اجارہ میں اجرت متعین ہونا

سوال

 ہمارے ہاں دُکان دار جب دُکان پر ملازم رکھتا ہے تو اس کے لیے ماہانہ تن خواہ کے علاوہ روزانہ کے اعتبار سے کچھ پیسے مقرر کرتا ہے، مثلاً: تن خواہ دس ہزار ہوگی اور روزانہ سو روپے ملیں گے، کیا یہ صورت جائز ہے کہ نہیں  ؟

جواب

“اجارہ” میں ضروری ہے کہ اجرت متعین ہو ، ذکرکردہ صورت میں جب ماہانہ اور یومیہ بنیاد پر اجرت طے کرلی جاتی ہے تو یہ معاملہ درست ہے، اس طرح ملازم رکھنےمیں شرعاً   کوئی حرج نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم

دار الافتاء:دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر:143908200547
تاریخ فتویٰ:07-05-2018

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *