عبادت میں دل نہیں لگتا کیا کروں

سوال

میں اپنی اس عادت سے بہت پریشان ہوں اللہ کی عبادت کرنے لگتی ہوں تو بس دل کرتا ہے کہ ساری دنیا کی فکر چھوڑ کر بس اس کی عبادت ہی کرتی رہوں لیکن پتہ نہیں کیا ہوتا ہے کہ عبادت سے دل ہٹ جاتا ہے نماز دعا تلاوت کسی میں دل نہیں لگتا اور آہستہ آہستہ عبادت چھوٹ جاتی ہے  مجھے لگتا ہے مجھے رہنمائی کی ضرورت پڑھتی ہے تو میں اس مسئلہ میں کیا کروں ، میرے شوہر اچھے ہیں لیکن کچھ باتیں ایسی ہیں جو برداشت نہیں ہوتی اور میں غصہ کر جاتی ہوں اور جب بھی میری شوہر سے لڑائی ہوتی ہے تو مجھے لگتا ہے کہ میری نماز قبول نہیں ہو رہی اور عبادت سے دل ہٹ جاتا ہے میں کیا کروں

جواب

واضح رہے کہ   اللہ رب العزت کے نام کی حرمت بہت زیادہ ہے،بات بات پر قسم اٹھانے سے اللہ کے نام کی حرمت وعظمت دل میں کم ہوجاتی ہے،پھر انسان قسم توڑنے میں جری ہوجاتاہےاور اللہ کے نام کی

صورتِ مسئولہ میں آپ اپنی عبادات اور نمازوں  کا اہتمام جاری رکھیں  اور اللہ تعالی سے دین و ایمان اور ہر  اعمال پر استقامت کے لیے مندرجہ ذیل دعاؤں کا اہتمام فرمائیں :

“( اللّٰهُمَّ إِنِّى أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِى الأَمْرِ وَأَسْأَلُكَ عَزِيمَةَ الرُّشْدِ وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ وَأَسْأَلُكَ لِسَانًا صَادِقًا وَقَلْبًا سَلِيمًا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ وَأَسْتَغْفِرُكَ مِمَّا تَعْلَمُ إِنَّكَ أَنْتَ عَلاَّمُ الْغُيُوبِ.)”

“(رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ.)”

” (اللّٰهُمَّ يَا مُقَلِّبَ القُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ.)”

” (اللّٰهُمَّ أَعِنِّيْ عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ)”

اور اپنے شوہر سے اچھے انداز سے پیش آئیں اور ان کی باتوں سے درگزر کریں۔

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

“أللهم إني أسألك الثبات في الأمر أي في جميع الأمور المتعلقة بأمر الدين والعزيمة على الرشد، وهي كالعزم عقد القلب على إمضاء الأمر، وقدم الثبات على العزيمة وإن كان فعل القلب مقدما على الفعل والثبات عليه، اشارة إلى أنه المقصود بالذات؛ لأن الغايات مقدمة في الرتبة وإن كانت مؤخرة في الوجود؛ لقوله تعالى: الرحمن علم القرآن، خلق الإنسان، وكذا حققه الطيبي، وفي الصحاح: عزمت على الأمر عزما وعزيمة إذا أردت فعله وقطعت عليه اھ والرشد: بضم الراء وسكون المعجمة ويروى بفتحهما بمعنى الهداية، والمراد لزومها ودوامها.”

(باب الدعاء في التشهد: ج:4، ص: 38، ط: المشکاة الإسلامیة)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *