وقف زمین كا عشر

سوال

كيا فرماتي هين علمائ كرام ايك شخص ني زمين وقف كر دي اور اس مين فصل ہوئئ تو اسكا عشر كيسي نكالہ جائ كا؟

جواب

واضح رہے کہ   اللہ رب العزت کے نام کی حرمت بہت زیادہ ہے،بات بات پر قسم اٹھانے سے اللہ کے نام کی حرمت وعظمت دل میں کم ہوجاتی ہے،پھر انسان قسم توڑنے میں جری ہوجاتاہےاور اللہ کے نام کیبسم الله الرحمن الرحيم فتوی(د): 812=440-5/1432
ہندوستان کی زمینوں میں بالعموم عشر واجب نہیں ہوتا، سوال میں مذکور زمین اگر عشری ہے تو وقف کردینے کے بعد بھی اس کا عشر واجب رہے گا، قال في الشامیة قد صرحوا بأن فرضیة العشر ثابتة بالکتاب والسنة والإجماع والعقول․․․․ فیجب في الأراضي الموقوفة لعموم قولہ تعالیٰ ﴿اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبَاتِ مَا کَسَبْتُمْ وَمِمَّا اَخْرَجْنَا لَکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ﴾ وقولہ تعالیٰ ﴿وَآتُوْا حَقَّہُ یَوْمَ حَصَادِہِ﴾ وقولہ علیہ السلام ما سقت السماء ففیہ العشر إلخ (شامي: ۳/۲۷۹، ج: ۶۰) مسئولہ زمین میں عشر واجب ہونے کی صورت میں واقف پر واجب ہوگا یا موقوف علیہم پر یہ حکم جاننے کے لیے اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ واقف نے زمین مع فصل کے وقف کی تھی یا اور کوئی شکل تھی؟ پوری وضاحت کریں، آئندہ سوال کے ساتھ فتویٰ ہذا کی نقل منسلک کردیں گے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *