سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ
دوچچا زاد بھائیوں نے قبرستان کے لیے اپنی مشترکہ زمین وقف کردی ،اب ایک فریق وقف شدہ زمین کا کچھ حصہ راستے لیے دیناچاہتاہے، جبکہ دوسرا فریق اس بات پر راضی نہیں ہے،سوال اب یہ ہے کہ قبرستان کے لیے وقف کی گئی زمین کا کچھ حصہ راستے کے لیے دینا شرعاًدرست ہے یانہیں؟یاد رہے کہ راستے سے مراد عوامی راستہ ہے ،حالانکہ متبادل عوامی راستہ موجود بھی ہے ،یہ بھی واضح ہوکہ اس موقوفہ زمین میں مردوں کی تدفین بھی عمل میں آچکی ہے ۔
جواب
واضح رہے کہ اللہ رب العزت کے نام کی حرمت بہت زیادہ ہے،بات بات پر قسم اٹھانے سے اللہ کے نام کی حرمت وعظمت دل میں کم ہوجاتی ہے،پھر انسان قسم توڑنے میں جری ہوجاتاہےاور اللہ کے نام کیوقف کرنے کے بعد قبرستان میں راستہ بناناصحیح نہیں،خصوصاً جبکہ متبادل راستہ بھی موجودہو،البتہ مردے لیجانے کے لیے راستہ نہ ہوتو مردے کو قبرتک پہنچانے کےلیے راستہ بنانے میں کوئی حرج نہیں،لیکن یہ عام راستہ نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
وفی فتاوى قاضيخان (1/ 95)
ولو وجد طريقاً في المقبرة وهو يظن أنه طريق أحدثوا لا يمشي في ذلك وإن لم يقع ذلك في ضميره لا بأس بأن يمشي فيه.
وفی حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح(ص:620)
وفی السراج :فان لم یکن لہ طریق الاعلی القبر،جاز لہ المشی علیہ للضرورۃ .
مجيب
سید حکیم شاہ صاحب
مفتیان
مفتی آفتاب احمد صاحب
مفتی محمد حسین خلیل خیل صاحب
