وسوسوں اور طہارت کے مسائل میں مبتلا شخص کے لیے صلاۃ التوبہ کے بغیر اسلام پر قائم رہنے کا حکم اور طہارت کے مسائل میں احتیاط کا طریقہ

سوال

میں نے آپ سے پوچھا تھا کہ میں دیوبندی مسلمان ہوں اور مجھے وسوسے آتے ہیں اور مجھے لگتاہے کہ میں کافر ہوگیا ہوں، اس سوال کا جواب آپ نے دیا تھا اور مجھے صلاة التوبہ پڑھنے کا مشورہ دیا تھا ۔ میں یہ پوچھنا چاہتاہوں کہ کیا صلاة التوبہ پڑھے بغیر میں مسلمان نہیں ہوسکتا؟ مجھے طہارت کے حوالے سے بہت مسائل درپیش ہیں اور مجھے بہت وسوسے آتے ہیں ، میں نے نماز کی کتابوں میں طہارت کے مسائل کے بارے میں بہت پڑھا ہے، بہشتی زیور میں بھی طہارت کے مسائل پڑھے ، مجھے پھر بھی لگتاہے کہ مجھے اور معلومات لینی چاہئے اور ہر چھوٹی بات تک کے بارے میں یہ خیال آتاہے کہ کہیں میں غلط تو نہیں کررہا ، کہیں میں ناپاک تو رہ جاؤں گا، اگر بغیر کسی عالم سے پوچھے میں اپنی مرضی کروں گا تو مجھے گناہ ہوگا وغیرہ وغیرہ۔طہارت کے مسائل کی وجہ سے نماز نہیں پڑھ سکتا اور کسی عالم کے پاس بھی نہیں جاسکتا،مجھے ہاتھ دھوتے ہوئے اور نہاتے ہوئے بہت چھینٹے لگتے ہیں ، ان کا کیا کروں؟ براہ کرم، جواب دیں۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم Fatwa ID: 765-150/D=7/1436-U
مریض کا کام یہ ہے کہ معالج کی ہدایت اور تجویز پر عمل کرے اور کچھ روز عمل کرنے کے بعد جو حالت ہو اسے لکھے۔
اکر لکھی گئی ہدایات پر عمل کرنے میں دشواری ہے تو جس نمبر پر عمل کرنے میں دشواری ہے اس نمبر کی صراحت کے ساتھ اپنی دشواری لکھیں، اگر سب ہدایات پر عمل دشوار ہے اور اپنی دشواری لکھ نہیں سکتے یا لکھنا نہیں چاہتے تو اپنی بے بسی لکھ کر دعا کی درخواست لکھئے اور کم ازکم نمبر (۴) پر عمل کرلیجیے۔
اور اگر یہ بھی نہیں کرنا چاہتے تو صرف مربی حقیقی اللہ تعالیٰ سے روکر دعا کیجیے وہ ہرمسلمان کا ولی ہے جو وساوس وخطرات اسی طرح شرک ومعاصی کی ظلمات سے نکال کر ہدایت وایمان کے یقین اور نور تک پہنچاتا ہے، ﴿اللَّہُ وَلِیُّ الَّذِینَ آمَنُوا یُخْرِجُہُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّورِ﴾ اور جو اس کی طرف رجوع ہوتا ہے اس کے لیے ہدایت کا دروازہ کھولتا ہے، ﴿وَیَہْدِی إِلَیْہِ مَنْ یُنِیبُ﴾․
(۲) یہ دارالافتاء ہے، نماز، روزہ، پاکی اور طہارت کے مسائل پر عمل کرنے میں جو دقت یا پریشانی ہو اس کا حکم یہاں سے معلوم کرلیں۔
طہارت حاصل کرنے میں آپ کو کیا دشواری درپیش ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

دار الافتاء:دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتویٰ نمبر:59236
تاریخ فتویٰ:May 13, 2015

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *