برادری والوں کا ممبران پرجماعت خانہ میں نکاح کرنےکولازم اور مسجدمیں نکاح کرنے کی صورت میں جرمانہ عائدکرنےکاحکم

سوال

میرا تعلق کراچی کی قدیم برادری سے ہے، ہماری برادری کا باقاعدہ ایک کمیونٹی سینٹر(جماعت خانہ)بناہوا ہے، اور یہ بات پہلے سے طے ہےکہ ہماری برادری کاجو ممبر بھی ہوگا وہ اپنایااپنی بیٹی کا ،یا کسی اور کا نکاح پڑھائےگا،تو اسی کمیونٹی سینٹر (جماعت خانہ) میں پڑھوائے گا، جب کہ مسجد میں نکاح پڑھواناافضل ہے۔

اور ہماری برادری والےیہ بھی کہتے ہیں کہ برادری کا جو ممبر ہوگا،وہ اگر مسجد میں نکاح پڑھوائے گا،اور کمیونٹی سینٹر میں نہیں  پڑھوائےگا تو اس کو بھاری جرمانہ دینا پڑے گا۔

اب پوچھنا یہ ہےکہ:

ہماری برادری کا یہ جو قانون بنا ہواہے کہ جو ممبر ہوگا وہ کمیونٹی  سینٹرمیں نکاح نہیں پڑھوائے گا،اور مسجد میں نکاح پڑھوائے گاتو اس کو بھاری جرمانہ دینا پڑےگا ،ا س کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ نکاح میں مستحب اور بہتر یہ ہےکہ  نکاح کی مجلس اعلانیہ طور پر مجمع کے سامنے مسجد  میں منعقد کی جائے، احادیثِ مبارکہ میں بھی اس کی ترغیب آئی ہے کہ نکاح اعلان کے ساتھ اور مسجد میں پڑھاجائے، اس سے برکت بھی حاصل ہوگی، البتہ کمیونٹی سینٹریا بیٹھک وغیرہ میں بھی نکاح پڑھوانا جائزہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جماعت خانہ میں نکاح پڑھوانا جائز ہے، لیکن برادری کے ممبر ان پرجماعت خانے میں ہی نکاح كرنےكولازم كرنا اور مسجدمیں نکاح كرنے کی صورت میں ممبران پر مالی جرمانہ عائد کرنا شرعا جائز نہیں  ۔

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

“وعن عائشة قالت: قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم -: أعلنوا هذا النكاح) أي: بالبينة فالأمر للوجوب أو بالإظهار والاشتهار فالأمر للاستحباب كما في قوله (واجعلوه في المساجد) وهو إما لأنه أدعى إلى الإعلان أو لحصول بركة المكان وينبغي أن يراعى فيه أيضا فضيلة الزمان ليكون نورا على نور وسرورا على سرور، قال ابن الهمام: ” يستحب مباشرة عقد النكاح في المسجد لكونه عبادة وكونه في يوم الجمعة ” اه، وهو إما تفاؤلا للاجتماع أو توقع زيادة الثواب أو لأنه يحصل به كمال الإعلان.”

[كتاب النكاح، باب إعلان النكاح، ج:5، ص:2072، ط: دار الفكر]

فتاوی شامی میں ہے:

“(قوله: ويندب إعلانه) أي إظهاره والضمير راجع إلى النكاح بمعنى العقد لحديث الترمذي «أعلنوا هذا النكاح واجعلوه في المساجد واضربوا عليه بالدفوف» فتح.”

(كتاب النكاح، ج:3، ص:8، ط:سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

“وعند أبي يوسف – رحمه الله تعالى – يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال وعندهما وباقي الأئمة الثلاثة لا يجوز كذا في فتح القدير. ومعنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنده مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي كذا في البحر الرائق.”

(كتاب الحدود، فصل في التعزير، ج:2، ص:167، ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم 

فتویٰ نمبر : 144706100428

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *