معاملات

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آجکل عموما جب لوگوں کے پاس جب موبائل میں بیلنس ختم ہو جائے تو وہ کمپنی کی طرف سیروپے لون منگواتے ہیں جس کی کٹوتی میں کمپنی ۰پیسے زائد چارج کرتی ہے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ کمپنی جو زائد پیسے بطورٹیکس چارج کرتی ہے تو کیایہ زائد پیسے سود میں آتے ہیں کہ نہیں؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم فتوی: 546-575/N=8/1433
صورت مسئولہ عنہا میں کمپنی جو زائد پیسے بطور ٹیکس چارج کرتی ہے شرعاً ان پر سود کی تعریف صادق نہیں آتی؛ کیونکہ یہ حقیقت میں ادھار کی وجہ سے کال کا ریٹ بڑھانا ہے جو شرعاً بلاشبہ جائز ودرست ہے، قال في الہدایة (کتاب البیوع باب المرابحة والتولیة: ۳/۷۴، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند): ألا یری أنہ یزاد في الثمن لأجل الأجل إھ ہاں اگر کمپنی بشکل کرنسی آپ کو لون دیتی اور پھر اس سے زائد وصول کرتی تو البتہ زائد کرنسی سود ہوتی ہے، کیونکہ زیادتی سود اس وقت ہوتی ہے جب دونوں عوض ایک جنس کے ہوں، اگر ایک طرف کرنسی ہے تو دوسری طرف بھی اسی جنس کرنسی ہو، ہم جنس کرنسی کے علاوہ کوئی سامان یا منفعت نہ ہو۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

دار الافتاء:دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتویٰ نمبر:40013
تاریخ فتویٰ:Jul 7, 2012

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *