مال مضاربت کو آگے مضاربت پر دینا

سوال

عقد مضاربت طے کرتےوقت مضارب رب المال سے یہ شرط لگائےکہ میں اپنی مرضی سے اس پر کاروبار کروں گا ،رب المال اس پر راضی ہواور رب المال کے لئےکل نفع میں سے ایک ثلث اور مضارب کےلیے دو ثلث طے ہو جائے  پھر مضارب اول  یہی رقم   دوسرے شخص کو بطور مضاربت  نصف نفع پر دےتو کیا مضارب اول رب المال سے پوچھے  بغیرآگے دوسرے مضارب کو مال دے سکتا ہے یا نہیں؟اگر دے سکتا ہے تو رب المال اور مضارب اول کے درمیان نفع کیسے تقسیم ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ   اللہ رب العزت کے نام کی حرمت بہت زیادہ ہے،بات بات پر قسم اٹھانے سے اللہ کے نام کی حرمت وعظمت دل میں کم ہوجاتی ہے،پھر انسان قسم توڑنے میں جری ہوجاتاہےاور اللہ کے نام کی

عقد مضاربت میں رب المال  مضارب کو مال سپردکرتے وقت یہ کہے کہ تم اپنی مرضی سے کام کرو یا تم جو مناسب سمجھو اسی کے مطابق کاروبار کرو ،تو ایسی صورت میں مضارب کے لیے دوسرے شخص کو سرمایہ مضاربت  پر دینا جائز ہے،پھر اگرعقد مضاربت کے وقت رب المال نے  اپنےلیے کل نفع میں سے ایک ثلث کی شرط لگائی، اور مضارب  ثانی نے اپنے لئے نفع میں سے نصف کی شرط لگائی  ،تو ایسی صورت میں ان کو معاہدہ کے مطابق نفع دیا جائے گا اور  نفع میں سےباقی حصہ مضارب اول کو ملےگا۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر رب المال نےواقعی مضارب کواپنی مرضی  سے کاروبار کرنے کا اختیار دیا ہو، تو مضارب کے لیے دوسرےشخص کو سرمایہ مضاربت پر دینا جائز ہے اور نفع کی تقسیم کے سلسلے میں معاہدہ کے مطابق رب المال کو کل نفع میں سے ایک ثلث اور مضارب ثانی کو نصف جبکہ مضارب اول کو کل نفع کا ایک سدس  ملےگا۔

 

” (وأما)القسم الذي للمضارب أن يعمله إذاقيل له:اعمل برأيك،وإن لم ينص عليه،فالمضاربة، والشركة، والخلط، فله أن يدفع مال المضاربة مضاربة إلى غيره”۔(بدائع الصنائع،كتاب المضاربة،فصل في بيان الحكم المضاربة ،ج:6،ص:188)

“قال:وإذادفع إليه رب المال مضاربة بالنصف،وأذن له بأن يدفعه إلي غيره فدفعه بالثلث،وقد تصرف الثاني وربح،فإن كان رب المال قال له:على أن ما رزق الله،فهو بيننا نصفان،فلرب المال النصف،وللمضارب الثاني الثلث،وللمضارب الأول السدس،لأن الدفع إلى الثاني مضاربة قد صح لوجود الأمر به من جهةالمالك، ورب المال شرط لنفسه نصف جميع ما رزق، فلم يبق للأول إلا النصف فينصرف تصرفه إلى نصيبه،

وقد جعل من ذلك بقدرثلث الجميع للثاني،فيكون له فلم يبق إلاالسدس”(الهداية،كتاب المضاربة،باب المضارب يضارب، ج:3، ص:268)

دار الافتاء:دار الافتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
فتویٰ نمبر:3438/297/322

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *