پوچھنا یہ ہے کہ کیا وکالت کی پڑھائی جائز ہے یا نہیں؟

ایمان و عقائد

سوال

پوچھنا یہ ہے کہ کیا وکالت کی پڑھائی جائز ہے یا ناجائز اور اگر جائز ہے یا نا جائز تو اسکی کوئی دلیل ہے ؟ برائے کرم مرحمت فرمائیں۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa: 904-891 /M= 8/1438
مقصد نیک ہو، دورانِ تعلیم خلاف شرع امر کا ارتکاب لازم نہ آتا ہو اور غلط عقیدے میں ابتلاء کا اندیشہ نہ ہو تو وکالت کی پڑھائی میں مضائقہ نہیں، جائز ہے اور پڑھائی کے بعد اس کا پیشہ اور اس کی آمدنی کی بابت حکم یہ ہے کہ جائز مقدمات کی پیروی اور اس کی اجرت جائز ہے اور ناجائز اور ناحق مقدمات کی پیروی اور اس کی اجرت ناجائز ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

دار الافتاء:دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتویٰ نمبر:150375
تاریخ فتویٰ:May 1, 2017

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *