سوال
میں نے ایک صاحب کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ زمین گول نہیں(فلیٹ) سیدھی ہے اور اس بارے میں قرآن اور حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو بچھایا ہے اور قرآن میں ہے جس کا مفہوم ہے کہ اللہ تعالی نے زمین کو فرش بنایا ہے، اور دوسری بات وہ یہ کہہ رہے تھے کہ سائنسدان جو کہتے ہیں کہ زمین گھومتی ہے یہ بات بھی صحیح نہیں ہے، کیوں کہ حدیث میں آیا ہے کہ جب اللہ تعالٰی نے زمین کو بنایا تو وہ ہلنے لگی تو اللہ تعالی نے اس میں پہاڑ گاڑھ دیے جس سے وہ ٹھہر گئی، تو جب حدیث میں ہے کہ زمین ٹہر گئی ہے تو ہم سائنسدانوں کی بات کو کیسے مانیں!؟
میرا سوال یہ ہے کہ زمین کے گھومنے اور گول ہونے والی دونوں باتیں مشاہدے اور تحقیق سے سو فیصد ثابت ہو چکی ہیں اور میں نے علماء سے بھی اس بارے میں سنا ہے کہ یہ دونوں باتیں صحیح ہیں، تو یہ دو باتیں ان صاحب نے قرآن و حدیث سے کہیں، ان کا کیا مطلب ہے؟
جواب
جواب سے پہلے بطورِ تمہید یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ یہ بات کہ زمین گول ہے یا نہیں؟ نیز یہ کہ زمین گھوم رہی ہے یا نہیں؟ یا اس جیسی دیگر سائنسی و فنی معلومات قرآن و حدیث اور دینِ اسلام کا اساسی موضوع اور مقصد نہیں ہے، اسی لیے قرآن و حدیث میں اس بارے میں صراحتاً کوئی بحث نہیں کی گئی، اور نہ ہی دین کے کسی اعتقادی یا فروعی مسئلہ کا اس بات سے کوئی تعلق ہے، لہٰذا محض فنی معلومات کی غرض سے ان باتوں کی کھوج میں لگنا اور قرآن و حدیث سے بتکلف ان باتوں کو ثابت کرنےیا نفی کرنے کی کوشش میں غلو کرنا مقصدِ حیات سے صرفِ نظر کرنے کے مترادف ہے، البتہ قرآن و حدیث میں جہاں طبیعیات اور نظام کائنات میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے، اس کا مقصد تخلیقِ الٰہی میں غور کر کے معرفتِ الٰہی تک پہنچنا ہے، اس لیے اگر کوئی معرفتِ الٰہی کے حصول اور قدرتِ خداوندی پر یقین میں اضافے کی نیت سے نظامِ کائنات پر غور کرتاہے، اور اس سے متعلقہ علوم حاصل کرتا ہے تو یہ عین مقصود ہے۔
چنانچہ امام العصر حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“آفتاب و ماہتاب کی طرف جاری ہونے کے فعل کے انتساب کو یہ سمجھ لینا کہ رات اور دن کا جو چکر ہمارے سامنے جاری ہے اس کی اصل حقیقت کو قرآن واشگاف کرنا چاہتا ہے، اس کا مطلب تو پھر وہی ہوا کہ اپنی معلومات کو ظاہر کرنے کے لیے قرآن کو حق تعالیٰ نے نازل فرمایا، لیکن جب معلوم ہوچکا کہ قرآن کے موضوعِ بحث سے جو جاہل ہے، وہی اس قسم کے مالیخولیا میں مبتلا ہوسکتا ہے، تو حوادثِ کائنات کی توجیہ و تاویل کے قصوں کو قرآن میں ڈھونڈنا یا اس سلسلہ میں قرآن کی طرف کسی قطعی فیصلہ کی جرأت خود اپنی عقل کی بھی اہانت ہے، اور ایسے عیب و نقص کو قرآن کی طرف منسوب کرنا ہے جسے عرض کرچکا ہوں کہ کوئی صحیح العقل آدمی بھی اپنی تصنیف میں پسند نہیں کرسکتا، دیوانہ ہی ہوگا جو تاریخ کی کتاب میں ڈاکٹری نسخوں کا ذکر چھیڑ دے یا طب کی کتاب میں شعر و ادب کی تنقید ڈھونڈنے لگے، بہرحال رات اور دن کے الٹ پھیر کے واقعی اسباب خواہ کچھ بھی ہوں، زمین گھومتی ہو یا آفتاب چکرا رہا ہو، یا آسمان گردش میں ہو، قرآنی مباحث کے دائرے سے یہ سوالات خارج ہیں۔‘‘
(احاطہ دار العلوم میں بیتے ہوئے دن، از مولانا مناظر احسن گیلانی، ص: 122، ط: ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان)
حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“قرآنِ کریم نہ تاریخی کتاب ہے کہ محض واقعات کی تفصیل ہی بیان کرتا رہے اور نہ ہی طبعی نوامیس کی تفصیل و بیان پر مشتمل کتابِ طبعیات ہے کہ محض علمی و ذہنی عیاشی کے افسانوں میں وقت ضائع کرے۔ وہ (یعنی قرآن) تاریخ کی روح پیش کرتا ہے اور طبعیات کے فکر و نتائج بیان کرتا ہے جس سے توحیدِ الٰہی، خلق و ربوبیت کے حقائق انسان کے دل میں پیوست ہوں اور روح کو پاکیزگی حاصل ہو؛ تاکہ وہ نظامِ عالم میں خلیفۃ اللہ کے منصبِ اعلیٰ کے تقاضوں کو پورا کرنے کا اہل بن جائے، قرآن اگر کائنات میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے تو اس کی غرض و غایت یہی ہوتی ہے کہ انسانی ذہن و فکر کے سامنے اللہ کی معرفت کا راستہ کھل جائے۔”
(بصائر و عبر، ج: 1، ص: 343، ط: مکتبہ بینات)
امداد الفتاویٰ میں ہے:
“قرآن جس فن کی کتاب ہے اس میں سب سے ممتاز ہونا، یہ فخر کی بات ہے، یعنی اثباتِ توحید و اثباتِ معاد و اصلاحِ ظاہر و باطن، اگر سائنس کا ایک مسئلہ بھی اس میں نہ ہو تو کوئی عیب نہیں، اور اگر سائنس کے سب مسئلہ ہوں تو فخر نہیں، قرآن کو ایسی خیر خواہی کی ضرورت نہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔”
(امداد الفتاوی، کتاب العقائد والکلام، ج: 6، ص: 163، ط: مکتبہ دار العلوم کراچی)
بہر حال یہ بات کہ زمین گھوم رہی ہے یا ساکن ہے؟ اور سورج زمین کے گرد گھوم رہا ہے یا زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے؟ اس کا کوئی تذکرہ قرآن و حدیث میں نہیں ہے، اور اس بارے میں خود قدیم اور جدید ماہرین علمِ طبعیات کی آراء مختلف رہی ہیں۔
علمِ طبعیات کے ماہرین (سائنس دانوں) نے سب سے پہلے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ سورج، چاند اور باقی سیارات آسمان کے اجسام میں یوں گڑے ہوئے ہیں جیسا کہ کیل دیوار میں پیوست ہوتی ہے، نیز فلاسفۂ ہیئتِ قدیمہ کی رائے کے مطابق سورج والا آسمان (جس میں سورج پیوست ہے وہ) زمین کے گرد مشرق کی طرف گردش کرتے ہوئے، ایک سال میں دورہ پورا کرتا ہے، جب کہ زمین ساکن ہے،متحرک نہیں، یہ نظریہ بطلیموس کا تھا۔
اس کے بعد والوں نے اس نظریے کو رد کرکے دوسرا نظریہ پیش کیا کہ سورج ساکن ہے اور زمین متحرک ہے۔
لیکن اب جدید تحقیق نے اس نظریے کو بھی غلط ثابت کردیا ہے، سائنس دانوں کی جدید تحقیق کے مطابق چاند، سورج، زمین اور باقی تمام سیارات آسمان کے نیچے کھلی فضا میں معلق ہیں اور اپنے اپنے محور میں گھوم رہے ہیں، نیز زمین اپنے محور میں سورج کے گرد مغرب سے مشرق کی طرف گھوم رہی ہے، سورج اور دیگر سیارات زمین کے گرد نہیں گھوم رہے ہیں، لیکن زمین کی اس حرکت کی وجہ سے تمام اجرامِ سماویہ (شمس و قمر، ستارے اور سیارے وغیرہ) ظاہری نگاہ میں زمین کے گرد مشرق سے مغرب کی طرف گھومتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
اس جدید نظریہ اور ہیئتِ جدیدہ کے بانی و مؤسس مشہور ماہرِ علمِ ہیئت ابو اسحٰق ابراہیم زرقالی اندلسی قرطبی ہیں جو کہ علماءِ اسلام میں سے ہیں، جن کی وفات ۱۰۸۷ء میں ہوئی، اس بات کی دلیل یہ ہے کہ کوپرنیکس پولینڈی ( جو کہ اہلِ یورپ کے نزدیک ہیئتِ جدیدہ کا واضع اور مؤسس ہے) نے اپنی تصنیف میں واضح طور پر اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ جدید ہیئت کا یہ نظریہ، اصول اور جدید مسائل کی تفصیلات وغیرہ اس نے زرقالی وغیرہ بعض مسلمان ماہرین ِہیئت کی کتابوں سے اخذ کی ہیں۔ (مستفاد: از الہیئۃ الوسطی مع شرحہا النجوم النشطی، ص: 14۔22، ط: ادارۃ التصنیف و الادب)
ذیل میں اس موضوع کے بارے میں علماءِ اسلام کی آراء ذکر کی جاتی ہیں:
حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمہ اللٰہ تحریر فرماتے ہیں:
“قرآن و حدیث نے کہیں بھی یہ تصریح نہیں کی کہ یہ چاند سورج اَفلاک میں جڑے ہوئے ہیں، یہ تو صرف بطلیموسی ہیئت کی پیداوار ہے کہ سبع سیارات آسمانوں میں ہیں، لیکن جدید ہیئات نے اس بطلیموسی نظام کی غلط بینی ثابت کردی ہے کہ یہ فضا میں معلق ہیں، فیثا غورس کا نظریہ بطلیموس کے خلاف تھا، وہ ان سب کو فضا میں مانتے تھے اور یہ بھی کہیں نظر سے گزرا ہے کہ فیثاغورس زمین کی حرکت کے بھی قائل تھے اور کچھ بعید بھی نہیں، اس لیے کہ کہتے ہیں فیثا غورس حضرت ادریس علیہ السلام کے شاگرد تھے اور ان سے ہی مستفید تھے، ہوسکتا ہے کہ وحی آسمانی کی برکت سے ان کا نظریہ صحیح ہوگیا ہو ، علماءِ اسلام میں سے شیخ اکبر محی الدین ابن عربی رحمہ اللہ زمین کی حرکت کے قائل تھے، قرآنِ حکیم کی تعبیر {وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ} کا صاف مطلب یہی ہے کہ یہ تمام نجوم اور سیارے ، چاند و سورج آسمانِ دنیا کے نیچے ہیں اور اس نیلگوں آسمان کے لیے آرائش و زینت کا کام کرتے ہیں۔”
(بصائر و عبر، ج: 1، ص: 356، ط: مکتبہ بینات)
اسی طرح بعض مفسرین کرام نےقرآن کریم کی آیت “والي الأرض كيف سطحت”کے ضمن میں اس بارے میں بحث کی ہے، چنانچہ بعض حضرات نے زمین کو مسطح اور ہموار کہاہے،اس لیے کہ “سطحت”کے معنی بچھائے جانے کے ہیں اور گول چیز کو بچھایا نہیں جاتا،لیکن امام رازی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ:” زمین گول ہے”، لیکن بڑی ہونے کی وجہ اس کا ہرٹکڑا مسطح اور ہموار نظر آتا ہے اور اسی اعتبار سے قرآن کریم نے اس کے متعلق “سُطِحَتْ”ارشاد فرمایا ہےاور اب تو مشاہدات سے زمین کا گول ہونا ثابت ہوچکا ہے۔
حاشیہ جلالین میں ہے:
“قوله: سطحت: قال الامام الرازي: ثبت بدليل أن الأرض كرة، ولا ينافي ذالك قوله تعالي، و ذالك لأن الكرة إذا كانت في غاية الكبر كان كل قطعة منها مشابه السطح، و ذكر بعضهم الإجماع علي كرويتها. قوله: لا كرة: قال الرازي: هو ضعيف؛ لأن الكرة إذا كانت في غاية العظمة تكون كل قطعة منها كاالسطح.”
(حاشية جلالين، ج: 2، ص: 878، ط: بشري)
تفسیر الرازی میں ہے:
“وإلى الأرض كيف سطحت” سطحا بتمهيد وتوطئة، فهي مهاد للمتقلب عليها، ومن/ الناس من استدل بهذا على أن الأرض ليست بكرة وهو ضعيف، لأن الكرة إذا كانت في غاية العظمة يكون كل قطعة منها كالسطح.”
(سورة الغاشية، ج: 31، ص: 145، ط: دار إحياء التراث العربي – بيروت)
فقط والله أعلم
