سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دورِ حاضر کے بہت سارے تعلیم یافتہ اور اہلِ فہم حضرات دریافت کرتے ہیں کہ ہمارے ڈاکٹر، انجینئر اور دیگر ڈگری یافتہ مسلمان حضرات اندرونِ ملک یا بیرونِ ممالک مثلاً روس، ہندوستان، امریکہ، برطانیہ، یورپ، مغرب اور چین وغیرہ کی یونیورسٹیز، کالجز اور نجی یا سرکاری اداروں میں مختلف شعبہ جات میں حصولِ تعلیم کے لیے جاتے ہیں، اور ان اداروں میں پڑھانے والے مختلف قسم کے اساتذہ ہوتے ہیں: بعض مسلمان اور بعض غیر مسلم۔جہاں تک بات ہے مسلمان اساتذہ کی، تو اس میں کوئی اشکال نہیں۔ البتہ جہاں تک غیر مسلم اساتذہ کی بات ہے جیسا کہ پاکستان کے اداروں میں مرزائی، شیعہ، ہندو، دہریے، منکرینِ حدیث اور نیچری حضرات پائے جاتے ہیں، اور ہندوستان میں سکھ و ہندو، جب کہ مغربی ممالک (جیسے امریکہ، برطانیہ، یورپ، روس، چین وغیرہ) میں یہود، نصاریٰ، ملحدین، مستشرقین، کمیونسٹ اور بدھ مت وغیرہ کے اساتذہ تعلیم دیتے ہیں پھر بیرون ممالک کے غیر مسلم حضرات جن میں نکاح جیسی نعمت نہیں بلکہ صرف جنس پرستی نفسانی عیش پرستی زنا وغیرہ پایا جاتا ہے نہ ماں باپ کا پتا نہ خاندان نہ حسب و نسب نہ توالد وتناسل کا سلسلہ اور کھنا پینا دیکھا جائے تو خنزیر کا گوشت ہے تو کہیں سور و بندر اور گیدڑ و کچھوے اور سانپ وغیرہ ہیں شراب نوشی عام ہے۔
پس دریافت طلب امور درج ذیل ہیں:
1: کیا ایسے غیر مسلم اساتذہ (مثلاً مرزائی، دہریے، ہندو، شیعہ، منکرینِ حدیث، سکھ، نصاریٰ، یہود، ملحدین وغیرہ) سے مسلمان ڈاکٹر، انجینئر اور دیگر حضرات کا تعلیم حاصل کرنا شرعاً جائز ہے؟ کیا یہ اسلام اور مسلمین کی اہانت شمار ہوگا؟
2: ملکی مفادات اور تحفظ کے لیے غیر مسلموں سے ایٹمی ٹیکنالوجی، اسلحہ سازی، جدید آلاتِ حرب وضرب، جدید ٹیکنالوجی سیکھنا اور حاصل کرنا جائز ہے یا نہیں؟
3: پاکستان میں کام کرنے والے غیر مسلموں کے لیے کچھوے، گیدڑ وغیرہ جیسی چیزیں کھانے میں تیار کر کے دینا کیسا ہے؟
4: اگر مسلمان ایسے کھانے (جیسے خنزیر، کچھوے، گیدڑ وغیرہ) تیار کرے تو اس کے متعلق شرعاً کیا حکم ہے؟ کیا اس کا ایمان باقی رہے گا؟
جواب
1،2.صورتِ مسئولہ میں مسلمانوں کا کفار سے دنیاوی تعلیم، ایٹمی ٹیکنالوجی، اسلحہ سازی، جدید آلاتِ حرب وضرب اور جدید ٹیکنالوجی حاصل کرنا جائز ہے، بشرطیکہ اپنے دین کو نقصان نہ پہنچے اور اس میں مسلمانوں یا اسلام کی توہین لازم نہ آئے ۔ البتہ مرزائی کی حیثیت دیگر کفار سے مختلف ہے،لہٰذا اس سے کسی بھی قسم کا معاملہ کرنا اور تعلیم حاصل کرنا جائز نہیں ہے۔
3،4 .مسلمانوں کے لیے غیر مسلموں کو حرام اشیاء بناکر دینا ناجائز ہے، اگر ناجائز سمجھتے ہوئے یہ کام کرے تو حرام اشیاء محض بنا کر دینے سے ایمان سے خارج نہیں ہوگا، تاہم گناہ گا ر ہو گا ۔
مسند أحمد میں ہے:
“عن ابن عباس، قال: كان ناس من الأسرى يوم بدر لم يكن لهم فداء، فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم فداءهم أن يعلموا أولاد الأنصار الكتابة، قال: فجاء غلام يوما يبكي إلى أبيه، فقال: ما شأنك؟ قال: ضربني معلمي. قال: الخبيث، يطلب بذحل بدر! والله لا تأتيه أبدا.”
(ومن أخبار عثمان بن عفان رضي الله عنه،ج:4،/ص: 92، ط: مؤسسة الرسالة)
الأشباه والنظائر میں ہے :
“درء المفاسد أولى من جلب المصالح.”
(القاعدة الخامسة: الضرر يزال،ص: 77،ط:دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
