متفرقات

 قبر پر اذان دینے کے لئے ابن ماجہ کی حدیث سے استدلال کرنا؟ ۶۶۳
  قبر پر اذان دینے سے مردہ کو سوال جواب میں آسانی ہونے کا عقیدہ رکھنا؟ ۶۶۴
  عرس کرنا اور قبروں پر چادر چڑھانا؟ ۶۶۵
  مزار پر سجدہ کرنااور چادر چومنا؟ ۶۶۶
  قبروں پر پھول چڑھانا؟ ۶۶۷
  قبروں پر موم بتی اگربتی جلانا؟ ۶۶۸
  قبر کی طرف سر جھکانا اور مزارات کی قدم بوسی کرنا؟ ۶۶۹
  مزارات پر بیٹھ کر تلاوت کرنا ؟ ۶۷۰
  شیطان اور جنات کے اثرات زائل ہونے کے یقین سے مزارات پر جانا؟ ۶۷۱
  بزرگوں کے مزارات پر کتبہ لگانا؟ ۶۷۲
  قبرستان میں ناچ، گانا، قوالی اور قضاء حاجت وغیرہ کا حکم؟ ۶۷۳
  قبر میں عہد نامہ رکھنا ۶۷۴
  تیسرے دن قبر کی زیارت اور ایصالِ ثواب پر ملا علی قاریؒ کی کتاب سے استدلال کرنا؟ ۶۷۵
  سالار مسعود غازیؒ کے مزار پر ہونے والی رسومات ۶۷۶
  بزرگوں کے مزارات پر غائب شخص کا سلام پہنچانا؟ ۶۷۷
  مزار پر جاکر پیروں سے مانگنا؟ ۶۷۸
  بزرگوں کے نام پر عرس منانا ۶۷۹
  مزاروں پر جاکر مردوں کے وسیلے سے منت مانگنا؟ ۶۸۰
  قبر کے سامنے جھک کر سلام کرنا اور مزار کو چومنا؟ ۶۸۱
  قبروں پر پھول مالا اور تر شاخ رکھنا؟ ۶۸۲
متفرقات
۶۸۴
  درود تاج پڑھنا ۶۸۴
  تکبیر میں شہادتین تک بیٹھے رہنے کو لازم سمجھنا بدعت ہے ۶۸۴
  ربن کاٹ کر دوکان وغیرہ کا افتتاح کرنا ؟ ۶۸۵
  مسجد کے طاق اور محراب میں مٹھائی رکھنا؟ ۶۸۶
  واجب الاکرام شخص کی قدم بوسی کرنا؟ ۶۸۷

3 میں سے 35

تقریظات وتأثرات:
  محترم المقام حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم صاحب نعمانی دامت برکاتہم
(خلیفۂ اجل حضرت فقیہ الامتؒ) مہتمم دارالعلوم دیوبند
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
عزیز گرامی مولانا مفتی سید محمد سلمان منصورپوری نائب مفتی واستاذِ حدیث جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی مرادآباد، ان موفق علماء واَعیان میں سے ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے مختلف النوع علمی ودینی خدمات کی سعادت سے سرفراز فرمایا ہے۔ وہ دور ابھی نگاہوں میں تازہ ہے جب عزیز گرامی دارالعلوم دیوبند کے ہوشیار اور سعادت مند طلبہ میں شمار کئے جاتے تھے۔
اور ان کی علمی لگن، جدوجہد، وقار ومتانت اور اساتذہ کے اعتماد سے بجاطور پر یہ اندازہ ہوتا تھا کہ انشاء اللہ فراغت کے بعد علماء کرام کی صف میں موصوف نمایاں مقام کے حامل ہوںگے۔
بالائے سرش ز ہوش مندی

می تافت ستارۂ بلندی
اور مستقبل نے اس اندازہ کو صحیح ثابت کردیا، چناںچہ فراغت کے بعد سے ہی مفتی صاحب درس وتدریس، وعظ وارشاد، تصنیف وتالیف، مضمون نویسی اور ’’ندائے شاہی‘‘ کی ادارت کے ساتھ ساتھ مدرسہ شاہی جیسے مرکزی ادارہ کے ’’دارالافتاء‘‘ سے وابستہ رہ کر ’’فتویٰ نویسی‘‘ کی خدمت بھی انجام دے رہے ہیں۔
اب تک ان کے ذاتی فتاویٰ اور مسائل پر مشتمل کئی مجموعے زیور طبع سے آراستہ ہوکر اہل علم کے درمیان مقبول ہوچکے ہیں، اور اب دارالافتاء مدرسہ شاہی مرادآباد سے جاری شدہ مفتی صاحب کے تحریر کردہ منتخب فتاویٰ کا مجموعہ ’’کتاب النوازل‘‘ کے نام سے طباعت کے مراحل سے گزر رہا ہے۔ اس وقت میرے سامنے ’’کتاب النوازل‘‘ کی دو جلدیں ہیں، پہلا حصہ ’’عقائد وایمانیات‘‘ پر مشتمل ہے، جب کہ دوسرا ’’کتاب العلم وغیرہ اور رد فرق باطلہ ‘‘ سے متعلق فتاویٰ پر مشتمل ہے۔
موصوف نے دارالعلوم دیوبند کے دارالافتاء میں فقیہ الامت حضرت مولانا مفتی محمود حسن صاحب گنگوہیؒ اور استاذ العلماء حضرت مولانا مفتی نظام الدین صاحب اعظمیؒ جیسے ماہرین فقہ وفتاویٰ کے زیرسایہ فتویٰ نویسی کی مشق کی ہے، اور خود مسلسل مطالعہ اور تحقیق وجستجو ان کا مزاج ہے، اس کا اثر ان کے فتاویٰ میںنمایاں ہے۔
امید کی جاتی ہے کہ ’’کتاب النوازل‘‘ شائع شدہ کتب فتاویٰ میں ایک معتبر اور مقبول اضافہ کی شکل میں شامل ہوگی، اور اس سے علم وتحقیق کے دل دادہ افراد کو بہترین رہنمائی حاصل ہوگی۔ اللہ تعالیٰ مفتی صاحب کے علمی افادات کا سلسلہ برابر جاری رکھے اور اس میں برکت عطا فرمائیں، آمین۔
(مفتی) ابوالقاسم نعمانی غفرلہ دارالعلوم دیوبند
۵؍۷؍۱۴۳۵ھ
  محترم المقام حضرت الاستاذ مولانا نعمت اللہ صاحب اعظمی دامت برکاتہم
استاذ حدیث ونگراں شعبۂ تخصص فی الحدیث دارالعلوم دیوبند
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مولانا محمد سلمان منصورپوری استاذِ حدیث ومفتی مدرسہ شاہی مرادآباد جب سے جامعہ شاہی میں استاذ مقرر ہوئے ہیں، افتاء کا شعبہ بھی ان سے منسلک رہا ہے، وہ اس سے قبل رسم المفتی کی  شرح ’’فتاویٰ نویسی کے رہنما اصول‘‘ کے نام سے تصنیف کرچکے ہیں،

3 میں سے 36

جو اہل علم کی نظر میں ایک معیاری کتاب سمجھی جاتی ہے۔
پیش نظر ’’کتاب النوازل‘‘ میں مولانا محمد سلمان منصورپوری نے اپنے فتاویٰ کو شائع کرنے کاارادہ کیا ہے، جس کی ترتیب وتہذیب مولانا محمد ابراہیم صاحب غازی آبادی سے متعلق ہے، اس کی ترتیب وتہذیب میں مکرر فتاویٰ سے اجتناب کیا گیا ہے، الا یہ کہ خود سوال میں پہلے سوال سے زائد بات کا تذکرہ ہو، فی الحال ’’کتاب النوازل‘‘ جس قدر مبوب ومرتب ہوکر منظر عام پر آرہی ہے، وہ دو جلدوں پر مشتمل ہے، کتاب الایمان والعقائد، کتاب العلم، تاریخ وسیر، تصوف وسلوک، دعوت وتبلیغ اور بدعات ورسومات سے متعلق مسائل ومباحث ہیں، اور فرقِ ضالہ کی ضلالت وگمراہی کے بیان پر مشتمل یہ مسائل تقریباً چھ سو فتاویٰ پر مشتمل ہیں، سابقہ کتابوں کی بنیاد پر اور اس کے ساتھ جستہ جستہ خود کتاب کے ابواب پر نظر کرنے کے بعد، امید ہے کہ تمام مسائل صحیح ہیں اور ان کا بیان عمدہ وبہتر ہے، اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرمائیں۔ آمین۔    والسلام
نعمت اللہ غفرلہ
خادم الفقہ والحدیث دارالعلوم دیوبند
۲۶؍رجب المرجب ۱۴۳۵ھ
  محترم المقام حضرت الاستاذ مولانا ریاست علی صاحب بجنوری دامت برکاتہم
(مرتب وجامع ’’ایضاح البخاری‘‘ شرح صحیح البخاری) استاذِ حدیث دارالعلوم دیوبند
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الحمد للہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی، اما بعد!
مدرسہ شاہی مرادآباد کے دارالافتاء سے محترم مولانا مفتی محمد سلمان منصورپوری زید مجدہم کے قلم سے جاری کردہ فتاویٰ ترتیب وتعلیق کے بعد شائع ہورہے ہیں، ترتیب وتعلیق کا کام عزیزم مولانا ابراہیم غازی آبادی سلمہ کررہے ہیں۔
فتاویٰ کو صحاح کی ترتیب کے مطابق مدون کیا جارہا ہے کہ سب سے پہلے کتاب الایمان اور اس کے متعلقات، پھر کتاب العلم جس میں متعلقاتِ قرآن وحدیث، فقہ وفتاویٰ اور بدعات ورسومات سے اجتناب وغیرہ سے متعلق فتاویٰ ہیں۔
’’کتاب النوازل‘‘ کے نام سے شائع ہونے والے ان فتاویٰ کی دو جلدیں احقر کے سامنے ہیں، معلوم ہوا کہ ان دو جلدوں میں کئی ہزار فتاویٰ میں سے ایک ہزار سے کم فتاویٰ لئے گئے ہیں۔
تمام مسائل کے لئے مستند کتابوں کا حوالہ دیا گیا ہے، زبان وبیان میں علمی اسلوب کے ساتھ سلاست وسہولت پائی جاتی ہے۔
راقم الحروف، صاحب فتاویٰ جناب مولانا مفتی محمد سلمان منصورپوری زیدمجدہم اور مرتب فتاویٰ مولانا محمد ابراہیم غازی آبادی سلمہ کو سلیقہ کے ساتھ اس علمی خدمت کے انجام دینے پر دلی مبارک باد پیش کرتا ہے اور بارگاہِ خداوندی میں دست بدعا ہے کہ ان کو اپنی رضا کے لئے زیادہ سے زیادہ علمی خدمات انجام دینے کی توفیق دے کہ اس سے ان پر عمل کرنے والوں کو ان شاء اللہ فائدہ ہوگا، اور ان کی خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبول کی دولت سے سرفراز کرے۔ آمین۔

 

کتاب النوازل جلد 1- یونیکوڈ – غیر موافق للمطبوع صفحہ 33

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *