مضارب کی حیثیت اور مضاربت کا طریقہ

سوال

واضح رہے کہ عقدِ مضاربت میں مضارب کی حیثیت امین کی ہوتی ہے، اس لیے مضارب پر لازم ہوتا ہے کہ اگر رب المال نے اسے مطلق اجازت نہیں دی(کہ جیسے چاہو تجارت کرو) تو وہ راس المال کو اسی طرح استعمال کرے جیسے کہ رب المال نے کہا ہے، ورنہ خیانت اور تعدی کرنے والاشمار ہو گا اور ضمان لازم آئے گا۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں جب زید نے بکر کو ٹافی کے کاروبار کے لیے سات لاکھ روپے دیے اور بکر نے سارے راس المال سے (ٹافیاں )مالِ مضاربت خرید لیا ہے، تواب وہ سارا مال مضاربت کا ہی شمار ہو گا۔بکر پر لازم ہے کہ وہ مال کا تعین کرے،اس کا بل بنائے،اسے الگ رکھے تاکہ معاملات شفاف رہیں اور مضاربت کے معاہدے کے مطابق  اس مال کی خرید و فروخت کرے،اور اپنے ذاتی مال میں خلط نہ کرے،البتہ بکر کو یہ اختیار ہے کہ وہ چاہے تو مضاربت کے کل راس المال سےسارا مال ایک ہی ساتھ خریدے یا بقدرِ ضرورت، باقی اسے بیع سلم کہنا یا قرار دینا درست نہیں۔

بدائع الصنائع  میں ہے:

“أما الذي يرجع إلى حال المضارب في عقد المضاربة فهو أن رأس المال قبل أن يشتري المضارب به شيئا أمانة في يده بمنزلة الوديعة؛ لأنه قبضه بإذن المالك لا على وجه البدل والوثيقة، فإذا اشترى به شيئا صار بمنزلة الوكيل بالشراء والبيع؛ لأنه تصرف في مال الغير بأمره، وهو معنى الوكيل فيكون شراؤه على المعروف، وهو أن يكون بمثل قيمته أو بما يتغابن الناس في مثله، كالوكيل بالشراء وبيعه على الاختلاف المعروف في الوكيل بالبيع المطلق.”

(کتاب المضاربۃ ،فصل فی بیان حکم المضاربۃ ج نمبر ۶ ص نمبر ۸۷،دار الکتب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *