سوال
جواب
صورتِ مسئولہ میں روزہ کی نیت سے متعلق کوئی مخصوص الفاظ احادیث سے ثابت نہیں ہیں، البتہ روزہ عبادت ہے اور عبادت صحیح ہونے کے لیےنیت شرط ہے،نیت کے بغیر روزہ درست نہیں ہوتااوربسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa: 1309-1249/L= 10/1438
اگر شوگر کا لیول زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کے اندر روزہ رکھنے کی ہمت نہ ہو اور روزہ رکھنا اس کے لیے دشوار ہو،دیندار ماہر ڈاکٹر اس کو روزہ رکھنے سے منع کرتا ہو تو اس کے لیے روزہ چھوڑنے کی گنجائش ہوگی اور روزہ چھوڑنے پر وہ گنہگار نہ ہوگا؛البتہ اگر وہ سال کے چھوٹے دنوں میں روزہ رکھ سکتا ہو خواہ متفرقاً ہی سہی تو اس چھوٹے ہوئے روزے کی روزہ رکھ کر قضا کرنا ضروری ہوگا،اور اگر اس کی بھی ہمت نہ ہو اور نہ ہی مستقبل میں اس کی کوئی امید ہو تو اس کے لیے چھوٹے ہوئے روزوں کا فدیہ دینا جائز ہوگا؛لیکن اگر بعد میں روزہ رکھنے کی طاقت ہوجائے تو پھر روزہ رکھنا ضروری ہوگا۔
نوٹ:ایک روزہ کا فدیہ ایک صدقة الفطریعنی ایک کلو چھ سوتینتیں (۱/کلو۶۳۳گرام) گندم یا اس کی قیمت ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
