کسی عورت کا شوہر کی اجازت کے بغیر اپنے کمسن بچے کو اجنبی عورت سے دودھ پلوانے کا حکم

سوال

باپ کی مرضی کے بغیر اس کی سابقہ اہلیہ اس کی بچی کو کسی ایسی عورت سے دودھ پلائے،جس میں اگر باپ سے پوچھا جاتا تو وہ منع کرتا،جب کہ اس میں باپ کو بےخبر رکھا گیا،اور بچی کی ماں بھی تندرست تھی،اور یہ واضح رہے کہ ماں اور باپ کی علیحد گی کے وقت بچی کی عمر تقریبا سات ماہ تھی۔

کیا باپ کی سابقہ اہلیہ کےلئے اس طرح کسی اور عورت  سے بچی کو دودھ پلانا جائز تھا؟

 

جواب

صورتِ مسئولہ میں بچی کی ماں کا باپ کی اجازت اور علم کے بغیر اپنی بچی کو کسی دوسری عورت سے دودھ پلوانا شرعاً ناجائز  ہے، بچی کی ولایت شرعاً باپ کو حاصل ہے،  دودھ پلانا نسب، نکاح اور محرمیت پر اثرانداز ہوتا ہے۔اگر بچی نے رضاعت کی مدت (یعنی دو سال) کے اندر اس عورت کا دودھ پیا ہو، خواہ ایک مرتبہ ہی کیوں نہ ہو، تو حرمتِ رضاعت ثابت ہو جاتی ہے، اور وہ عورت بچی کی رضاعی ماں، اور اس کے قریبی مرد محرم بن جائیں گے، یہ ایک دائمی شرعی حکم ہے۔ جب ماں خود دودھ پلانے پر قادر ہو تو بلا عذر کسی دوسری عورت کی طرف رجوع کرنا خلافِ مصلحت و خلافِ شرع ہے، خصوصاً جب یہ عمل باپ کی مرضی کے خلاف اور اس سے چھپا کر کیا جائے۔

احکام القرآن للقرطبی میں ہے:

“والوالدات يرضعن أولادهن حولين كاملين لمن أراد أن يتم الرضاعة وعلى المولود له رزقهن وكسوتهن بالمعروف لا تكلف نفس إلا وسعها لا تضار والدة بولدها ولا مولود له بولده وعلى الوارث مثل ذلك فإن أرادا فصالا عن تراض منهما وتشاور فلا جناح عليهما وإن أردتم أن تسترضعوا أولادكم فلا جناح عليكم إذا سلمتم ما آتيتم بالمعروف واتقوا الله واعلموا أن الله بما تعملون بصير (233)

فيه ثمان عشرة مسألة: الأولى- قوله تعالى: (والوالدات) ابتداء. (يرضعن أولادهن) في موضع الخبر. (حولين كاملين) ظرف زمان. ولما ذكر الله سبحانه النكاح والطلاق ذكر الولد، لأن الزوجين قد يفترقان وثم ولد، فالآية إذا في المطلقات اللاتي لهن أولاد من أزواجهن، قال السدي والضحاك وغيرهما، أي هن أحق برضاع أولادهن من الأجنبيات لأنهن أحنى وأرق، وانتزاع الولد الصغير إضرار به وبها،”

(البقرۃ،  الآیة   :233،ج  :3،ص  :160،ط  :دارالکتب المصریة)

 فتاوی شامی میں ہے:

“ثم قال: والواجب على النساء أن لا يرضعن كل صبي من غير ضرورة، وإذا أرضعن فليحفظن ذلك وليشهرنه ويكتبنه احتياطا اه وفي البحر عن الخانية: يكره للمرأة أن ترضع صبيا بلا إذن زوجها إلا إذا خافت هلاكه.”

(کتاب النکاح،باب الرضاع،ج :3،ص  :212،ط   :ایچ ایم سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

“والواجب على النساء أن لا يرضعن كل صبي من غير ضرورة وإن فعلن ذلك فليحفظن أو يكتبن، كذا سمعت من مشايخي رحمهم الله تعالى كذا في المضمرات.”

(کتاب الرضاع،  ج :1،ص :345،ط المطبعة  الکبری ،مصر)

فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144701101615

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *