کیا وکالت کا پیشہ حرام ہے ؟

ایمان و عقائد

سوال

کیا وکالت کا پیشہ حرام ہے ؟

جواب

سم الله الرحمن الرحيم
Fatwa: 765-633/D=9/1438
اس پیشے سے وابستہ بہت سے امور ہوتے ہیں اس لیے مطلقاً اسے حرام نہیں کہہ سکتے، البتہ جھوٹے مقدمہ کی پیروی کرنا جھوٹی گواہی دینا، فریق مقابل پر جھوٹے الزام واتہام قائم کرنا وغیر ہ امور ناجائز اور حرام ہیں، وکیل جس درجہ میں اس طرح کے حرام وناجائز امور کا مرتکب ہوگا اسی درجہ میں اس کا پیشہ ناجائز وحرام ہوگا اور آمدنی بھی اسی درجہ میں کراہت یا حرمت پر مشتمل ہوگی۔
بعض وکلاء جھوٹے مقدمے لینے سے گریز کرتے ہیں۔
بعض وکلاء صرف معاہدات تیار کرانے کا کام کرتے ہیں۔
بعض وکلاء جائیداد زمین ومکان دکان فیکٹری وغیرہ کے بیعانے اور رجسٹری کرانے کا کام انجام دیتے ہیں اور اپنی متعینہ فیس لیتے ہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

دار الافتاء:دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتویٰ نمبر:151600
تاریخ فتویٰ:Jun 3, 2017

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *