Use of Social Media and Behaviors That Need Correction

سوشل میڈیا کا استعمال اور قابل اصلاح رویۓ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: مولانا محمد حنیف جالندھری
تمام حمد و ثنا اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا اور اسے عقل و شعور، زبان اور اظہار کی صلاحیت عطا فرمائی۔ درود و سلام ہو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر، جنہوں نے انسانیت کو زندگی گزارنے کے بہترین اصول اور اخلاقِ حسنہ کا راستہ دکھایا۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو خیر و شر میں امتیاز کرنے کی صلاحیت عطا فرمائی ہے۔ انسان اپنے قول و فعل کے ذریعے دوسروں کے لیے آسانی اور خیر کا سبب بھی بن سکتا ہے اور تکلیف و فساد کا ذریعہ بھی۔ پہلے زمانے میں انسان کے خیالات اور گفتگو محدود دائرے میں دوسروں تک پہنچتے تھے، لیکن آج سوشل میڈیا نے انسان کو ایک ایسی طاقت دے دی ہے جس کے ذریعے اس کی آواز، تحریر، تصویر اور پیغام چند لمحوں میں ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔
یہ ایک عظیم نعمت بھی ہے اور ایک بڑی آزمائش بھی۔
سوشل میڈیا: نعمت یا آزمائش؟
آج فیس بک، واٹس ایپ، یوٹیوب، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور دیگر ذرائعِ ابلاغ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان ذرائع کے ذریعے ہم علم حاصل کرسکتے ہیں، دینی و اصلاحی پیغامات دوسروں تک پہنچا سکتے ہیں، دنیا بھر کے حالات سے باخبر رہ سکتے ہیں اور لوگوں کے ساتھ رابطہ قائم رکھ سکتے ہیں۔
لیکن جس طرح ہر نعمت کا درست استعمال ضروری ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کا بھی ذمہ دارانہ استعمال ضروری ہے۔ اگر اسے خیر کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ صدقۂ جاریہ بن سکتا ہے، اور اگر اسے جھوٹ، غیبت، تہمت، بے حیائی، افواہ اور فساد پھیلانے کے لیے استعمال کیا جائے تو یہی ذریعہ انسان کے لیے وبال بن سکتا ہے۔
اس لیے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سوشل میڈیا صرف وقت گزاری کا ذریعہ نہیں بلکہ ہماری زبان، کردار اور اخلاق کا امتحان بھی ہے۔
مومن کی عزت و حرمت
رسول اللہ ﷺ نے انسان کی عزت و حرمت کی حفاظت کی بہت تاکید فرمائی۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«مَا أَعْظَمَكَ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَكَ، وَالْمُؤْمِنُ أَعْظَمُ حُرْمَةً عِنْدَ اللهِ مِنْكَ»
یعنی:
اے کعبہ! تو کتنا عظیم ہے اور تیری حرمت کتنی عظیم ہے، لیکن اللہ کے نزدیک ایک مومن کی حرمت تجھ سے بھی زیادہ ہے۔
جب ایک مسلمان کی عزت اللہ تعالیٰ کے نزدیک اتنی اہم ہے تو کسی شخص کی تصویر، ویڈیو یا ذاتی معاملے کو اس کی اجازت کے بغیر پھیلانا، اس کی عزت کو مجروح کرنا، اس کے بارے میں غلط بات پھیلانا یا اسے بدنام کرنا کس قدر سنگین معاملہ ہوگا!
آج ہم دوسروں کی عزت کو معمولی سمجھ کر بعض اوقات ایسی پوسٹ یا ویڈیو شیئر کر دیتے ہیں جس سے کسی انسان کی عزت، خاندان، کاروبار یا مستقبل متاثر ہوسکتا ہے۔
لہٰذا ہر پوسٹ شیئر کرنے سے پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ اگر یہی بات میرے بارے میں پھیلائی جائے تو مجھے کیسا محسوس ہوگا؟
(زبان کی حفاظت اور سوشل میڈیا)
زبان انسان کے اخلاق کی ترجمان ہے۔ آج زبان کے ساتھ ساتھ موبائل کا کی بورڈ بھی ہماری زبان بن چکا ہے۔ جو بات ہم پہلے بول کر چند لوگوں تک پہنچاتے تھے، آج وہی بات ایک پوسٹ یا کمنٹ کے ذریعے ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا:
“يَا نَبِيَّ اللهِ، وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُونَ بِمَا نَتَكَلَّمُ بِهِ؟”
یعنی:
اے اللہ کے نبی! کیا ہم اپنی باتوں پر بھی پکڑے جائیں گے؟
رسول اللہ ﷺ نے اپنی زبان مبارک کو پکڑ کر فرمایا:
«كُفَّ عَلَيْكَ هَذَا»
یعنی:
اسے اپنے قابو میں رکھو۔
آج کے دور میں اس حدیث کا ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم اپنی انگلیوں کو بھی قابو میں رکھیں۔ کیونکہ جو کچھ ہم موبائل پر لکھتے، کمنٹ کرتے یا شیئر کرتے ہیں، وہ بھی ہمارے اعمال میں شامل ہے۔
ہر خبر آگے بڑھانا ضروری نہیں
سوشل میڈیا پر روزانہ بے شمار خبریں گردش کرتی ہیں۔ ان میں کچھ صحیح ہوتی ہیں اور کچھ جھوٹی۔ بعض خبریں جذبات بھڑکانے کے لیے بنائی جاتی ہیں اور بعض لوگوں کی عزت خراب کرنے کے لیے۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا﴾
ترجمہ:
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کر لیا کرو۔
لہٰذا کسی خبر کو صرف اس لیے آگے نہ بڑھائیں کہ وہ ہمیں دلچسپ لگی ہے یا بہت سے لوگوں نے اسے شیئر کیا ہے۔
شیئر کرنے سے پہلے تحقیق کریں، تصدیق کریں، پھر فیصلہ کریں۔
ممکن ہے ایک جھوٹی خبر کسی بے گناہ انسان کی عزت برباد کردے، کسی خاندان میں فساد پیدا کردے یا معاشرے میں انتشار پھیلا دے۔
اچھا بولیں یا خاموش رہیں
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ»
ترجمہ:
جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔
(صحیح بخاری)
یہ حدیث ہمارے سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے بھی ایک بہترین اصول ہے۔
کمنٹ کرنے سے پہلے سوچیں:
کیا یہ بات سچی ہے؟
کیا یہ بات ضروری ہے؟
کیا اس سے کسی کو فائدہ ہوگا؟
کیا اس سے کسی کی دل آزاری تو نہیں ہوگی؟
کیا میں یہ بات اللہ تعالیٰ کے سامنے بھی کہہ سکوں گا؟
اگر جواب اطمینان بخش نہیں تو خاموش رہنا بہتر ہے۔
غیبت، تہمت اور کردار کشی
سوشل میڈیا پر ایک خطرناک رویہ دوسروں کے عیوب بیان کرنا ہے۔ کسی کی ذاتی زندگی پر تبصرہ کرنا، اس کے عیب تلاش کرنا، اس کی غیبت کرنا، اس پر تہمت لگانا یا اس کی کمزوری کو مذاق بنانا مسلمان کے شایانِ شان نہیں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا﴾
ترجمہ:
اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔
اسی طرح کسی مسلمان کی عزت کو مجروح کرنا معمولی بات نہیں۔ ایک شخص کی زبان سے نکلی ہوئی بات شاید چند لمحوں میں ختم ہوجائے، لیکن سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ یا ویڈیو برسوں تک موجود رہ سکتی ہے۔
اس لیے کسی کے خلاف کوئی بات لکھنے یا شیئر کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچیں کہ کہیں ہم اپنی آخرت خراب تو نہیں کر رہے۔
سوشل میڈیا پر خواتین اور خاندان کی عزت
ہمارے معاشرے میں بعض اوقات سوشل میڈیا پر دوسروں کی تصاویر، خاندانی معاملات اور ذاتی زندگی کو موضوعِ گفتگو بنا لیا جاتا ہے۔ خصوصاً خواتین کی عزت و آبرو کے بارے میں ہمیں بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے خطبۂ حجۃ الوداع میں مسلمانوں کے خون، مال اور عزت کی حرمت کو واضح فرمایا:
«فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ»
یعنی:
بے شک تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر حرام ہیں۔
یہ اصول صرف حقیقی زندگی میں نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا اور وقت کا ضیاع
سوشل میڈیا کا ایک بڑا نقصان وقت کا ضیاع بھی ہے۔ انسان چند منٹ کے لیے موبائل کھولتا ہے، لیکن دیکھتے دیکھتے گھنٹے گزر جاتے ہیں۔
طالب علم اپنی پڑھائی سے غافل ہوجاتا ہے، کاروباری شخص اپنے کام سے، اور بعض لوگ عبادت اور گھر والوں کے حقوق سے بھی متاثر ہونے لگتے ہیں۔
ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے:
میں سوشل میڈیا استعمال کر رہا ہوں یا سوشل میڈیا مجھے استعمال کر رہا ہے؟
یہ ایک بہت اہم سوال ہے۔
سوشل میڈیا کو اصلاح کا ذریعہ بنائیں
سوشل میڈیا بذاتِ خود برا نہیں ہے۔ اصل مسئلہ اس کے استعمال کا ہے۔
اگر ہم اس کے ذریعے:
قرآن کی آیات اور احادیث شیئر کریں،
دینی اور علمی معلومات پھیلائیں،
لوگوں کو خیر کی طرف بلائیں،
ضرورت مندوں کی مدد کی اپیل کریں،
مفید تعلیمی مواد نشر کریں،
والدین، اساتذہ اور بزرگوں کا احترام سکھائیں،
نوجوانوں کی اخلاقی تربیت کریں،
تو سوشل میڈیا معاشرے کی اصلاح کا بہت بڑا ذریعہ بن سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾
ترجمہ:
اور ان سے ایسے طریقے سے گفتگو کرو جو سب سے بہترین ہو۔
یعنی اختلاف بھی ہو تو زبان میں شائستگی، لہجے میں نرمی اور انداز میں حکمت ہونی چاہیے۔
اختلافِ رائے اور ہماری ذمہ داری
سوشل میڈیا پر مختلف سیاسی، مذہبی، سماجی اور فکری خیالات رکھنے والے لوگ موجود ہیں۔ اختلافِ رائے انسانی معاشرے کا حصہ ہے، لیکن اختلاف کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ایک دوسرے کی تضحیک کریں، گالم گلوچ کریں یا کردار کشی شروع کردیں۔
ایک مسلمان کا اخلاق یہ ہونا چاہیے کہ وہ اختلاف کے باوجود دوسرے انسان کی عزت برقرار رکھے۔
دلائل سے بات کریں، گالی سے نہیں۔
حکمت سے سمجھائیں، تحقیر سے نہیں۔
اصلاح کریں، فساد نہ پھیلائیں۔
ہماری اصل ضرورت: اخلاقی اصلاح
آج سوشل میڈیا کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے اخلاق اور رویوں کی اصلاح کی بھی ضرورت ہے۔
ہمیں اپنے بچوں اور نوجوانوں کو صرف یہ نہیں سکھانا کہ موبائل کیسے استعمال کرنا ہے، بلکہ یہ بھی سکھانا ہے کہ:
موبائل پر کیا دیکھنا ہے، کیا لکھنا ہے، کیا شیئر کرنا ہے اور کس چیز سے رک جانا ہے۔
انہیں یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ موبائل کی اسکرین کے پیچھے بھی اللہ تعالیٰ ہمیں دیکھ رہے ہیں۔
ہم اگر تنہائی میں کوئی ایسی چیز لکھتے یا شیئر کرتے ہیں جو اللہ کو ناپسند ہے تو لوگوں کی نظروں سے چھپ سکتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی نظر سے نہیں چھپ سکتے۔
آخرت میں ہمارے اعمال کا حساب ہوگا
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہماری زندگی کا ہر عمل محفوظ ہو رہا ہے۔ قرآن مجید فرماتا ہے:
﴿يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾
ترجمہ:
جس دن ان کی زبانیں، ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔
آج ہم جو کچھ اپنی زبان سے کہتے ہیں اور ہاتھ سے لکھتے ہیں، کل وہی ہمارے خلاف یا ہمارے حق میں گواہی بن سکتا ہے۔
اس لیے سوشل میڈیا پر کیا گیا ہر کمنٹ، ہر پوسٹ، ہر شیئر اور ہر ویڈیو ہمیں آخرت کی جواب دہی یاد دلاتا رہے۔
اختتامیہ
سوشل میڈیا ایک طاقت ہے۔ یہ طاقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہم چاہیں تو اس سے علم، خیر، اصلاح اور محبت پھیلا سکتے ہیں، اور چاہیں تو اسی کے ذریعے جھوٹ، غیبت، نفرت، فتنہ اور بے حیائی کو عام کرسکتے ہیں۔
لہٰذا ہمیں سوشل میڈیا چھوڑنے کی نہیں بلکہ اس کے درست اور ذمہ دارانہ استعمال کی ضرورت ہے۔
آئیے عہد کریں کہ:
ہم جھوٹی خبر شیئر نہیں کریں گے۔
کسی کی عزت سے نہیں کھیلیں گے۔
غیبت اور تہمت سے بچیں گے۔
اختلاف میں بھی اخلاق کا دامن نہیں چھوڑیں گے۔
اپنا وقت ضائع نہیں کریں گے۔
اور سوشل میڈیا کو خیر، علم اور اصلاح کا ذریعہ بنائیں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق سمجھ کر اس کی اتباع کرنے اور باطل کو باطل سمجھ کر اس سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اللهم أرنا الحق حقًا وارزقنا اتباعه، وأرنا الباطل باطلًا وارزقنا اجتنابه۔
آمین یا رب العالمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *