ لیتے ہیں، سیکڑوں لوگ کمنٹ کر دیتے ہیں اور لائکس کی تعداد بڑھتی چلی جاتی ہے۔
لیکن سوال یہ ہے:
کیا اس سے قبر روشن ہوگی؟
کیا اس سے آخرت سنور جائے گی؟
کیا قیامت کے دن یہ لائکس ہمارے نامۂ اعمال میں نیکیاں بن کر شامل ہوں گے؟
نہیں!
اصل کامیابی تو یہ ہے کہ ہمارا کوئی ایسا عمل ہو جسے شاید دنیا نے دیکھا بھی نہ ہو، مگر اللہ تعالیٰ نے دیکھ لیا ہو۔
رات کے اندھیرے میں پڑھی جانے والی دو رکعت نماز،
تنہائی میں بہنے والا ایک آنسو،
کسی محتاج کی خاموش مدد،
کسی کا قرض معاف کردینا،
کسی کی عزت بچا لینا،
کسی کو تکلیف دینے کے باوجود بدلہ نہ لینا،
اور سب سے بڑھ کر اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا—
یہ وہ اعمال ہیں جن کے لائکس شاید دنیا میں صفر ہوں، مگر آسمان پر ان کی قدر بہت بڑی ہوسکتی ہے۔
اصل مسئلہ لوگوں کی نظر نہیں، اللہ کی نظر ہے
ہم اپنی زندگی میں بارہا یہ سوچتے ہیں:
لوگ میرے بارے میں کیا کہیں گے؟
حالانکہ ایک مومن کو یہ سوچنا چاہیے:
اللہ میرے بارے میں کیا دیکھ رہا ہے؟
لوگ ہمارے ظاہر کو دیکھتے ہیں،
اللہ ہمارے ظاہر کے ساتھ ہمارے باطن کو بھی دیکھتا ہے۔
لوگ ہماری پوسٹ پر موجود الفاظ پڑھتے ہیں،
اللہ ہمارے دل کی نیت پڑھتا ہے۔
لوگ ہمارے چہرے کی مسکراہٹ دیکھتے ہیں،
اللہ ہمارے دل کا درد جانتا ہے۔
لوگ ہمارے اعمال کی تعریف کرسکتے ہیں،
مگر اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ وہ عمل اخلاص سے تھا یا دکھاوے کے لیے۔
اسی لیے مومن کی سب سے بڑی خواہش یہ ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہوجائے۔
آج انسان کو چند لمحوں کی شہرت نے بے چین کردیا ہے
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں انسان کی شہرت کا معیار بدل گیا ہے۔
جس کے زیادہ فالوورز ہیں، وہ بڑا سمجھا جاتا ہے۔
جس کے زیادہ لائکس ہیں، اسے کامیاب سمجھا جاتا ہے۔
جس کی ویڈیو زیادہ وائرل ہو، اسے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔
لیکن کبھی ہم نے سوچا کہ:
اگر پوری دنیا مجھے پسند کرتی ہو لیکن اللہ مجھ سے راضی نہ ہو تو میں نے کیا حاصل کیا؟
اور اگر:
دنیا مجھے نہ جانتی ہو، میرے پاس فالوورز نہ ہوں، میری پوسٹ پر کوئی لائک نہ ہو، لیکن اللہ تعالیٰ مجھے پسند فرماتا ہو تو اس سے بڑی کامیابی اور کیا ہوسکتی ہے؟
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب ایک معروف مفہوم ہے کہ انسان کو لوگوں کی تعریف اور مذمت کے بجائے اپنے رب کی رضا کو سامنے رکھنا چاہیے۔ یہی مومن کی اصل منزل ہے۔
قرآن ہمیں اصل معیار بتاتا ہے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ
“پس تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا، اور میرا شکر ادا کرو اور ناشکری نہ کرو۔”
(سورۃ البقرۃ: 152)
ذرا غور کیجیے!
ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہمیں یاد رکھیں۔
ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہماری پوسٹ شیئر کریں۔
ہم چاہتے ہیں کہ ہماری تصویر پر کمنٹس آئیں۔
ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہماری تعریف کریں۔
مگر قرآن ہمیں اس سے کہیں بڑی خوشخبری دے رہا ہے:
تم اللہ کو یاد کرو، اللہ تمہیں یاد کرے گا!
اس سے بڑا لائک اور کیا ہوسکتا ہے؟
اس سے بڑا کمنٹ اور کیا ہوسکتا ہے؟
اس سے بڑی مقبولیت اور کیا ہوسکتی ہے؟
آئیے! اپنی ترجیحات بدلیں
سوشل میڈیا استعمال کرنا بذاتِ خود کوئی مسئلہ نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا ہماری زندگی کا مقصد نہ بن جائے۔
ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ:
ہماری پوسٹ لوگوں کو کیا دے رہی ہے؟
ہمارے الفاظ کسی کی اصلاح کررہے ہیں یا دل آزاری؟
ہماری تصاویر ہمیں اللہ کے قریب کررہی ہیں یا دکھاوے کے قریب؟
ہماری شہرت ہمارے اخلاص کو کھا تو نہیں رہی؟
ہم لوگوں کی پسند کے لیے جی رہے ہیں یا اللہ کی رضا کے لیے؟
اگر کبھی آپ کی کوئی پوسٹ بہت کم پسند کی جائے تو پریشان نہ ہوں۔
ممکن ہے دنیا نے اسے پسند نہ کیا ہو،
مگر اللہ نے آپ کی نیت پسند کرلی ہو۔
اگر کسی نیکی کو دنیا نے نہیں دیکھا تو غم نہ کریں۔
ممکن ہے کسی فرشتے نے اسے لکھ لیا ہو۔
اگر آپ نے کسی کی مدد چھپ کر کی ہے تو خوش رہیں۔
ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاں محفوظ کرلیا ہو۔
آخر میں
حلال کمائیں، حلال کھائیں، لوگوں کے حقوق ادا کریں، اپنے اخلاق درست کریں، رشتوں کو جوڑیں، محتاجوں کی مدد کریں، والدین کی خدمت کریں، نماز کی حفاظت کریں، قرآن سے تعلق مضبوط کریں اور ہر عمل میں اللہ تعالیٰ کی رضا تلاش کریں۔
کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ:
دنیا کے لائکس ختم ہوجائیں گے،
کمنٹس مٹ جائیں گے،
فالوورز بچھڑ جائیں گے،
پوسٹس پرانی ہوجائیں گی،
اکاؤنٹس بند ہوجائیں گے،
اور ایک دن یہ پوری دنیا بھی ختم ہوجائے گی۔
مگر جو عمل اللہ کی رضا کے لیے کیا گیا، وہ باقی رہے گا۔
لہٰذا آج سے اپنے دل میں ایک نئی خواہش پیدا کریں:
“یا اللہ! مجھے دنیا کی مقبولیت سے زیادہ اپنی رضا عطا فرما۔
لوگ مجھے پسند کریں یا نہ کریں، تو مجھ سے راضی ہوجا۔
لوگ مجھے یاد رکھیں یا بھول جائیں، تو مجھے اپنے ہاں یاد رکھ۔
میری زندگی کا سب سے بڑا لائک تیری رضا ہو،
اور میری سب سے بڑی کامیابی تیرا قبول فرما لینا ہو۔”
اللّٰهم ارزقنا حبَّك، وحبَّ من يحبُّك، وحبَّ عملٍ يقرّبنا إلى حبّك۔
آمین یا رب العالمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *