:سوال
یہ ہے کہ جیسے حرم کی نیکی ایک لاکھ کے برابر ہے تو کیا گناہ بھی ایک لاکھ کے برابر ہے جیسے اکثر سنتے رہتے ہیں
:جواب
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:
“حدثنا ( 14092 ) أبو بكر قال: حدثنا وكيع، عن مسعر، عن عمرو بن مرة، عن طلق بن حبيب، قال: قال عمر: «يا أهل مكة، اتقوا الله في حرم الله، أتدرون من كان ساكن هذا البيت؟ كان به بنو فلان، فأحلوا حرمه فأهلكوا، وكان به بنو فلان، فأحلوا حرمه فأهلكوا»، حتى ذكر ما شاء الله من قبائل العرب أن يذكر ثم قال: «لأن أعمل عشر خطايا حوليه أحب إلي من أن أعمل ههنا خطيئة واحدة».”
( كتاب الحج، في حرمة البيت وتعظيمه، ٣ / ٢٦٨، ط: مكتبة الرشد – الرياض)
مصنف عبد الرزاق میں ہے:
عبد الرزاق، 8870 – عن معمر قال: أخبرني عبد الكريم الجزري، أنه سمع مجاهدا يقول: رأيت عبد الله بن عمرو بن العاص بعرفة، ومنزله في الحل، ومصلاه في الحرم، فقيل له: لم تفعل هذا؟ فقال: «لأن العمل فيه أفضل، والخطيئة أعظم فيه».
8871 – عن ابن جريج قال: أخبرني إسماعيل بن أمية: أن عمر بن الخطاب قال: «لأن أخطئ سبعين خطيئة بركبة أحب إلي من أن أخطئ خطيئة واحدة بمكة».
8872 – عن ابن جريج قال: وقال مجاهد: حذر عمر بن الخطاب قريشا، وكان بها ثلاثة أحياء من العرب فهلكوا: «لأن أخطئ اثنتا عشرة خطيئة بركبة أحب إلي من أن أخطئ خطيئة واحدة إلى ركنها».
(كتاب المناسك، باب الخطيئة في الحرم والبيت المعمور، ٥ / ٢٧ – ٢٨، ط: المجلس العلمي- الهند )
حضرت عمرؓ نے اہلِ مکہ کو فرمایا:
“اے اہلِ مکہ! اللہ سے ڈرو اس کے حرم کے بارے میں۔ تم جانتے ہو کہ اس گھر میں فلاں فلاں قبائل آباد تھے، انہوں نے اس کی حرمت کو حلال کیا تو ہلاک ہو گئے…
اور میں اس کو پسند کرتا ہوں کہ میں مکہ کے باہر دس خطائیں کروں، اس سے بہتر ہے کہ یہاں ایک خطا کروں۔”
عبد الله بن عمرو بن العاص
انہوں نے:
رہائش حل (حرم سے باہر) میں رکھی
نماز حرم میں پڑھتے تھے
وجہ بیان کی:
“یہاں نیکی کا اجر زیادہ ہے، اور گناہ بھی زیادہ سنگین ہے۔”
عمر بن الخطاب
“میں رَكْبَة میں ستر گناہ کر لوں، یہ مجھے زیادہ پسند ہے بنسبت اس کے کہ مکہ میں ایک گناہ کروں۔”
رَكْبَة مکہ سے باہر ایک مقام تھا
قرآن میں فرمایا:
وَمَن يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ
(الحج: 25)
یعنی حرم میں ظلم/گناہ کا ارادہ بھی سخت وعید کا باعث ہے۔
لہذا
حرم میں گناہ کی تعداد کا ذکر تو نہیں ہے کہ ایک گناہ کرنا ایک لاکھ گناہ کے برابر ہے البتہ سختی بڑھ جاتی ہے اور گناہ زیادہ خطرناک ہے کوئی تعداد کا ذکر تو حدیث میں نہیں ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ حرم میں گناہ کرنا زیادہ خطرناک اور اس کی سنگینی اور سختی اور اس کی سزا بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔وللہ اعلم
