مرضعہ کے بیٹے اور رضاعی بچی کے درمیان نکاح کا حکم

سوال

ایک لڑکی نے کسی عورت کا دودھ پیا تو کیا اب اس لڑکی کا نکاح دودھ پلانے والی عورت کے کسی بیٹے سے ہوسکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ مدت رضاعت میں اگر کوئی بچہ کسی عورت کا دودھ پی لے تو   دودھ پلانے والی اس کی رضاعی ماں بن جاتی ہے اور اس کی تمام اولاد اس بچہ کے حق میں رضائی بھائی بہن بن جاتے ہیں، جس طرح دودھ پینے والے پر رضاعی ماں حرام ہوجاتی ہے،اسی طرح اس کے اصول و فروع بھی حرام ہوجاتے ہیں۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں مرضعہ یعنی دودھ پلانے والی عورت کے  بیٹے اس بچی کے رضاعی بھائی شمار ہوں گے، لہذا اس کا نکاح اس عورت کے کسی بھی بیٹے سے کرنا جائز نہیں۔

قرآن مجید میں  ہے:

“وَأُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِي أَرضَعنَكُم وَأَخَوٰتُكُم مِّنَ الرَّضٰعَةِ “.[النساء: 23]  

ترجمہ:”اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے  تم کو دودھ پلایا ہے اور تمہاری وہ بہنیں جو دودھ پینے کو وجہ سے ہیں (تم پر حرام كي گئي هيں)۔”(بیان القرآن)

مشكاة المصابيح میں ہے:

“وعن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يحرم من الرضاعة ما يحرم من الولادة. رواه البخاري.”

(مشكاة المصابيح، كتاب النكاح،  باب المحرمات، الفصل الاول، ج:2،ص:945 ، رقم الحديث:3161، ط: المکتبۃ الاسلامی بیروت)

ترجمہ:حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”رضاعت (دودھ پلانے) کے ذریعے وہی رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب (ولادت) کے ذریعے حرام ہوتے ہیں۔” (بخاری)

فتاوی شامی    میں ہے:

“(فيحرم منه) أي بسببه  ما يحرم من النسب.”

(الدر المختار مع رد المحتار،کتاب النکاح، باب الرضاع،ج:3،ص:213، ط: سعید)

البحر الرائق  میں ہے:

“(قوله: وحرم به، وإن قل في ثلاثين شهرا ما حرم منه بالنسب) أي حرم بسبب الرضاع ما حرم بسبب النسب قرابة وصهرية في هذه المدة ولو كان الرضاع قليلا لحديث الصحيحين المشهور: يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب.”

(البحر الرائق، کتاب الرضاع، ج:3، ص:238، ط: دارالکتاب الاسلامی )

فقط والله اعلم

فتویٰ نمبر : 144705101535

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *