کفار کے ساتھ کونسے معاملات جائز ہے اور کونسے جائز نہیں ہے اس پر تفصیلی بحث

سوال

(1) حربی غیر مسالم (صلح نہ کرنے والے) کافروں کے ساتھ کون کون سے معاملات اور تجارت کرنا درست نہیں ہیں؟

(2) بعض حربی مسالم (صلح والے) کافروں کے کمپنیوں نے یا تو حربی غیر مسالم (صلح نہ کرنے والے)کافروں کی امداد کی ہوتی ہے یا انہوں نے وہاں کچھ کمپنیاں خریدی ہوتی ہیں یا وہاں کی کسی کمپنی کے حصص خریدے ہوتے ہیں یا وہاں پر اپنی برانچ یا فرنچائز کھولی ہوتی ہے یا ان کمپنیوں کے مالکان ان حربی غیر مسالم (صلح نہ کرنے والے) کافروں کی حمایت میں بولتے رہتے ہیں وغیرہ۔ تو ان حربی مسالم (صلح والے) کافروں کے کمپنیوں سے اشیائے خورد و نوش اور دیگر چیزیں خریدنے کا کیا حکم ہے ؟ اگر ان چیزوں کے متبادل موجود ہو ؟یا ان چیزوں کے متبادل موجود نہ ہو ؟ براہِ کرم وضاحت فرمائیں۔

(3) کچھ بڑی عالمی کمپنیوں، جو بظاہر “حربی مسالم (صلح والے) کافروں” سے تعلق رکھتی ہیں، کے تعلقات “حربی غیر مسالم(صلح نہ کرنے والے) کافروں” کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ یہ تعلقات مختلف شکلیں اختیار کر سکتے ہیں:براہ راست مالی امداد یا حمایت: کچھ کمپنیاں “حربی غیر مسالم (صلح نہ کرنے والے) ” ممالک کو براہ راست مالی امداد فراہم کرتی ہیں، یا ان کے دفاعی اداروں کی مدد کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر، اوریکل نے اسرائیلی ملازمین کو مالی امداد دی اور IDF میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کے لیے اضافی رقم عطیہ کی۔ معاہدے اور شراکتیں: بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں “حربی غیر مسالم (صلح نہ کرنے والے) ” ممالک کی حکومتوں یا فوجی اداروں کے ساتھ بڑے پیمانے پر معاہدے کرتی ہیں۔ ایمیزون اور گوگل کا “پروجیکٹ نمبس” اس کی ایک مثال ہے جہاں وہ اسرائیلی حکومت اور فوج کو کلاؤڈ خدمات فراہم کر رہے ہیں تو ان حربی مسالم (صلح والے) کافروں کے ان مذکورہ کمپنیوں سے بیع و شراء کرنے اور ان کے سافٹ وئیر اور ویب سائٹس استعمال کرنے کا کیا حکم ہے ؟ اگر ان چیزوں کے متبادل موجود ہوں؟یاان چیزوں کے متبادل موجود نہ ہوں؟ براہِ کرم وضاحت فرمائیں۔

(4) مسلم ممالک میں ان کمپنیوں نے اپنے فرنچائز مسلمانوں کو بھاری رقوم میں بیچے ہوتے ہیں تو یہ ان مسلمانوں کے ملک ہوتے ہیں،تو بائیکاٹ سے بظاہر ان مسلمانوں کا ہی نقصان ہوتا ہے،یا اگر ان کمپنیوں کا بھی نقصان ہو تو یہ مسلمان مالکان بھی اس نقصان میں شریک ہوتے ہیں۔وغیرہ۔

(5) جو مسلمان ان حربی مسالم (صلح والے) کافر ممالک میں رہتے ہیں اور وہ ان ممالک میں روزگار کرتے ہیں جس سے ان ممالک کی معیشت کو بھی ظاہر ہے فائدہ ہوتا ہے،تو ان مسلمانوں کا ان حربی مسالم (صلح والے) کافر ممالک میں رہائش پذیر ہونے اور وہاں پر ملازمت کرنے کا کیا حکم ہے؟ براہِ کرم وضاحت فرمائیں۔

(6)  بعض لوگ جو بائیکاٹ کے حامی ہوتے ہیں تو وہ دوسرے لوگوں کی دکانوں سے جزء 1 اور جزء 2 والی کمپنیوں کے مصنوعات ہٹانے پر ان پر زبردستی کرتے ہیں اور ان کو زبردستی اس بائیکاٹ پر مجبور کرتے ہیں۔ ایک علاقے کے عالم نے اپنے علاقے میں بائیکاٹ والی کمیٹی کی ایما پر ممبر پر یہ بھی کہہ دیا کہ: “جو دکان دار ان چیزوں (جن میں بعض جزء 1 والے ہیں اور بعض جزء 2 والے) کو اپنے دکانوں سے نہیں ہٹائیں گے تو ہم ان دکانداروں کی ایک فہرست بنائیں گے اور پھر نیٹ پر اس فہرست کو شئیر کریں گے اور یہ لکھیں گے کہ یہ فہرست والے دکاندار حربی غیر مسالم (صلح نہ کرنے والے) کافروں کے لیے چندہ کرتے ہیں” ایک عالم نے بیان میں یہ کہا کہ ” جو لوگ ان بائیکاٹ فہرست میں شامل کمپنیوں سے چیزیں خریدتے ہیں تو یہ حربی غیر مسالم (صلح نہ کرنے والے) کافر جو اپنے ہاں کے مسلمان شہید کر رہے ہیں اور ان پر ظلم کر رہے ہیں تو یہ بائیکاٹ نہ کرنے والے لوگ ان مسلمانوں کی شہادت اور ان پر ظلم میں ان کافروں کے ساتھ شامل اور گنہگار ہیں” قرآن و سنت اور فقہی دلائل کی روشنی میں یہ بتائیں کہ جو لوگ اوپر والی چیزوں کا بائیکاٹ نہیں کرنا چاہتے ، ان کو بائیکاٹ پر مجبور کرنے کا کیا حکم ہے؟ نیز جو لوگ بائیکاٹ نہیں کرتے (چاہے وہ دکاندار ہوں یا گاہک) تو کیا وہ ان کمپنیوں سے خرید و فروخت کرنے کی وجہ سے حربی غیر مسالم (صلح نہ کرنے والے) کافروں کے کرتوتوں میں ان کے معاون قرار دیے جائینگے؟

(7) مذکورہ امور  کے بارے میں شریعت کا بنیادی کلیہ اور اصول کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اسلام میں تجارت کے جواز و عدم جواز کا مدار تجارتی فریق کے مسلم یا غیر مسلم ہونے پر نہیں ہے، بلکہ خرید و فروخت کی جانے والی اشیاء کا شرعی معاملات کے مطابق ہونا ضروری ہوتاہے۔

چنانچہ حلال ، پاکیزہ اور غیر مضر اشیاء کی خرید و فروخت مسلم یا غیر مسلم کے ساتھ کی جائے تو شرعاً اس میں کوئی ممانعت نہیں، البتہ بعض مخصوص حالات میں خاص اسباب کے تحت مخصوص اشیاء کی خرید و فروخت  کو سد ذریعہ کے طور پر منع کیا جاتا ہے: جیسے جنگی حالات میں کفار کو اسلحہ فروخت کرنا جو مسلمانوں کے خلاف استعمال ہوتا ہو اسے وقتی اسباب کے تحت ناجائز بتایا جاتاہے۔

چنانچہ اس وقت جو حربی کفار (غیر مسالم) مسلمانوں کے خلاف برسر پیکار ہیں، ان کی معاشی و عسکری طاقت میں اضافہ کا باعث بننے والے اہم اقتصادی ذرائع پر قدغن لگاناشریعت و غیرت دونوں کا تقاضہ ہے؛اس لیے غیر مسلموں کی معاشی قوت بننے والی تجارتی رسد کو ممکنہ طور پرمتاثر کرنے کا فتویٰ دیاجاتاہے، اس بناء پر سوال نامہ میں ذکر کردہ اجزاء کے جوابات ملاحظہ ہوں:

(1-7) واضح رہے کہ عام حالات میں کفار چاہے مسالم یا غیر مسالم(صلح کرنے والےیا نہ کرنے والے) ہوں،عام چیزیں چاہےاشیائے خورد و نوش ہوں یا لباس ہو بیچنا جائز ہے،البتہ ایسےعسکری و جنگی آلات فراہم کرنا جو دشمن کو قوت فراہم کریں اور دشمن کی طاقت میں اضافہ کریں،وہدشمن کو فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔

(2) حربی مسالم(صلح والے) کافروں کی کمپنیاں جو حربی غیر مسالم کفار کے ساتھ تعاون کرتی ہیں،یا وہ ان کی حمایت اور ہمدردی کی حامل ہیں ان کمپنیوں سےایسی اشیائے خورد نوش اور دیگر اشیاءجن کا متبادل مسلمانوں کے ہاں موجود ہو،خریدنے سے اجتناب کرنا لازم ہے،اور جن اشیاء کا متبادل موجود نہ ہوتوصرف بقدرِ ضرورت اس سے استفادہ کرنے کی گنجائش ہے۔

(3) کچھ بڑی کمپنیاں جو اسرائیل کی مالی امداد کرتی ہیں،یا اسرائیل کو دفاعی و فوجی ساز و سامان فراہم کرنے میں مدد کرتی ہے،یا ٹیکنالوجی کمپنیاں جیسے گوگل، ایمزون وغیرہ اسرائیل کو کلاؤڈ کی فراہمی جیسی خدمات کرتی ہیں،توغیرتِ ایمان کا تقاضہ ہے کہ ایسی کمپنیوں کا مکمل طور پر بائیکاٹ کیا جائے،اور ان کے سافٹ وئیراور ویب سائٹس استعمال کرنے سے اجتناب کیا جائے، البتہ اگر اس کا متبادل موجود نہ ہواور اسی کمپنیوں کی خدمات آپ کے جائز استعمال کےلیے ضروری ہوں،تو صرف بقدر ضرورت استعمال کرنے کی گنجائش ہے۔

(4)مسلم ممالک میں مذکورہ کمپنیوں کے  فرنچائزاگرچہ مسلمانوں نے بھاری رقوم دےکر خریرےہوں،لیکن چوں کہ ان کمپنیوں کا خاطر خواہ منافع  اسرائیل و دیگریہودی کمپنیوں(جن کا نام استعمال کرتے ہیں) کو جاتا ہے، جو کہ ان کو معاشی طور پر مضبوط کرنا اور ان کی معیشت کو فائدہ پہنچاناہے اور یہ  منافع بھی یہود کے اسلام دشمن عزائم کی تکمیل میں استعمال ہوتے ہیں، لہذا ان کی مصنوعات کو خریدنا درحقیقت انہیں قوت پہنچانا ہے جو کہ نہ صرف مکروہ ہے بلکہ ایمانی غیرت کے خلاف ہے؛  اس لیے ایک مسلمان کو چاہیے کہ مسلمانوں پر مظالم ڈھانے والے ممالک اور ریاستوں کو فائدہ پہنچانے  سے مکمل طور پر گریز کریں، اس نوعیت کی کمپنیوں کا بائیکاٹ کرنا اسلامی غیرت، اہلِ اسلام سے یک جہتی اور دینی حمیت کا مظہر ہوگا،اگرچہ بائیکاٹ سےبظاہرکچھ مسلموں کو نقصان پہنچتاہو۔

(5)  بلا کسی ضرورت،  حاجت اور شدید مجبوری کے  محض  دولت کے حصول اور معیارِ زندگی کو بلند کرنے یا اپنے معاشرے میں معزز بننےکے لیے مسلم ملک کو چھوڑ کر  غیر مسلم ممالک  (چاہے وہ حربی مسالم کفار ہو یا غیر مسالم ہو )میں مستقل رہائش اختیار کرنا اور دار الحرب کی شناخت و قومیت کو افضل سمجھتے ہوئے دار الاسلام کی شناخت و قومیت پر ترجیح دے کر غیر مسلم ملک کی شہریت و قومیت حاصل کرنا  جائز نہیں ہے؛ کیوں کہ یہ اطلاعات عام ہیں کہ بعض مسلمانوں کی اولاد کفریہ ماحول کی زد میں آکر اپنے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے۔

(6) واضح رہے بائیکاٹ کے سلسلے میں کسی کو بائیکاٹ پر مجبور کرنا، یا ان دکانداروں کی فہرست بناکرانٹرنیٹ پرجاری کرنا،اور ان کو کفار کا مددگار باور کرانا جائز نہیں ہے، البتہ دکانداروں کو پیار و محبت سے سمجھایا جائے،اور ان کو بائیکاٹ پر امادہ کیا جائے  ، نہ کہ ان کو مجبور کیاجائے۔

قرآن مجید میں ہے:

“وَتَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ. “(المائدہ، الآیة)

تفسیر جلالین  میں ہے:

“قال الله تعالی: (وَلَا تَرْكَنُوْا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ)الآیة، وفي الجلالین: ولا ترکنوا تمیلوا إلی الذین ظلموا بموادة أو مداهنة أو رضي بأعمالهم فتمسّکم تصبکم النار.”

‌‌(سورة هود (11) : آية، 113، ص:301، ط: دار الحديث – القاهرة)

تفسیر ابن کثیر میں ہے:

“وقوله تعالى: وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان يأمر تعالى عباده المؤمنين بالمعاونة على فعل الخيرات وهو البر، وترك المنكرات وهو التقوى وينهاهم عن التناصر على الباطل والتعاون على المآثم والمحارم، قال ابن جرير : الإثم ترك ما أمر الله بفعله والعدوان مجاوزة ما حد الله لكم في دينكم ومجاوزة ما فرض الله عليكم في أنفسكم وفي غيركم.”

(سورة المائدة، الآية:2، ج:3، ص:10، ط: دار الكتب العلمية)

فتح الباری میں ہے:

“قوله: (باب الشراء والبيع مع المشركين وأهل الحرب) قال ابن بطال: معاملة الكفار جائزة، إلا بيع ما يستعين به أهل الحرب على المسلمين.”

(کتاب البیوع،باب الشراء والبيع مع المشركين وأهل الحرب،  ج:4، ص:416، الرقم:2216، ط:المكتبة السلفية۔مصر)

عمدۃ القاری میں ہے:

“(باب بيع السلاح في الفتنة وغيرها)

 أي: هذا باب في بيع السلاح في أيام الفتنة: هل يمنع أم لا؟ وأيام الفتنة ما يقع من الحروب بين المسلمين، ولم يذكر الحكم على عادته اكتفاء بما ذكره في الباب من الحديث والأثر. قوله: (وغيرها) أي: وغير أيام الفتنة. والحكم فيه على التفصيل، وهو أن بيع السلاح في أيام الفتنة مكروه لأنه إعانة لمن اشتراه، وهذا إذا اشتبه عليه الحال، إما إذا تحقق الباغي فالبيع لمن كان في الجانب الذي على الحق، لا بأس به، وأما البيع في غير أيام الفتنة فلا يمنع لحديث الباب، فافهم.

وكره عمران بن حصين بيعه في الفتنة.أي: كره بيع السلاح في أيام الفتنة. وهذا وصله ابن عدي في (الكامل) من طريق أبي الأشهب عن أبي رجاء عن عمران، ورواه الطبراني في (الكبير) من وجه آخر: عن أبي رجاء عن عمران مرفوعا، وإسناده ضعيف.”

(کتاب البیوع،باب بيع السلاح في الفتنة وغيرها، ج:11، ص:219، ط:دار الفكر- بيروت)

شرح سنن ابی داؤد لابن رسلان میں ہے:

“وكما أنه لا يجوز حمل السلاح إلى أرض العدو،  لا يجوز أن يباع العدو شيئا مما يستعينون به في حروبهم من كراع أو سلاح،  ولا شيئا مما يرهبون به على المسلمين في قتالهم مثل الرايات وما يلبسون في حروبهم.” 

(كتاب الجهاد، باب في حمل السلاح إلى أرض العدو، ج:12، ص:121، رقم:2786، ط:دارالفلاح)

فتاوی شامی میں ہے:

“(ويكره) تحريما (بيع السلاح من أهل الفتنة إن علم) لأنه إعانة على المعصية (وبيع ما يتخذ منه كالحديد) ونحوه يكره لأهل الحرب (لا) لأهل البغي لعدم تفرغهم لعمله سلاحا لقرب زوالهم، بخلاف أهل الحرب زيلعي.”

(كتاب الجهاد، باب البغاة، ج:4، ص:268، ط: سعيد)

مسند البزار میں ہے:

“عن حذیفۃ رضی اللہ عنہ قال : قال رسول اللہ ﷺ: لیس للمؤمن أن یذل نفسہ، قالوا : یا رسول اللہ! وکیف یذل نفسہ؟ قال: یتعرض من البلاء لما لایطیق.”

(مسند حذيفة بن اليمان رضي الله عنهما، ج:7، ص:218، رقم:2790، ط:مكتبة العلوم والحكم – المدينة المنورة)

سنن أبی داؤد میں ہے:

“عن سمرة بن جندب : أما بعد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌من ‌جامع ‌المشرك ‌وسكن ‌معه ‌فإنه ‌مثله.”

(کتاب الجھاد، باب فی الإقامةبأرض الشرک، ج:3، ص:48، الرقم: 2787، ط: المطبعة الأنصارية بدهلي)

بذل المجہود فی حل سنن أبی داؤد میں ہے:

“عن سمرة بن جندب: أما بعد، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من جامع المشرك) أي: اجتمع معه في دار أو بلد، والأحسن أن يقال: معناه اجتمع معه، أي: اشترك في الرسوم والعادة والهيئة والزي، وأما قوله: (وسكن معه) علة له، أي: سكناه معه صار علة لتوافقه في الهيئة والزي والخصال (فإنه مثله) نقل في الحاشية عن “فتح الودود”: فإنه مثله، أي: يقارب أن يصير مثلًا له لتأثير الجوار والصحبة، ويحتمل أنه تغليظ.”

(کتاب الجھاد، باب فی الإقامةبأرض الشرک، ج:9، ص:525، الرقم: 2787، ط: الدراسات الإسلامية، الهند)

الجامع لاحکام القرآن للقرطبی میں ہے:

“روى الأئمة عن أبي سعيد الخدري قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: (من رأى منكم منكرا فليغيره بيده فإن لم يستطع فبلسانه فإن لم يستطع فبقلبه وذلك أضعف الإيمان). قال العلماء: الأمر بالمعروف باليد على الأمراء، وباللسان على العلماء، وبالقلب على الضعفاء، يعني عوام الناس.”

(الآية:22، سورة آل عمران، ج:4، ص:49، ط:دار الكتب المصرية)

الاشباہ والنظائر میں ہے:

“الضرورات تبیح المحظورات.”

(القاعدۃ الخامسة،ص73،رشیدیة)

فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144611102850

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *