سوال
ایک شخص نے تجارتی مقاصد کےلیے چالیس کنال کی زمین خرید لی تھی اب اس نے زکوٰۃ سے بچنے کےلیے اس زمین میں کھیتی باڑی شروع کی ہے تو کیا اب اس شخص پر اس زمین کی زکوٰۃ واجب ہوگی یا نہیں ،یا جو زرعی پیداوار حاصل ہوگی اس سے عشر ادا کرے گا؟
جواب
واضح رہے کہ جو زمین تجارت کی نیت سے خریدی گئی ہو اور اس کی مالیت نصاب تک پہنچتی ہو تو سال گزرنے کے بعد اس پر زکوٰۃ واجب ہو جاتی ہے تاہم اگر زمین خریدنے کے بعد تجارت کی نیت کو چھوڑ کر اس کو اپنی ضرورت کےلیے استعمال کرنا شروع کر دے تو اس سے زکوٰۃ ساقط ہو جاتی ہے البتہ اگرصرف عارضی استعمال کرے لیکن اور مستقل نیت وہی تجارت کی ہو تو اس سے زکوۃ ساقط نہیں ہوگی ۔
صورت مسئولہ کے مطابق جب کسی شخص نے زمین تجارت کی نیت سے خریدی تھی اور اس کے بعد اس نے کھیتی باڑی شروع کی تو اگر صرف وقتی طور پر زکوۃ سے بچنے کےلیے اس نے کھیتی باڑی شروع کی ہو اورتجارت کی نیت برقرار ہو تو اس صورت میں اس پر زکوۃ واجب ہوگی۔
(ومن اشترى جارية للتجارة ونواها للخدمة بطلت عنها الزكاة) لاتصال النية بالعمل وهو ترك التجارة (وإن نواها للتجارة بعد ذلك لم تكن للتجارة حتى يبيعها فيكون في ثمنها زكاة) لأن النية لم تتصل بالعمل إذ هو لم يتجر فلم تعتبر.(فتح القدير،كتاب الزكاة،ج:2،ص:168)
ولو اشترى الرجل دار أو عبداً للتجارة ثم أجره يخرج من أن يكون للتجارة لأنه لما آجره فقد قصد المنفعة.(فتاوى قاضي خان،فصل في مال التجارة،ج:1،ص:155)
ولو اشترى قدورا من صفر يمسكها ويؤاجرها لا تجب فيها الزكاة كما لا تجب في بيوت الغلة.(الفتاوى الهندية،مسائل شتى في الزكاة،ج:1،ص:180)
