سوال
مفتی صاحب زمین گول ہے، تو قرآن اور احادیث میں زمین کے بارے میں جو بچھانے اور فرش بنانے کے بارے میں کہا گیا ہے، اس سے کیا مراد ہے؟ کیوں کے بچھایا تو سیدھی (فلیٹ) چیز کو جاتا ہے، راہنمائی فرمائیں۔
جواب
جواب سے پہلے بطورِ تمہید یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ یہ بات کہ زمین گول ہے یا نہیں؟ یا اس جیسی دیگر سائنسی و فنی معلومات قرآن و حدیث اور دینِ اسلام کا اساسی موضوع اور مقصد نہیں ہے، اسی لیے قرآن و حدیث میں اس بارے میں صراحتاً کوئی بحث نہیں کی گئی، اور نہ ہی دین کے کسی اعتقادی یا فروعی مسئلہ کا اس بات سے کوئی تعلق ہے، لہذا محض فنی معلومات کی غرض سے ان باتوں کی کھوج میں لگنا اور قرآن و حدیث سے بتکلف ان باتوں کو ثابت کرنے یا نفی کرنے کی کوشش میں غلو کرنا مقصدِ حیات سے صرفِ نظر کرنے کے مترادف ہے، البتہ قرآن و حدیث میں جہاں طبیعیات اور نظام کائنات میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے، اس کا مقصد تخلیقِ الٰہی میں غور کر کے معرفتِ الٰہی تک پہنچنا ہے، اس لیے اگر کوئی معرفتِ الٰہی کے حصول اور قدرتِ خداوندی پر یقین میں اضافے کی نیت سے نظامِ کائنات پر غور کرتاہے، اور اس سے متعلقہ علوم حاصل کرتا ہے تو یہ عین مقصود ہے۔
چناں چہ حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“قرآنِ کریم نہ تاریخی کتاب ہے کہ محض واقعات کی تفصیل ہی بیان کرتا رہے اور نہ ہی طبعی نوامیس کی تفصیل و بیان پر مشتمل کتابِ طبعیات ہے کہ محض علمی و ذہنی عیاشی کے افسانوں میں وقت ضائع کرے۔ وہ (یعنی قرآن) تاریخ کی روح پیش کرتا ہے اور طبعیات کے فکر و نتائج بیان کرتا ہے جس سے توحیدِ الٰہی، خلق و ربوبیت کے حقائق انسان کے دل میں پیوست ہوں اور روح کو پاکیزگی حاصل ہو؛ تاکہ وہ نظامِ عالم میں خلیفۃ اللہ کے منصبِ اعلیٰ کے تقاضوں کو پورا کرنے کا اہل بن جائے، قرآن اگر کائنات میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے تو اس کی غرض و غایت یہی ہوتی ہے کہ انسانی ذہن و فکر کے سامنے اللہ کی معرفت کا راستہ کھل جائے۔”
(بصائر و عبر، ج: 1، ص: 343، ط: مکتبہ بینات)
امداد الفتاوی میں ہے:
“قرآن جس فن کی کتاب ہے اس میں سب سے ممتاز ہونا، یہ فخر کی بات ہے، یعنی اثباتِ توحید و اثباتِ معاد و اصلاحِ ظاہر و باطن، اگر سائنس کا ایک مسئلہ بھی اس میں نہ ہو تو کوئی عیب نہیں، اور اگر سائنس کے سب مسئلہ ہوں تو فخر نہیں، قرآن کو ایسی خیر خواہی کی ضرورت نہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔”
(امداد الفتاوی، کتاب العقائد والکلام، ج: 6، ص: 163، ط: مکتبہ دار العلوم کراچی)
کفایت المفتی میں ہے:
“شریعت کو اس سے بحث نہیں کہ زمین گول ہے یا مسطح، وہ تزکیۂ قلب و تصحیحِ عقائد اور اصلاحِ اعمال کی تعلیم کے لیے نازل ہوئی ہے۔”
(کتاب العقائد، ج: 1، ص: 260، ط: دارالاشاعت)
تاہم بعض مفسرین کرام نےقرآن کریم کی آیت “و إلي الأرض كيف سطحت“کے ضمن میں اس بارے میں بحث کی ہے، چنانچہ بعض حضرات نے زمین کو مسطح اور ہموار کہاہے،اس لیے کہ “سطحت”کے معنی بچھائے جانے کے ہیں اور گول چیز کو بچھایا نہیں جاتا،لیکن امام رازی رحمہ اللہ نے فرماتے ہیں (اور یہ گویاکہ دونوں اقوال کے درمیان تطبیق بھی ہے) کہ:” زمین گول ہے”، لیکن بڑی ہونے کی وجہ اس کا ہرٹکڑا مسطح اور ہموار نظر آتا ہے اور اسی اعتبار سے قرآن کریم نے اس کے متعلق “سُطِحَتْ”ارشاد فرمایا ہے،اور اب تو مشاہدات سے زمین کا گول ہونا ثابت ہوچکا ہے۔اور یہ گول ہونا قرآن و حدیث کی عبارت النص کے خلاف نہیں۔
حاشیہ جلالین میں ہے:
“قوله: سطحت: قال الامام الرازي: ثبت بدليل أن الأرض كرة، ولا ينافي ذالك قوله تعالي، و ذالك لأن الكرة إذا كانت في غاية الكبر كان كل قطعة منها مشابه السطح، و ذكر بعضهم الإجماع علي كرويتها. قوله: لا كرة: قال الرازي: هو ضعيف؛ لأن الكرة إذا كانت في غاية العظمة تكون كل قطعة منها كاالسطح.”
(حاشية جلالين، ج: 2، ص: 878، ط: بشري)
تفسیر الرازی میں ہے:
“وإلى الأرض كيف سطحت” سطحا بتمهيد وتوطئة، فهي مهاد للمتقلب عليها، ومن/ الناس من استدل بهذا على أن الأرض ليست بكرة وهو ضعيف، لأن الكرة إذا كانت في غاية العظمة يكون كل قطعة منها كالسطح.”
(سورة الغاشية، ج: 31، ص: 145، ط: دار إحياء التراث العربي – بيروت)
فقط والله أعلم
