سوال
یہ رواج اس قدر عام ہے کہ اگر کوئی شخص اس روایت کے خلاف جا کر کم رقم طے کرے یا سادگی سے نکاح کرنا چاہے تو اسے خاندان میں معیوب سمجھا جاتا ہے، اس کے نتیجے میں نکاح بہت مشکل ہوگیا ہے، خصوصاً غریب اور متوسط طبقے کے نوجوانوں کے لیے۔
اس بھاری بوجھ کی وجہ سے بہت سے نوجوان اور لڑکیاں شادی کی عمر گزر جانے کے باوجود نکاح نہیں کر پا رہے، جس کا فطری نتیجہ یہ ہے کہ معاشرے میں گناہوں، بے راہ روی اور فحاشی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ:
1-شریعت کی رو سے حقِ مہر کی اصل حیثیت کیا ہے، اور اسے کس معیار کے مطابق رکھا جانا سنت کے قریب ہے؟
2-کیا یہ رواج، جس میں نکاح سے قبل لڑکی کے والدین یا بھائی کے ساتھ رقم طے کی جاتی ہے، شرعاً جائز ہے؟
3-اگر یہ رسم نکاح میں رکاوٹ اور گناہوں کے پھیلاؤ کا باعث بن رہی ہو، تو کیا علماء کرام اور قبائلی مشران کو بیٹھ کر اس میں اصلاح کے لیے اجتماعی فیصلہ لینا چاہیے؟
4-موجودہ حالات میں علماء کرام، مشرانِ قبائل اور دینی تنظیموں کی شرعی و اخلاقی ذمہ داری کیا بنتی ہے؟
جواب
1.واضح رہے کہ شریعتِ مطہَّرہ میں نکاح کے وقت جو رقم بطورِ مہر شوہر پر لڑکی کے لیے مقرر کی جاتی ہے، اس کی ادائیگی شوہر پر واجب ہوتی ہے۔ یہ مہر صرف اور صرف بیوی کا حق ہے۔
امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک مہر کی کم سے کم مقدار 10 درہم ہے، جو موجودہ وزن کے اعتبار سے 2 تولہ ساڑھے 7 ماشہ یعنی تقریباً 30.618 گرام چاندی یا اس کی موجودہ قیمت بنتی ہے۔
مہر کی زیادہ سے زیادہ مقدار شریعت میں مقرر نہیں کی گئی، بلکہ یہ دونوں خاندانوں کی باہمی رضامندی پر منحصر ہے۔جس قدر مہر شوہر سہولت اور آسانی کے ساتھ ادا کر سکتا ہو،وہ مقرر کیا جائے ،اتنی رقم مقرر کرنا جو شوہر کی استطاعت سے باہر ہو یا محض دکھاوے کی نیت سے بہت زیادہ مہر مقرر کرنا، شرعاً نامناسب اور ناپسندیدہ ہے۔
البتہ صاحب استطاعت شخص کے لیے مہر فاطمی مقرر کرنا مستحب ہے اور مہر فاطمی وہ مہر ہے جو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور زیادہ تر ازواجِ مطہرات رضوان اللہ علیہن کا تھا۔اور مہر فاطمی 131 تولہ 3 ماشہ چاندی یعنی گرام کے حساب سے تقریباً 1.5309 کلوگرام چاندی یا اس کی مالیت ہے۔
2. صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ رقم مہر کے علاوہ صرف رشتہ دینے یا طے کرنے کے عوض لی جاتی ہے تو یہ کوئی مباح یا جائز رسم نہیں، بلکہ ایک غیر شرعی اور ناجائز عمل ہے جو درحقیقت رشوت کے زمرے میں آتا ہے،لہٰذا ایسی رقم کا لینا حرام اور سخت گناہ ہے۔
شریعتِ مطہرہ میں رشوت دینے اور لینے دونوں پر سخت وعیدیں واردہوئی ہیں۔ اس لیے اس غلط رسم سے اجتناب کرنا لازم ہے۔
البتہ اگر یہی رقم مہر کے طور پر مقرر کی گئی ہو، لیکن لڑکی کے علاوہ اس کے والد یا بھائی وہ رقم وصول کریں اور لڑکی کو نہ دیں، تو واضح رہے کہ وہ رقم لڑکی ہی کا حقِ شرعی ہے،کسی اور شخص کو اس میں تصرف یا ملکیت کا کوئی حق حاصل نہیں،والد یا بھائی اس رقم کو اپنے ذاتی استعمال میں ہرگز خرچ نہیں کر سکتے،اگر اپنی ضروریات میں یہ رقم استعمال کی تو ان کا یہ غصب شمار ہوگا،اور عند اللہ اس پر سخت پکڑ ہوگی۔
البتہ اگر لڑکی اپنی صریح اجازت سے اس رقم میں سے اپنے لیے کچھ خریدنے یا خرچ کرنے کی اجازت دے دے، تو اس حد تک استعمال جائز ہے۔
3-4. مذکورہ رسم یا عمل کرنے والا دراصل رشوت یا غصب کا مرتکب اور گناہ گار ہوتا ہے۔ اس سے ہر فرد کو بچنا لازم ہے۔
خصوصی طور پر علماء کرام کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ حکمت و دانائی کے ساتھ لوگوں کو شرعی مسئلہ سمجھائیں، اس عمل کی قباحتیں واضح کریں اور عوام کو اس سے آگاہ کریں۔
اسی طرح قبائلی مشران اور بااثر شخصیات کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود سب سے پہلے اس اصلاح پر عمل کریں، اور جو لوگ اس غلط رسم سے بچنے کی کوشش کریں ان کی حوصلہ افزائی اور معاونت کریں۔ یہ ایک نیکی کا کام ہے، اور نیکی کی راہ دکھانے والے اور نیکی میں تعاون کرنے والے دونوں کو برابر کا اجر ملتا ہے۔
مشکوٰۃ شریف میں ہے:
“عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: ألا لا تغالوا صدقة النساء فإنها لو كانت مكرمة في الدنيا وتقوى عند الله لكان أولاكم بها نبي الله صلى الله عليه وسلم ما علمت رسول الله صلى الله عليه وسلم نكح شيئا من نسائه ولا أنكح شيئا من بناته على أكثر من اثنتي عشرة أوقية. رواه أحمد والترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه والدارمي.”
ترجمہ:سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:”سنو! عورتوں کے مَہر زیادہ مت بڑھاؤ، کیونکہ اگر عورتوں کا زیادہ مہر دینا دنیا میں کوئی عزت و بزرگی کی بات ہوتی یا اللہ کے نزدیک زیادہ تقویٰ کا باعث ہوتا، تو رسول اللہ ﷺ اس کے سب سے زیادہ حقدار ہوتے۔ لیکن مجھے علم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی کسی زوجہ کا نکاح بارہ اوقیہ (۱۲ اوقیہ) سے زیادہ مہر پر کیا ہو، اور نہ اپنی کسی بیٹی کا نکاح اس سے زیادہ مہر پر کیا ہو۔”
(کتاب النکاح ،باب الصداق ،الفصل الثانی،ج:2، ص:958، ط:المكتب الإسلامي-بيروت)
صحیح مسلم میں ہے:
“حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد العزيز بن محمد، حدثني يزيد بن عبد الله بن أسامة بن الهاد، ح وحدثني محمد بن أبي عمر المكي، واللفظ له، حدثنا عبد العزيز، عن يزيد، عن محمد بن إبراهيم، عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، أنه قال: سألت عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم: كم كان صداق رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قالت: «كان صداقه لأزواجه ثنتي عشرة أوقية ونشاً»، قالت: «أتدري ما النش؟» قال: قلت: لا، قالت: «نصف أوقية، فتلك خمسمائة درهم، فهذا صداق رسول الله صلى الله عليه وسلم لأزواجہ.”
(صحیح مسلم ،کتاب النکاح ،باب الصداق، ج: 4 ،ص: 144، رقم الحدیث: 1426، ط: دارالطباعۃ العامرۃ)
ترجمہ:’’حضرت ابوسلمہؒ سے مروی ہےکہ انہوں نے حضرت عائشہؓ سے دریافت کیاکہ رسول اللہ ﷺ کی ازواجِ مطہرات کا مہر کتنا تھا؟ فرمایا: آپ ﷺ نے بارہ اوقیہ اورنش مہر دیا تھا، پھر حضرت عائشہؓ نے فرمایا: تم کو معلوم ہے نش کیا ہوتا ہے؟ میں نے کہا: نہیں، حضرت عائشہؓ نے جواب دیا: آدھا اوقیہ (یعنی بیس درہم) اس طرح کل مہر پانچ سو درہم ہوا؛ یہی ازواج مطہرات کا مہر تھا‘‘۔
المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج (شرح النووی)میں ہے:
“واستدل أصحابنا بهذا الحديث على أنه يستحب كون الصداق خمسمائة درهم والمراد في حق من يحتمل ذلك”
(کتاب النکاح ،باب الصداق،ج:9، ص:215 ،ط:دار إحياء التراث العربي – بيروت)
فتاوی شامی میں ہے:
“(أخذ أهل المرأة شيئا عند التسليم فللزوج أن يسترده) لأنه رشوة.
(قوله عند التسليم) أي بأن أبى أن يسلمها أخوها أو نحوه حتى يأخذ شيئا، وكذا لو أبى أن يزوجها فللزوج الاسترداد قائما أو هالكا لأنه رشوة۔”
(كتاب النكاح ، باب المهر ، ج: 3، ص: 157، ط:سعید)
وفیہ ایضاً:
“بأنه اسم للمال الذي يجب في عقد النكاح على الزوج في مقابلة البضع إما بالتسمية أو بالعقد، واعترض بعدم شموله للواجب بالوطء بشبهة ومن ثم عرفه بعضهم بأنه اسم لما تستحقه المرأة بعقد النكاح أو الوطء وأجاب في النهر بأن المعروف مهر هو حكم النكاح بالعقد تأمل”
(کتاب النکاح، باب المهر، ج:3، ص:101، ط:سعید)
فتاوی شامی میں ہے:
“(أقله عشرة دراهم) لحديث البيهقي وغيره “لا مهر أقل من عشرة دراهم ورواية الأقل تحمل على المعجل (فضة وزن سبعة) مثاقيل كما في الزكاة (مضروبة كانت أو لا).”
(کتاب النکاح ،باب المہر،ج: 3 ،ص: 101،ط: سعید)
بدائع الصنائع میں ہے:
“وأما حكم الغصب فله في الأصل حكمان: أحدهما: يرجع إلى الآخرة، والثاني: يرجع إلى الدنيا.
أما الذي يرجع إلى الآخرة فهو الإثم واستحقاق المؤاخذة إذا فعله عن علم؛ لأنه معصية، وارتكاب المعصية على سبيل التعمد سبب لاستحقاق المؤاخذة، وقد روي عنه عليه الصلاة والسلام أنه قال: «من غصب شبرا من أرض طوقه الله تعالى من سبع أرضين يوم القيامة» وإن فعله لا عن علم، بأن ظن أنه ملكه فلا مؤاخذة عليه؛ لأن الخطأ مرفوع المؤاخذة شرعا ببركة دعاء النبي عليه الصلاة والسلام بقوله عليه الصلاة والسلام: «ربنا لا تؤاخذنا إن نسينا أو أخطأنا» وقوله عليه الصلاة والسلام: «رفع عن أمتي الخطأ والنسيان وما استكرهوا عليه» .
(کتاب الغصب ،فصل فی حکم الغصب،ج:7،ص:148،ط:دار الکتب العلمیة)
درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:
“(المادة 96) :لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه هذه المادة مأخوذة من المسألة الفقهية (لا يجوز لأحد التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته) الواردة في الدر المختار…”
(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، ج: 1، ص: 96، ط: دار الجيل)
فقط واللہ اعلم
