بے ریش لڑکے کے ساتھ غلط حرکت کرنا

سوال

1۔اگر کوئی شخص مسجد میں کسی لڑکے کے ساتھ زنا جیسی کوئی غلط حرکت کرے، یا کوئی زبردستی کرے ،لیکن جس نے یہ حرکت کی اس نے توبہ اور اللہ سے معافی مانگ لی، اور اس بھائی سے بھی  معافی مانگ لی جس کے ساتھ وہ کام کیا ہے، اور تجدید ایمان کرے تو اس سے وہ ایمان میں داخل ہو جائے گا  ؟یا اس بھائی کو بھی توبہ اور تجدید ایمان کرانا ضروری ہے  ؟ حالانکہ  اس کی کوئی غلطی نہیں تھی۔

2۔جب مدرسےمیں حفظ کلاس میں پڑھتا تھا، میرے پہلو میں  جو لڑکا بیٹھتا تھا اس کو  نعوذ باللہ غلط نیت سے مسجد میں اور قرآن  کے سامنے چھوا،لیکن بعد میں اس گناہ سے توبہ کی، اور تجدید ایمان بھی  کیا، تو اس سے میں ایمان میں داخل ہو گیا ؟ یا اس کو بھی تو بہ اور تجدید   ِ ایمان کرانا ضروری ہے ؟ حالانکہ وہ اس کے بارے میں جانتا بھی نہیں تھا۔

جواب

واضح  رہے کہ کسی  لڑکےکے ساتھ  غلط حرکت کرنا، اور بدفعلی میں مبتلا ہونا انتہائی شدید اور غلیظ عمل ہے،اور انسانی شرافت کے خلاف عمل ہے،احادیث ِ مبارکہ میں  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےاس فعل کے کرنے والے  پر شدید وعیدارشاد فرمائی ہے، ارشاد فرمایا کہ :  “اللہ تعالی نے قو م ِ لوط کے عمل کرنے والوں پر لعنت فرمائی ہے”،اور مسجد میں یا قرآن کریم کے سامنے اس کی قباحت و شناعت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے، لہذا اگر کسی سے یہ فعل سرزد ہو گیا ہو تو اس فعل سے اللہ تعالیٰ کے حضور خوب  الحاح  و زاری سے توبہ واستغفار کرنا لازم ہے۔

نیز واضح رہے کہ   کبیرہ  گناہ سے ایمان سلب نہیں ہوتا،ایمان بدستور برقرار رہتا ہے، البتہ اس میں تنزلی ضرور ہوجاتی ہے،اور کبیرہ گناہ کرنے والا فاسق و فاجر کہلاتا ہے،اور اگر سچے دل سے توبہ کرلے، اور آئندہ دوبارہ اس گناہ کے نہ کرنے کا عزم کرلے تو وہ شقاوت بھی اللہ تعالی زائل فرمادیتے ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کا محبوب بن جاتا ہے۔

1، 2۔ لہذاصورتِ مسئولہ میں   مذکورہ شخص مذکورہ   گناہ  کی وجہ سے ایمان سے خارج نہیں ہوا تھا، لہذا اس پر اور دوسرے شخص پر تجدیدِ ایمان کرنا ضروری نہیں تھا، بلکہ دونوں پر لازم تھا کہ وہ سچے دل سےتوبہ کریں اور اس قسم کی حرکات نہ کرنے کا عزم کریں،جب سائل اس گناہ سے پکی توبہ کرچکا ہے تو اللہ تعالی سے امید ہے کہ وہ معاف فرمادیں گے۔

السنن الکبری للنسائی میں ہے :

 “أخبرنا قتيبة بن سعيد، قال: حدثنا عبد العزيز وهو الدراوردي، عن عمرو وهو ابن أبي عمرو، عن عكرمة، عن ابن عباس، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم: قال: “لعن الله من عمل عمل قوم لوط، لعن الله من عمل عمل قوم لوط، لعن الله من عمل عمل قوم لوط.”

(کتاب الرجم، ‌‌من عمل عمل قوم لوط، ج : 6، ص : 485، رقم الحدیث : 7297، ط : مؤسسة الرسالة)

ترجمہ : ’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اس پر جو قوم لوط والا عمل کرے، اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اس پر جو قوم لوط والا عمل کرے، اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اس پر جو قومِ لوط والا عمل کرے۔‘‘

مشکاۃ المصابیح میں ہے :

“وعن أبي ذر رضي الله عنه قال أتيت النبي صلى الله عليه وسلم وعليه ثوب أبيض وهو نائم ثم أتيته وقد استيقظ فقال: “ما من عبد قال لا إله إلا الله ثم مات على ذلك إلا دخل الجنة قلت وإن زنى وإن سرق قال وإن زنى وإن سرق قلت وإن زنى وإن سرق قال وإن زنى وإن سرق قلت وإن زنى وإن سرق قال وإن زنى وإن سرق على رغم أنف أبي ذر وكان أبو ذر إذا حدث بهذا قال وإن رغم أنف أبي ذر.”  (متفق عليه)

(کتاب الإیمان، ج : 1، ص : 34، رقم الحدیث : 26، ط : بشری)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

“(قلت: وإن زنى وإن سرق؟) قال: (وإن زنى وإن سرق) فيه دلالة على أن أهل الكبائر لا يسلب عنهم اسم الإيمان، فإن من ليس بمؤمن لا يدخل الجنة وفاقا، وعلى أنها لا تحبط الطاعات لتعميمه عليه الصلاة والسلام الحكم وعدم تفصيله.”

(کتاب الإیمان، ج : 1، ص : 100، ط : دار الفکر بیروت)

فتاوی شامی میں ہے :

(مطلب في حكم اللواطة)

“(قوله بنحو الإحراق إلخ) متعلق بقوله يعزر. وعبارة الدرر: فعند أبي حنيفة يعزر بأمثال هذه الأمور. واعترضه في النهر بأن الذي ذكره غيره تقييد قتله بما إذا اعتاد ذلك. قال في الزيادات: والرأي إلى الإمام فيما إذا اعتاد ذلك، إن شاء قتله، وإن شاء ضربه وحبسه. ثم نقل عبارة الفتح المذكورة في الشرح، وكذا اعترضه في الشرنبلالية بكلام الفتح. وفي الأشباه من أحكام غيبوبة الحشفة: ولا يحد عند الإمام إلا إذا تكرر فيقتل على المفتى به. اهـ. قال البيري: والظاهر أنه يقتل في المرة الثانية لصدق التكرار عليه.”

(کتاب الحدود،  باب الوطء الذي يوجب الحد والذي لا يوجبه، مطلب في حكم اللواطة، ج : 4، ص : 27، ط : سعید)

فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144704101745

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *