دین کی وصولیابی کے لیے دین کو کم قیمت پر بیچنا
ایک پاکستانی ایکسپورٹر نے بیرونِ ملک مال فروخت کیا۔
مال خریدار کو پہنچ گیا۔
خریدار کے ذمہ مثلاً 1 لاکھ ڈالر واجب الادا ہوگئے۔
ادائیگی کی مدت 120 دن ہے۔
ایکسپورٹر کو ابھی رقم کی ضرورت ہے۔وہ خریدار کے بینک سے کہتا ہے کہ مجھے ابھی رقم دے دیں۔بینک مثلاً 95,000 ڈالر ابھی دیتا ہے اور 120 دن بعد خریدار سے 100,000 ڈالر وصول کرتا ہے۔کیاایسا معاملہ کرنا شرعاً جائز ہے؟
ایک پاکستانی ایکسپورٹر نے بیرونِ ملک مال فروخت کیا۔
مال خریدار کو پہنچ گیا۔
خریدار کے ذمہ مثلاً 1 لاکھ ڈالر واجب الادا ہوگئے۔
ادائیگی کی مدت 120 دن ہے۔
ایکسپورٹر کو ابھی رقم کی ضرورت ہے۔
وہ خریدار کے بینک سے کہتا ہے کہ مجھے ابھی رقم دے دیں۔
بینک مثلاً 95,000 ڈالر ابھی دیتا ہے اور 120 دن بعد خریدار سے 100,000 ڈالر وصول کرتا ہے۔
یعنی بینک نے 5,000 ڈالر اپنی مدت کے عوض رکھ لیے۔
اگر معاملہ واقعی اسی طرح ہے تو یہ محض بینک کی فیس نہیں بلکہ حقیقت میں قرض/دَین کو کم رقم کے عوض قبل از وقت نقد کرنا ہے، اور بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی کے فیصلے کے مطابق یہ جائز نہیں۔
بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی نے واضح طور پر قرار دیا ہے کہ تجارتی بل (bill of exchange وغیرہ) کو discount پر فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں، کیونکہ اس میں ربا النسیئہ پایا جاتا ہے۔
مجمع الفقه الإسلامي الدولي
اسی طرح اکیڈمی نے یہ بھی قرار دیا ہے کہ کسی تیسرے فریق کو مدت پوری ہونے سے پہلے دَین کم رقم کے عوض فروخت کرنا جائز نہیں۔
مجمع الفقه الإسلامي الدولي
لیکن ایک اہم جائز صورت بھی ہے
اگر اصل قرض دینے والا اور قرض لینے والا ہی آپس میں یہ معاملہ کریں کہ:
“آپ 120 دن کے بجائے ابھی ادائیگی کر دیں، ہم آپ کو کچھ رعایت دے دیتے ہیں۔”
مثلاً خریدار کے ذمہ 100,000 ڈالر ہیں، وہ 120 دن بعد دینے والا تھا، لیکن دونوں باہمی رضامندی سے طے کرتے ہیں کہ وہ 95,000 ڈالر ابھی ادا کر دے گا اور باقی 5,000 ڈالر معاف کر دیے جائیں گے۔
تو اس صورت کو بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی نے جائز قرار دیا ہے، بشرطیکہ یہ پہلے سے طے شدہ شرط نہ ہو اور معاملہ صرف اصل فریقین یعنی دائن اور مدین کے درمیان ہو۔
اصل فرق ایک جملے میں
خریدار (مدین) خود جلد ادائیگی کرکے رعایت لے → بعض شرائط کے ساتھ جائز۔
کوئی تیسرا بینک ایکسپورٹر کے دَین کو کم رقم میں خرید کر باقی رقم بعد میں وصول کرے → عام صورت میں جائز نہیں۔
اس لیے صرف یہ کہنا کہ “بینک سروس چارج کاٹ رہا ہے” کافی نہیں ہوگا۔ اصل دیکھا جائے گا کہ وہ رقم کس عقد کے تحت کاٹ رہا ہے۔ اگر حقیقت میں 120 دن کے قرض/دَین کے بدلے 5,000 ڈالر کاٹ رہا ہے تو نام “service charge”، “discount”، “commission” یا “bank charges” رکھنے سے حکم تبدیل نہیں ہوگا۔
البتہ اگر بینک کی کٹوتی واقعی حقیقی انتظامی خدمت/دستاویزی اخراجات کی مقررہ اجرت ہے، اور وہ دَین کی مدت یا رقم کے تناسب سے سود کے طور پر نہیں ہے، تو اس کی الگ فقہی حیثیت ہوسکتی ہے۔
