سوال
ایک عورت عالمہ ہے،اس کا شوہر اس کی بنیادی ضروریات کپڑے،مکان(مکان بھی عورت نے کرایہ پر لیاہے اور خود کرایہ ادا کرتی ہے)اور روزمرہ کے کھانے پینےکا خرچہ پورا نہیں کرتا،اسے مارتا پیٹتاہے اور غلط مقام سے صحبت کرتاہے،اور اسے طلاق دیتاہےاور نہ ہی خلع دیتاہے،اس کا ایک بیٹا ہے،ابھی تک عورت قانون کے ذریعہ نکاح فسخ کروانے کی طاقت نہیں رکھتی،پھر ایک بڑے وکیل نے اسے کہا کہ میں شرعی طور پر عدالت کے ذریعہ آپ کا نکاح فسخ کرواسکتاہوں،لیکن اب عورت نکاح فسخ کروانے پر راضی نہیں ہورہی ہے اور وہ کہتی ہے کہ میں صبر کروں گی،اس پر مجھے اجر ملے گا۔
اب سوال یہ ہےکہ1۔اس عورت کا مذکورہ شوہر کے ساتھ رہنا کیساہے؟
2۔عورت اس پر گناہ گار ہوگی ؟
جواب
صورت مسئولہ میں نان ونفقہ بیوی کا حق ہے، اگر وہ اس کو معاف کرکے شوہر کے ساتھ زندگی گزارتی ہے اور اس پر صبر کرتی ہے،تو یہ شرعاً جائز ہے، البتہ چوں کہ غلط مقام سے صحبت کرنا حرام ہے اور اس کا حرام ہونا بیوی کے حق کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ اللہ تعالی کا حق ہے،تو بیوی کا اس پر صبر کرنا جائز نہیں،بلکہ بیوی کو چاہیے کہ شوہر کو اس عمل پر قدرت نہ دے ، اگرشوہر یہ عمل ترک نہ کرے اور اسی پر اصرار کرے اور روکنا بیوی کی قدرت میں نہ ہو تو اس صورت میں شوہر سے جدائی اختیار کرے۔
تفسیر ماتریدی میں ہے:
“وفيه دلالة أن من بلي بمنكر له قدرة التغيير على أهله، فلم يغير – أن يشاركهم في ذلك، أو إذا لم يكن له قدرة التغيير عليهم فلم يفارقهم، لكن أقام معهم – شاركهم أيضا في العقوبة؛ الواجب على كل من بلي بذلك، وله قدرة التغيير عليهم – فعل، أي: أنكر عليهم وغيره، وإلا فارقهم؛ وإلا يخاف أن يشاركهم في العقوبة، والله أعلم.”
(سورۃ النساء،آیت نمبر:140،ج:3،ص: 392،ط:دارالکتب العلمیة بيروت)
احكام القرأن للجصاص میں ہے:
“وقوله: {إنكم إذا مثلهم} قد قيل فيه وجهان: أحدهما: في العصيان وإن لم تبلغ معصيتهم منزلة الكفر، والثاني: أنكم مثلهم في الرضا بحالهم في ظاهر أمركم، والرضا بالكفر والاستهزاء بآيات الله تعالى كفر، ولكن من قعد معهم ساخطا لتلك الحال منهم لم يكفر، وإن كان غير موسع عليه في القعود معهم. وفي هذه الآية دلالة على وجوب إنكار المنكر على فاعله وأن من إنكاره إظهار الكراهة إذا لم يمكنه إزالته وترك مجالسة فاعله والقيام عنه حتى ينتهي ويصير إلى حال غيرها.”
(سورۃ النساء،آیت نمبر:140،ج:2،ص: 362،ط:دارالکتب العلمیة بيروت)
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
“عن أبي سعيد الخدري عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من رأى منكم منكرا فليغيره بيده فإن لم يستطع فبلسانه فإن لم يستطع فبقلبه وذلك أضعف الإيمان . رواه مسلم”
(كتاب الأداب،باب الأمر بالمعروف،الفصل الأول،ج:3،ص:1421،ط:المكتب الإسلامي بيروت)
ترجمہ:’’ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” تم میں سے جو شخص کسی خلافِ شرع امر کو دیکھے تو اس کو چاہیے کہ اس چیز کو اپنے ہاتھوں سے بدل ڈالے اور اگر وہ( خلافِ شرع امر کے مرتکب کے زیادہ قوی ہونے کی وجہ سے یا بزورِ طاقت روکنا خلافِ مصلحلت ہونے کی وجہ سے ہاتھوں کے ذریعہ )اس امر کو انجام دینے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو زبان کے ذریعہ اس امر کو انجام دے اور اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس کو دل سے برا جانے اور یہ (آخری درجہ) ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔‘‘
فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
“المرأة إذا أبرأت الزوج عن النفقة بأن قالت: أنت بريء من نفقتي أبدا ما كنت امرأتك، فإن لم يفرض لها القاضي النفقة فالبراءة باطلة، وإن كان فرض لها القاضي كل شهر عشرة دراهم يصح الإبراء من نفقة الشهر الأول، ولم يصح من نفقة ما سوى ذلك الشهر، ولو قالت بعد ما مكثت شهرا: أبرأتك من نفقة ما مضى، وما يستقبل يبرأ من نفقة ما مضى، ومن نفقة ما يستقبل بقدر نفقة شهر، ولا يبرأ زيادة على ذلك كذا في الفتاوى الكبرى وهكذا في التجنيس والمزيد ولو قالت: أبرأتك من نفقة سنة لا يبرأ إلا من شهر إلا أن يكون فرض لها كل سنة كذا في فتح القدير.”
(کتاب الطلاق،الباب السابع عشر في النفقات وفيه ستة فصول،الفصل الأول في نفقة الزوجة،ج:1،ص: 553،ط:دارالفکربیروت)
مظاہرِ حق میں ہے:
’’بعض حضرات نے حدیث کے اس آخری جملہ کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ یہ چیز یعنی کسی برائی کو دیکھ کر محض دل میں اس کو برا سمجھنے پر اکتفا کرلینا ایمان کے مراتب میں سب سے کمزور مرتبہ ہے کیوں کہ اگر کوئی مسلمان ایسی چیز دیکھے کہ جس کا دینی نقطہ نظر سے برا ہونا قطعی طور پر ثابت و ظاہر ہو اور وہ اس چیز کو برا بھی نہ سمجھے بلکہ اس پر اپنے اطمینان کا اظہار کرےاور اس کو اچھا جانے تو مسلمان نہیں رہےگابلکہ کافر ہوجائے گا۔‘‘
(کتاب الآداب، امر بالمعروف کا بیان، ج: 4، ص: 605، ط: دار الاشاعت)
فقط واللہ اعلم
