بیت المعمور کے کعبہ کی سیدھ میں ہونے سے مراد

سوال

بیت المعمور کا کعبہ کی سیدھ میں اوپر ساتویں آسمان میں ہونے سے کیا مراد ہے؟ کیوں کے زمین خود بھی گھومتی ہے اور سورج کے گرد بھی، اسی وجہ سے کعبہ کا رخ بھی ایک جگہ نہیں رہتا۔

جواب

صحیحین کی احادیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ شبِ معراج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ساتویں آسمان پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیت المعمور کو لایا گیاجہاں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت کے لیے داخل ہوتے ہیں پھر کبھی ان کو دوبارہ یہاں پہنچنے کی نوبت نہیں آتی، بعض روایات میں یہ اضافہ بھی ہے کہ بیت المعمور بیت اللہ کی سیدھ میں ساتویں آسمان میں واقع ہے اور بعض میں یہاں تک روایت کیا گیا ہے کہ بیت المعمور کعبہ کی سیدھ میں ہے کہ اگر گرے تو کعبہ کے اوپر گرے۔تاہم حدیث میں اس اضافہ کا درجہ بخاری و مسلم کی روایت کے برابر نہیں ہے۔

الغرض بیت المعمور کا ساتویں آسمان پر ہونا چوں کہ صحیح احادیث سے ثابت ہے اس لیے اس پر یقین کرنا ضروری ہے، باقی کعبۃ کی سیدھ میں ہونے والی بات کو جدید فلکی تحقیقات کی روشنی میں سمجھنا مشکل ہے، انسان کی محدود عقل کی رسائی ساتویں آسمان پر موجود اشیاء کی ہیئت اور کیفیت تک نہیں ہے اور احادیث میں ان کی کیفیات کی تفصیل بھی وراد نہیں ہے اس لیے ان چیزوں کے در پے ہونے کے بجائے اس کی حقیقی کیفیت کے علم کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنا چاہیے۔

صحیح بخاری میں حدیثِ معراج میں ہے:

“ثم صعد بي إلى السماء السابعة فاستفتح جبريل، قيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قيل: وقد بعث إليه؟ قال: نعم، قال: مرحبا به فنعم المجيء جاء، فلما خلصت فإذا إبراهيم، قال: هذا أبوك فسلم عليه، قال: فسلمت عليه فرد السلام، قال: مرحبا بالابن الصالح والنبي الصالح… فرفع لي ‌البيت ‌المعمور فسألت جبريل فقال: هذا ‌البيت ‌المعمور يصلي فيه كل يوم سبعون ألف ملك إذا خرجوا لم يعودوا إليه آخر ما عليهم

(‌‌‌‌كتاب بدء الخلق، باب ذكر الملائكة، 4/ 110 ط : المطبعة الكبرى الأميرية)

فتح الباری میں ہے:

“وأخرج الطبري من طريق سعيد بن أبي عروبة عن قتادة قال ذكر لنا أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ‌البيت ‌المعمور مسجد في السماء بحذاء الكعبة لو خر لخر عليها يدخله سبعون ألف ملك كل يوم إذا خرجوا منه لم يعودوا”.

(باب ذكر الملائكة، 6/ 308، ط: دار المعرفة)

تفسیر روح المعانی میں ہے:

“وجاء في رواية عنه كرم الله تعالى وجهه، وعن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما أنه حيال الكعبة بحيث لو سقط سقط عليها. وروي عن مجاهد وقتادة وابن زيد أن في كل سماء بحيال الكعبة بيتا حرمته كحرمتها”.

(‌‌سورة الطور، 14/ 28، ط:دار الكتب العلمية)

شعب الایمان للبیہقی میں ہے:

“عن خالد بن عرعرة قال: أتيت الرحبة فإذا أنا بنفر جلوس قريب من ثلاثين أو أربعين رجلا فقعدت معهم فخرج علينا علي بن أبي طالب رضي الله عنه فما رأيته أنكر [أحدا] من القوم غيري فقال ألا رجل يسأل فينتفع وينفع جلساءه قال: فقام رجل فقال: والذاريات ذروا قال: الريح … قال: فما البيت المعمور؟ قال: بيت في السماء يقال له الضراح وهو بحيال الكعبة من فوقها حرمته في السماء كحرمة البيت في الأرض. يصلي فيه كل يوم سبعون ألفا من الملائكة لا يعودون فيه أبدا”.

(المناسك، 3/ 437 ، ط::دار الكتب العلمية)

حافظ احمد بن محمد ازرقی کی کتاب اخبار مکہ میں ہے:

“وحدثني جدي، عن سعيد بن سالم، عن عثمان بن ساج، قال: أخبرني محمد بن السائب الكلبي، قال: بلغني – والله أعلم – أن بيتا في السماء يقال له: الضراح بحيال الكعبة، يدخله كل يوم سبعون ألف ملك من الملائكة، ما دخلوه قط قبلها “.

(‌‌ما جاء في البيت المعمور1/ 49، ط: دار الأندلس للنشر)

فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144605102093

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *