(سوال ) ایک شخص نے اپنی عورت کو دل میں طلاق دی ہے کسی آدمی کے سامنے نہیں دی لوگوں نے
کہا ہے کہ عورت نے نکاح کرلیا ہے بعد ازاں وہ اپنے خاوند کے گھر آگئی ہے –
(جواب ۴) طلاق اگر صرف دل میں خیال کرنے کے طور پر دی ہے زبان سے تلفظ نہیں ادا کیا نہ آہستہ نہ زور سے تو طلاق نہیں ہوتی (۱) جب تک طلاق کے الفاظ زبان سے ادا نہ ہوں طلاق نہیں ہوتی عورت نے نکاح کرلیا ہے اس کا مطلب سمجھ میں نہیں آیا یعنی اگر وہ منکوحہ تھی اور اس نے کسی دوسرے سے نکاح
کرلیا تو یہ دوسرا نکاح ہی باطل ہے (۲) محمدکفایت اللہ غفرلہ
فصل دوم
طلاق صریح میری اس عورت پر طلاق ہے‘ طلاق ہے‘ طلاق ہے کہنے سے عورت پر تین طلاق واقع ہوگئی
(سوال) ایک شخص کی عورت اپنے شوہر سے تکلیف پاکر بغیر اجازت اپنے شوہر کے‘ اپنے والد کے گھر چلی گئی شوہر نے چند آدمیوں کے روبرو جو صوم و صلوٰۃ کے پابند ہیں یہ الفاظ کہے کہ وہ میری عورت بغیر میری اجازت اپنے میکے چلی گئی اب میرے نکاح سے باہر ہے اب اس کو جیسے گویا اپنی ماں بہن سے برتاؤ کیا اور میری اس عورت کو طلاق ہے طلاق ہے طلاق ہے – اب آپ سے دریافت طلب امر یہ ہے کہ یہ طلاق ہوئی یا نہیں ؟
(جواب ۵) صورت مسئولہ میں طلاق واقع ہوگئی اور وہ عورت اس شخص کے واسطے بغیر حلالہ جائز نہیں-یقع طلاق کل زوج اذا کان بالغا عاقلا سواء کان حرا او عبد اطائعا او مکرھاً کذافی الجوھرۃ النیرہ (عالمگیری ص ۳۸۲ ج۱) (۳)
————————-
(۱) عن ابی ھریرۃ ؓ قال قال رسول اللہ ﷺ ان اللہ عزو جل تجاوز لامتی عما حدثت بہ انفسھا مالم تعمل او تتکلم بہ (رواہ مسلم فی صحیحہ‘ کتاب الایمان‘ باب بیان تجاوز اللہ تعالیٰ عن حدیث النفس ۱/۷۸ ط قدیمی) (ورکنہ لفظ مخصوص) ھو ما جعل دلالۃ علی معنی الطلاق من صریح او کنایۃ و بہ ظہر ان من تشا جرمع زوجتہ فاعطا ھا ثلاثۃ احجار ینوی الطلاق ولم یذکر لفظا لا صریحا ولا کنایۃ لا یقع علیہ کما افتی بہ الخیرالرملی (ھامش رد المحتار مع الدر المختار‘ کتاب الطلاق ۳/۲۳۰ ط – سعید کراتشی)
(۲) کل صلح بعد صلح فالثانی باطل و کذا النکاح بعد النکاح – والا صل ان کل عقداعید فالثانی باطل (الدر المختار مع ہامش رد المحتار‘ کتاب الصلح ۵/۶۳۶ ط – سعید کراتشی)
(۳) الفتاوٰی الھندیۃ کتاب الطلاق‘ الباب الاول‘ فصل فیمن یقع طلاقہ و فیمن لا یقع طلاقہ ۱/۳۵۳ ط – ماجدیہ کوئٹہ وکذا فی الدر المختار مع ہامش رد المحتار کتاب الطلاق ۳/۲۳۵ ط- سعید کراتشی)
3 میں سے 34
فصل سوم کنایات طلاق
اگر میرے بغیر تو اپنے باپ کے یہاں ایک روز بھی رہی تو میرے کام کی نہیں اور میں تیرا کچھ نہیں‘ بغیر نیت طلاق کہا تو کیا حکم ہے؟
(سوال) زید نے اپنی بیوی سے کہ تو اپنے ماموں سے برا تعلق رکھتی ہے اس لئے تو اپنے باپ کے گھر جائے تو مجھے ضرور ہمراہ لے لیا کر جتنے روز تو اپنے باپ کے یہاں رہے گی میں تیرے ہمراہ رہوں گا اگرمیرے بغیر تو اپنے باپ کے گھر ایک روز بھی رہی تو تو میرے کام کی نہیں اور میرے تیرے کچھ نہیں (زید کی بیوی کا ماموں زید کی بیوی کے باپ کے یہاں رہتا ہے ) زید نے اپنی بیوی سے ایک بار یہ بھی کہا کہ تو قرآن شریف اٹھاکر قسم کھا کہ اس سے برے تعلقات سے بری ہوں زید کی بیوی نے قرآن شریف لیکر قسم کھائی کہ میرے ماموں سے میرا کوئی برا تعلق نہیں ہے کچھ عرصہ کے بعد زید کی بیوی اپنے والد کے گھر جانے لگی تو زید بھی ہمراہ گیا ا ور جتنے روز ز ید کی بیوی اپنے والد کے یہاں رہی زید بھی ہمراہ ر ہا پھر دوسری مرتبہ زید کی عورت اپنے والد کے گھر گئی اس وقت بھی زید اس کے ہمراہ گیا وہاں جاکر زید کی بیوی اپنے دوسرے ماموں کے یہاں جو دیہات میں رہتے ہیں جانے لگی زید نے اپنی بیوی کو وہاں جانے سے منع کیا مگر وہ نہ مانی اور چلی گئی اس کے جانے کے بعد زید اپنی سسرال سے اپنے گھر واپس آگیا اور زید کی بیوی اپنے دوسرے ماموں کے گھر رہ کر پھر اپنے والد کے گھر آگئی قریب دو ماہ کاہوا وہ اپنے والد کے مکان پر ہے عمروکہتا ہے کہ زید نے جو الفاظ اپنی بیوی کو کہے تھے کہ ’’ اگر میرے بغیر تو اپنے باپ کے یہاں ایک روز بھی رہی تو تو میرے کام کی نہیں اور میرے تیرے کچھ نہیں‘‘ تو زید کی بیوی اس کے نکاح سے نکل گئی طلاق بائن پڑ گئی – زید اس کے جواب میں کہتا ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو نماز کی پابندی کے لئے بطور ڈرانے کے مذکورہ الفاظ کہے تھے طلاق کی نیت نہیں تھی-المستفتی نمبر ۱۲۹ عبدالرحیم صاحب موٹا اوچھ ضلع سورت ۔
۳ شعبان ۱۳۵۲ھ ۲۲ نومبر ۱۹۳۳ء
(جواب ۶) اگرزید ان الفاظ کو بہ نیت طلاق کہنے سے انکار کرتا ہے تو زید کا قول مع قسم کے معتبر ہوگا اور طلاق واقع نہ ہوگی – (۱)محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ
بیوی کو ’’ جائو چلی جائو‘‘ کہنا
(سوال ) زید نے بلا کسی نیت اور ارادہ مستقلہ اور تذکرہ کے اپنی اہلیہ سے لفظ ’’ جائو چلی جائو‘‘ کہا مگر اس وقت
———————————–
(۱) فالکنایات لا تطلق بھا إلا بنیۃ اودلالۃ الحال – فنحو اخرجی واذھبی و قومی یحتمل رداو نحو خلیۃ بریۃ حرام بائن یصلح سباونحو اعتدی – سرحتک فارقتک لا یحتمل السب والرد ففی حالۃ الرضا تتوقف الاقسام الثلاثۃ تاثیراً علی نیۃ للاحتمال والقول لہ بیمینہ فی عدم النیۃ و یکفی تحلیفھا لہ فی منزلۃ فان ابی رفعتہ للحاکم فان نکل فرق بینھما (تنویر الابصار مع ہامش رد المحتار‘ کتاب الطلاق‘ باب الکنایات ۳/۲۹۶ ط – سعید کراتشی) وکذا فی الفتاوٰی الھندیۃ کتاب الطلاق‘ الباب الثانی فی ایقاع الطلاق‘ الفصل الخامس فی الکنایات ۱/۳۷۴ ط- ماجدیہ کوئٹہ)
3 میں سے 35
سے اگر دماغ میں یہ چیز آئی ہو تو طلاق واقع ہوگی یا نہیں ؟ زید بہت شکی واقع ہوا ہے جس سے خود نہایت
پریشان ہے اور اب بیٹھے بیٹھے طلاق کا تخیل آجایا کرتا ہے ان صورتوں میں شریعت کا کیا حکم ہے ؟
المستفتی نمبر۲۷۰ معرفت ناظم دار الاشاعت مونگھیر- ۱۷ محرم ۱۳۵۳ھ ۲ مئی ۱۹۳۴ء
(جواب ۷)اہلیہ سے یہ الفاظ ’’ جائو چلی جائو‘‘ کہنے کے بعد یعنی ان الفاظ کا تلفظ ختم ہونے کے بعد اگر یکایک طلاق کا تصور آگیا خواہ اس طرح کہ’’ اگر اس سے طلاق مراد لے لیں تو کیا حرج ہے ‘‘ یا اس طرح کہ ’’ اس سے طلاق مراد لے لینا چاہئیے ‘‘ تو یہ وقوع طلاق کے لئے کافی نہیں ہے جب کہ صورت یہ تھی کہ الفاظ کا تلفظ کرنے سے قبل نہ طلاق کا ارادہ تھا نہ ذکر -تلفظ ہوچکنے کے بعد کا مذکورہ بالا تصور مؤثر نہیں ہوسکتا – (۱) لان النیۃ لا تعمل فیما مضی (۲) محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ
بیوی کو ماں کہنے سے طلاق نہیں ہوتی
(سوال ) زید نے پنچوں کے روبرو یہ بیان دیا ہے کہ میں نے اپنے تنازعہ کی وجہ سے بیوی کو یہ کہا کہ کیا تجھ کو ماں کہنا پڑے گا ؟ اس کے جواب میں بیوی نے یہ کہا کہ میرا مہر دے دو اس پر میں نے کہا کہ مہر معاف کردے تو میں طلاق دو ں گا زیدکی بیوی سے پوچھا گیا تو اس نے بھی یہی بیان دیا کہ زید کا بیان ٹھیک ہے اس کے بعد تین گواہوں نے یہ بیان دیا کہ زید نے ہمارے سامنے بیوی سے یہ کہا کہ میں تجھ کو ماںکہتا ہوں تو میرے گھر سے نکل جا – زید کی بیوی نے اس سے مہر طلب کیا اس نے کہا کہ اس وقت میرے پاس مہر نہیں ہے –
المستفتی نمبر ۶۶۸ حاجی عبدالقادر (ناگپور) ۵ شعبان ۱۳۵۴ھ م ۳ نومبر ۱۹۳۵ء
(جواب ۸) گواہ اگر معتبر لوگ ہوں تو ان کی گواہی سے جو بات ثابت ہوتی ہے وہ مانی جائے گی اور زید کا بیان قابل سماعت نہ ہوگا لیکن گواہوں کے بیان میں بھی طلاق کا لفظ نہیں ہے اور جو الفاظ مذکور ہیں ان سے
طلاق نہیں پڑتی (۱) اور زید چونکہ اس بیان سے منکر ہے اس لئے اس سے نیت کا استفسار نہیں ہوسکتا اس
لئے مذکورہ صورت میں طلاق کا حکم نہیں دیا جاسکتا- محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ ‘
——————–
(۱) ولو قال لھا اذھبی ای طریق شئت لا یقع بدون النیۃ وان کان فی حال مذاکرۃ الطلاق (الفتاوٰی الھندیۃ کتاب الطلاق‘ الباب الثانی فی ایقاع الطلاق‘ الفصل الخامس فی الکنایات ۱/۳۷۶ ط – ماجدیہ کوئٹہ)
(۲) ولا عبرۃ بنیۃ متاخرۃ عنھا (الدر المختار مع ہامش رد المحتار‘ کتاب الصلاۃ‘ باب شروط الصلاۃ ۱/۴۱۷) و فی الاشباہ والنظائر ولایکون شارعا بنیۃ متأخرۃ لان ما مضی لم یقع عبادۃ لعدم النیۃ ( الاشباہ والنظائر لابن نجیم الفن الاول فی القواعد الکلیۃ النوع الاول‘ القاعدۃ الثانیۃ الامور مقاصد ھا ۱/۱۵۰ ط -ادارۃ القرآن کراتشی)
