سوال
ایک عورت نے اپنے نواسے محمد کو دودھ پلایا ہے، اس عورت کا ایک بیٹا سخی ہے، جو محمد کا نسبی ماموں اور رضاعی بھائی بن گیا، سخی کی ایک بیٹی ہے، جس کا نام صائمہ ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ محمد کے سگے بھائی عنایت (جسے نانی نے دودھ نہیں پلایا) کا نکاح صائمہ سے ہو سکتا ہے یا نہیں؟
جواب
جی ہاں، محمد کے بھائی عنایت کا نکاح صائمہ سے جائز ہے،اس لیے کہ رضاعت کا رشتہ صرف محمد اور سخی (اور اس کی اولاد) کے درمیان قائم ہوا ہے، نہ کہ محمد کے دوسرے بھائی عنایت کے ساتھ۔لہٰذاعنایت کا صائمہ کے ساتھ رضاعی رشتہ نہیں ہے، اور نسبی طور پر بھی وہ کوئی محرم نہیں، اس لیے ان دونوں کا نکاح شرعاً درست ہے۔
العقود الدریہ میں ہے:
“(سئل) في امرأتين أجنبيتين أرضعت كل واحدة منهما أولادا معلومين للأخرى ثم ولدت إحداهما ذكرا والأخرى أنثى ولم يجتمعا على ثدي واحد بأن لم يرضع الذكر من أم الأنثى ولا الأنثى من أم الذكر أصلا فهل يسوغ للذكر التزوج بالأنثى؟
(الجواب) : نعم حيث لم يكن بينهما رضاع وتحل أخت أخيه رضاعا كما في التنوير وغيره.”
(کتاب النکاح، باب الرضاع، ج:1، ص:34، ط:دار المعرفة)
فتاویٰ شامی میں ہے:
“(وتحل أخت أخيه رضاعًا) يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية، وبالمضاف إليه كأن يكون لأخيه رضاعا أخت نسبا وبهما وهو ظاهر”.
( كتاب النكاح، باب الرضاع، ج:3، ص:217، ط: سعید)
فقط واللہ أعلم
