(۱) الفتاوی البزازیۃ علی ھامش الفتاوی الھندیۃ :۶/۶۳۶ ۔
(۲) ’’ لا وصیۃ لوارث ‘‘ ( الجامع للترمذي ، حدیث نمبر :۲۱۲۰ ، باب ما جاء لا وصیۃ لوارث ) محشی ۔
وصیت
ہبہ اور وصیت
سوال:- {2274} میرے والد کا ایک مکان ۱۶۵؍گز کا ہے ، جو اب تک ان ہی کے نام پر رجسٹری ہے ، میرے والد کے دو لڑکے اور تین لڑکیاں ہیں، والد اور والدہ کا انتقال ۱۹۸۵ء اور ۱۹۸۶ء میں ہوا ہے ، والد زندگی میں اکثر کہا کرتے تھے کہ یہ مکان میرے دو لڑکوں کا ہے ، چنانچہ ۱۹۸۴ء میں ایک وصیت نامہ لکھا : ’’ میرے دونوں بھائی اس وقت کناڈا کے شہری ہیں، اور کوئی اٹھائیس انتیس سال سے وہیں مقیم ہیں، اٹھائیس انتیس سال قبل مکان کی قیمت سات آٹھ ہزار سے زیادہ نہیں تھی ، اب اس وقت مکان کی قیمت آٹھ تا دس لاکھ ہوگئی ہے میرے بڑے بھائی جو اب میرے سمدھی بھی ہیں، وہ کہہ رہے ہیں کہ یہ مکان میرا ہے ،
3 میں سے 231
( ایک بہن ، ایم ، سی ، ایچ کالونی ، مہدی پٹنم )
جواب:- وصیت و ہبہ دو قریبی اصطلاح ہیں ، زندگی میں کسی شخص کو کسی چیز کا مالک بنا دینا ہبہ ہے اورموت کے بعد مالک بنانا مثلا یوں کہنا کہ میرے بعد میری فلاں جائداد فلاں شخص کی ہوگی ، یہ وصیت ہے ، اگر آپ کے والد نے اپنے دونوں لڑکوں یا صرف بڑے لڑکے کو ہبہ کردیا ہو اور اس پر قبضہ بھی دلایا ہو ، تو جس کے حق میں ہبہ کیا ہو ، وہ اس کا مالک ہے ، اور اگر لکھا ہو کہ میری موت کے بعد میرا بڑا لڑکا یا یہ دونوں لڑکے مالک ہوں گے ، تو یہ وصیت ہے ، وصیت کے سلسلے میں اصول یہ ہے کہ وارث کے حق میں وصیت معتبر نہیں ، خود رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا کہ وارث کے لیے وصیت نہیں ۔ ’’ لا وصیۃ لوارث ‘‘(۱) دوسرے وصیت زیادہ سے زیادہ ترکہ کے ایک تہائی حصہ ہی میں معتبر ہے ، اس کی صراحت بھی حدیث میں موجود ہے ۔ (۲) لہذا اگر آپ کے والد نے وصیت کی ہو تو اس کا اعتبار نہ ہوگا ، اور نہ صرف دونوں بھائی بلکہ تینوں بہنوں کا حق بھی اس جائداد سے متعلق ہوگا ، ہاں ! اگر تینوں بہنیں دونوں بھائی کے حق میں یا بہنیں اور چھوٹا بھائی بڑے بھائی کے حق میں دستبردار ہوجائیں تو جس کے حق میں دستبردار ہوں، وہ اس کا مالک ہوگا ۔ (۳)
اعضاء کی وصیت
سوال:- {2275} آج کل اشتہارات میں کہا جارہا ہے کہ مرنے سے پہلے وصیت کرو کہ مرنے کے بعد ہماری آنکھیں، دل ، گردہ اور دوسرے اعضاء کسی ضرورت مند شخص کو
(۱) صحیح البخاري ، حدیث نمبر : ۲۷۴۷ ، باب : لا وصیۃ لوارث ۔ محشی ۔
(۲) صحیح البخاري ، حدیث نمبر : ۲۷۴۳ ، باب : الوصیۃ بالثلث ۔ محشی ۔
(۳) دیکھئے : رد المحتار : ۱۰/۳۴۶ ۔
دے دی جائے ، کیا ایسی وصیت درست ہے ؟
( حناء کوثر ، عادل آباد )
جواب:- اس سلسلہ میں علماء کا اختلاف ہے کہ مجبوری کے درجہ میں ایک شخص اپنا فاضل عضو دوسرے کو ہبہ کرسکتا ہے یا نہیں ؟ فاضل عضو سے مراد یہ ہے کہ اس کو نکالے جانے کی وجہ سے اس کی جان ہلاکت میں نہ پڑجائے ، جیسے کوئی شخص دو گردوں میں سے ایک گردہ اپنے بھائی کی جان بچانے کے لیے اسے دے دے ، بعض علماء اسے جائز اور بعض ناجائز
3 میں سے 232
جہاں تک اعضاء کی وصیت کرنے کی بات ہے ، تو چوں کہ موت کے بعد انسان اپنے جسم کا مالک باقی نہیںرہتا ، اس لئے اگر کوئی شخص ایسی وصیت کرجائے تو اس کی وصیت کا اعتبار نہیں اور ایسی چیز کی وصیت کرنا بھی درست نہیں جو اس کی ملکیت میں نہ ہو ۔(۲)
(۱) تفصیل کے لیے دیکھئے : اسلام اور جدید میڈیکل مسائل ۔
(۲) الفقہ الإسلامی و أدلتہ :۸/۴۸ ۔ محشی ۔
میراث سے متعلق سوالات
اولاد کے درمیان ناانصافی
سوال:- {2276} ایک صاحب کو پانچ لڑکے ہیں ، انہوں نے ایک ہی لڑکے کو پوری جائداد کا مالک بنادیا ہے ، مکان بھی اسی کے نام رجسٹری کرادیا ہے ، کیا ان کا
کتاب الفتاوی جلد 6 – یونیکوڈ – غیر موافق للمطبوع صفحہ 229
