اختلاطِ مرد و زن کی محفل میں شرکت یا عدم شرکت کا شرعی حکم اور اللہ کو راضی کرنے کا طریقہ

سوال

حضرت میرے بھائی کا نکاح اس طرح ہورہا ہے کہ مرد اور عورتوں کا الگ انتظام نہیں، کیوں کہ میں عالمہ ہوں اس لیے میرے لیے ٹینٹ کے ذریعہ الگ انتظام کردیں گے۔ میرا دل ایسی مجلس میں جانے کے لیے بالکل تیار نہیں جہاں اللہ رب العزت کے احکام کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جائے․․․․آپ میری رہنمائی فرمائیں کہ اللہ کو کس طرح راضی کیا جاسکتا ہے، ایسی مجلس میں شرکت کرکے یا نہ کرکے؟ وضاحت کے ساتھ جواب دیجئے گا تاکہ میں اپنے بھائی کو بتا سکوں۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 1163=848/ ھ

اگر مجلس کے ذمہ داران (بھائی وغیرہ صاحبان) یہ وعدہ کریں کہ مجلس میں گوئی کام شریعت مطہرہ کے خلاف نہ ہوگا اور ان کے وعدہ پر اطمینان ہوجائے تب تو شرکت کرلیں اور اگر اصلاح کے لیے آمادہ نہ ہوں یا آپ کا دل گواہی دے کہ فی الحال اصلاح پر آمادگی دبے انداز میں محض دفع الوقتی کی خاطر ہے تو آپ شرکت کرنے سے صاف معذرت کردیں، اللہ پاک کے راضی کرنے اور رکھنے کی یہی صورت ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

دار الافتاء:دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتویٰ نمبر:5166
تاریخ فتویٰ:حضرت میرے بھائی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *