*سودی رقم کو راستے یا پل کی تعمیر میں صرف کرنے کا شرعی حکم*
*السوال:*
مفتی صاحب! کیا سودی رقم کو اپنے محلے کے راستے یا پل کی تعمیر میں صرف کرنا جائز ہے؟ میرا ایک دوست کہتا ہے کہ سودی رقم ایسے عوامی کاموں میں خرچ کر دینی چاہیے۔ کیا اس کی یہ بات درست ہے؟
*الجواب حامدا و مصلیا اما بعد!*
واضح رہے کہ سود کی رقم اس کے اصل مالک کو واپس کرنا ضروری ہے، اور اگر اسے واپس کرنا ممکن نہ ہو تو اسے ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کرنا واجب ہے؛ کیونکہ سودی رقم کا مصرف یہی ہے کہ اسے بلا نیتِ ثواب فقراء پر خرچ کیا جائے۔ لہٰذا سود کی رقم کو براہِ راست پل یا راستے کی تعمیر میں صرف کرنا شرعاً درست نہیں۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے دوست کی بات درست نہیں، بلکہ مذکورہ سودی رقم اگر اصل مالک کو واپس کرنا ممکن نہ ہو تو اسے کسی مستحقِ زکوٰۃ شخص کو بلا نیتِ ثواب دینا ضروری ہے۔ اسے راستے یا پل کی تعمیر میں صرف کرنا جائز نہیں، اور نہ ہی اس طرح خرچ کرنے سے ذمہ بری ہوگا۔
فتاوٰی شامی میں ہے:
“والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه، وإن كان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام ولا يعلم أربابه ولا شيئا منه بعينه حل له حكما، والأحسن ديانة التنزه عنه…ومفاده الحرمة وإن لم يعلم أربابه وينبغي تقييده بما إذا كان عين الحرام ليوافق ما نقلناه، إذ لو اختلط بحيث لا يتميز يملكه ملكا خبيثا، لكن لا يحل له التصرف فيه ما لم يؤد بدله.”
(کتاب البیوع،باب البیع الفاسد، مطلب فيمن ورث مالا حراما، ج:5، ص:99، ط:سعید)
الاختیار لتعلیل المختار میں ہے:
“والملك الخبيث سبيله التصدق به، ولو صرفه في حاجة نفسه جاز. ثم إن كان غنيا تصدق بمثله، وإن كان فقيرا لا يتصدق.”
(كتاب الغصب ،ج:3، ص:61، ط:دارالفكر)
بذل المجهود في حل سنن أبي داود میں ہے:
“صرح الفقهاء بأن من اكتسب مالاً بغير حق، فإما أن يكون كسبه بعقد فاسد، كالبيوع الفاسدة والاستئجار على المعاصي والطاعات، أو بغير عقد، كالسرقة والغصب والخيانة والغلول، ففي جميع الأحوال المال الحاصل له حرام عليه، ولكن إن أخذه من غير عقد ولم يملكه يجب عليه أن يرده على مالكه إن وجد المالك، وإلَّا ففي جميع الصور يجب عليه أن يتصدق بمثل تلك الأموال على الفقراء..ويريد أن يدفع مظلمته عن نفسه، فليس له حيلة إلَّا أن يدفعه إلى الفقراء.”
(كتاب الطهارة، باب فرض الوضوء، ج:1، ص:359، ط:مركز الشيخ أبي الحسن الندوي للبحوث والدراسات الإسلامية، الهند)
منحۃ الخالق لابن العابدين میں ہے:
“ويجب عليه تفريغ ذمته برده إلى أربابه إن علموا وإلا إلى الفقراء”.
( كتاب الزكوة، شروط وجوب الزكوة، ج2،ص 211، ط: دار الكتاب الإسلامي)
فقه البیوع علی المذاھب الاربعۃ میں ہے:
” العقود التی تتعین فیها النقود عند الحنفیة:
عدم تعیین النقود عند الحنفیة مختص بالمعاوضات. أما الأمانات، فإنها تتعین فیها، مثل الودیعة و الشرکة و المضاربة و الوکالة…..و کذلك تتعین النقود فی الهبة و الصدقة … و کذلك تتعین النقود المغصوبة و المکتسبة بطریق محرم، مثل الربا؛ و لذکك و جب ردها علی مالکها، فإن تعذر ردها إلی مالکها، وجب التصدق بها بقصد التخلص منها، و إیصال ثواب الصدقة إلی مالکها.”
(المبحث الرابع فی احکام تعین النقود ،ج:1، ص: 454 ط:مکتںۃ معارف القرآن کراتشی)
فتاویٰ محمودیہ میں ہے:
“اسکول کی تعمیر اور پیشاب خانے وغیرہ مستحق نہیں ہوتے جو کہ تصدق کا حاصل ہے، اس لئے اس سے منع کیا گیا ہے۔ مستحق کو مالک بنا کر دے دیا جائے ، پھر وہ جو دل چاہے، جہاں چاہے خرچ کرے۔ سابقہ فتویٰ نمبر: ۹۲/۱۱/۲۵،۵۰۵۴ھ، میں اختصار کی وجہ سے تفصیل نہیں آسکی ۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم ۔حرره العبد محمود غفرلہ، دار العلوم دیوبند۔ الجواب صحیح بندہ نظام الدین عفی عنہ، دارالعلوم دیو بند ۔”
(کتاب البیوع، باب الربو، ج:16، ص:386، ط:ادارۃ الفاروق)
فقط والله أعلم
دار الافتاء دار السلام ڈفینس۔
14 محرم الحرام 1448 بمطابق 30 جون 2026
