زکوٰۃ کا نصاب

سوال

ام سال نصابِ زکوۃ کیا ہے؟

جواب

کات کے نصاب کی تفصیل یہ ہے:

اگر کسی کے پاس صرف سونا ہو تو ساڑھے سات تولہ سونا، اور صرف چاندی ہو تو  ساڑھے باون تولہ چاندی،  یا دونوں میں سے کسی ایک کی مالیت کے برابر نقدی  یا سامانِ تجارت ہو،  یا یہ سب ملا کر یا ان میں سے بعض ملا کر مجموعی مالیت چاندی کے نصاب کے برابر بنتی ہو تو ایسے شخص پر سال پورا ہونے پر قابلِ زکات مال کی ڈھائی فیصد زکات ادا کرنا لازم ہے۔

واضح ہوکہ زکوۃ کا مدارصرف ساڑھے سات تولہ سونے پراس وقت ہے کہ جب کسی اور جنس میں سے کچھ پاس نہ ہو، لیکن اگر سونے کے ساتھ ساتھ ضرورت سے زائد کچھ نقدی یا چاندی یا مالِ تجارت بھی ہے  توپھرزکات کی فرضیت کا مدار ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت پرہوگا۔

زکوٰۃ کی ادائیگی کے دن چاندی کی بازار میں جو قیمت ہو اس کے حساب سے ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت معلوم کرلی جائے یہی زکوٰۃ کا نصاب ہے۔

حکومت پاکستان  نے اس سال 2020ء میں زکوٰۃ کا نصاب 46329  روپے مقرر کیا تھا۔فقط واللہ اعلم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *