تجارتی پلاٹ پر زکاۃ کا حکم
:سوال
ایک عورت نے بیچنے کی نیت سے زمین خریدی ، زمین کو دس سال ہوگئے، اس عورت نے زکاۃ کا علم نہ ہونے کی وجہ سے دس سال تک اس زمین کی زکاۃ ادا نہیں کی، مالی حالات و اخراجات ایسے ہیں کہ جتنے بھی پیسے آتے ہیں وہ خرچ ہو جاتے ہیں ، بچتے نہیں ہیں، سوال یہ ہے کہ:
1) ایسی عورت پر گزشتہ دس سالوں کی زکاۃ ادا کرنا واجب ہے یا صرف ایک سال کی؟
2) زکاۃ زمین بیچنے سے ملنے والی ٹوٹل رقم سے نکالی جائے گی یا صرف منافع سے نکالی جائے گی یا جو زمین کا فکس چالان ہوتا ہے وہ پلاٹ کی
ٹوٹل رقم سے نفی کرکے بقیہ رقم پر زکاۃ نکالی جائے گی؟
:جواب
1 اس عورت پر دس سالوں کی زکاۃ واجب ہے۔
2 ۔3 ہرسال پلاٹ کی جو قیمت فروخت تھی اس کی کل قیمت کا ڈھا ئی فیصد نکالنا لازم ہے، اگر قرضہ کئی سال سے ہے، اور گزشتہ سالوں میں قرض کا حساب کتاب موجود ہے، تو جس سال جتنا قرض ہو اس سال کا حساب کرتے ہوئے اتنا قرض کل ملکیت سے منہا کیا جائے گا۔ اور اگر قرض ابتدا سے نہیں تھا، بلکہ اب لازم ہوا ہے تو پلاٹ فروخت ہونے کے بعد اب آئندہ جو رقم جمع رہے گی قرضے کی رقم اس میں سے منہا کرکے بقیہ رقم پر زکاۃ لازم ہوگی۔
فتویٰ نمبر : 143906200004
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
