سوال
ایمان کی تعریف کیا ہے تفصیلاً؟
جواب
ایمان کی تعریف کتبِ فقہ و عقائد میں یوں کی گئی ہے:
“هو التصدیق بما علم بالضرورۃ مجیئ الرسول صلی اللہ علیه وسلم به إجمالا فیما علم إجمالا، وتفصیلا فیما علم تفصیلا.”
”یعنی نبی کریم ﷺ کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے جن احکام کو لانا یقینی اور بدیہی طور پر ثابت ہے، ان سب کی تصدیق کرنا؛ جو باتیں آپ ﷺ نے اجمالاً بیان فرمائیں ان کی اجمالاً، اور جو تفصیلاً بیان فرمائیں ان کی تفصیلاً تصدیق کرنا۔“
اس تعریف میں لفظ تصدیق سے محض جاننا یا صحیح سمجھنا مراد نہیں، اس لیے کہ اگرچہ لغوی اعتبار سے تصدیق کا مطلب صرف دل سے کسی چیز کو جاننا یا صحیح سمجھنا ہے، مگر شرعاً تصدیق کا مفہوم اس سے وسیع ہے، جس میں تین امور شامل ہیں:
(1)معرفت یعنی جاننا اور پہچاننا جس کی ضد جہالت ہے (2)اذعان یعنی دل سے یقین کرنا اور سچ ماننا جس کی ضد شک اور تکذیب ہے (3) انقیاد واستسلام یعنی دل سے ماننا، جھک جانا، اور اطاعت و پیروی کو لازم سمجھنا جس کی ضد انکار اور سرکشی ہے۔
گویا ایمان کی حقیقت اگرچہ محض دل کے یقین اور علم پر قائم ہے، لیکن شریعت نے ایمان کے تحقق کے لیے معرفت و اذعان کے ساتھ انقیاد و تسلیم کو بھی شرط قرار دیا ہے، لہٰذا صرف تصدیقِ قلبی یعنی علم و یقین کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ دل کا انقیاد و تسلیم بھی ضروری ہے۔
علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ نے ’’رد المحتار‘‘ میں تصدیق کا یہی مطلب بیان فرمایا ہے کہ:”معنی التصديق قبول القلب وإذعانه”یعنی تصدیق سے مراد ہے دل کا قبول کرنا اور جھک جانا۔
علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ نے فتح الملہم میں اس مسئلے پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے واضح فرمایا ہے کہ لغوی اعتبار سے تصدیق کا معنی علم و یقین ہے، مگر شرعی لحاظ سے ایمان و تصدیق کے تحقق کے لیے علم و یقین کے ساتھ ایک نفسی کلام بھی ضروری ہے، جس کا حاصل وہی انقیاد و استسلام ہے۔ چونکہ انقیاد و استسلام ایک باطنی امر ہے جو دل میں پوشیدہ ہوتا ہے، اس لیے شریعت نے اس کے ظاہری ثبوت کے لیے قول یا فعل میں سے کسی ایک علامت کا پایا جانا بھی لازم قرار دیا ہے تاکہ ایمان کے صدق کا اظہار ظاہر میں بھی ہو۔
فقہائے کرام نے اس کی دو علامتیں بیان فرمائی ہیں:
ایک یہ کہ ایمان لانے والا اسلام کا زبانی اقرار کرے اور اپنے سابق باطل دین یا عقائد سے علانیہ براءت کا اعلان کرے، اور دوسری یہ کہ مسلمانوں کے مخصوص اعمال بجا لانا شروع کرے، جیسے باجماعت نماز پڑھنا، مسجدِ شرعی میں اذان دینا یا مناسکِ حج ادا کرنا، تاکہ لوگوں کو واضح ہو جائے کہ یہ شخص اپنا سابق مذہب چھوڑ کر اسلام میں داخل ہو چکا ہے۔
تاہم جو شخص نسلاً مسلمان ہو، اس کے لیے الگ سے اظہارِ انقیاد ضروری نہیں، کیونکہ مسلمانوں کے معاشرے میں اس کا شامل ہونا ہی اس کے ایمان و اسلام کی علامت ہے۔ ’’الدرالمختار‘‘ اور ’’رد المحتار‘‘ میں اسی بنا ءپر فرمایا گیا کہ انقیاد کے ہونے یا نہ ہونے کا مدار عرف پر ہے، اس لیے کسی کافر کو تب تک مسلمان نہیں کہا جا سکتا جب تک وہ ایسا اظہارِ اسلام نہ کرے جس سے عام طور پر سمجھا جائے کہ وہ ایمان لا چکا ہے۔
اگر کوئی شخص محض سیاسی مصلحت کے طور پر یا محض اداکاری و نمائش کے لیے میڈیا یا جلسے میں اسلام کا اقرار کرے تو صرف اس زبانی اعلان سے وہ مسلمان نہیں سمجھا جائے گا، جب تک کہ حقیقی تسلیم و انقیاد ظاہر نہ ہو۔
نیز ایمان کے معتبر ہونے کے لیے ظاہری علامت کے ساتھ ساتھ ایمان کے منافی امور سے اجتناب بھی ضروری ہے، مثلاً جان بوجھ کر کلمۂ کفر زبان پر نہ لانا، دین یا احکامِ شریعت کا مذاق نہ اڑانا، ایسے قول یا فعل کا ارتکاب نہ کرنا جو دین کی بے وقعتی یا انکار پر دلالت کرے، جیسے بتوں کو سجدہ کرنا یا کفار کے مذہبی شعائر اختیار کرنا، اور کسی قطعی یا بدیہی حکمِ شرعی کا انکار یا اس کی خلافِ ظاہر تاویل نہ کرنا، مثلاً ختمِ نبوت کا انکار۔
لہٰذا اگر کوئی کافر ظاہری انقیاد کے ساتھ ساتھ ایمان کے منافی ان باتوں میں سے کسی ایک کا بھی مرتکب ہو تو اس کا ایمان معتبر نہیں بلکہ وہ حسبِ سابق کافر ہی رہے گا، اور اگر ایمان لانے کے بعد ان میں سے کسی امر کا ارتکاب کرے تو پہلی تین صورتوں میں وہ مرتد اور آخری صورت میں زندیق کہلائے گا۔
جیسا کہ التعریفات میں ہے :
“الإيمان في اللغة التصديق بالقلب وفي الاعتقاد بالقلب والإقرار باللسان.”
(ج: 1، ص: 60، ط: دارالکتاب العربی ،بیروت)
البحرالرائق میں ہے :
“والإيمان التصديق بجميع ما جاء به محمد عن الله تبارك وتعالى مما علم مجيئه به ضرورة.”
(کتاب السیر، باب أحكام المرتدين، ج: 5، ص: 129، ط: دارالمعرفة، بیروت)
فتح الملہم میں ہے:
“التصدیق علی التحقیق کلام النفس ولکن لا یثبت إلا مع العلم الخ.
قال ابن الهمام وظاھر عبارۃ الأشعری في هذا السیاق أن التصدیق کلام للنفس مشروط بالمعرفة، یلزم من عدمها عدمه، ویحتمل أن الإیمان هو المجموع من المعرفة والکلام النفسی فیکون کل منھما رکنا من الإیمان، فلا بد في تحقیق الإیمان علی کلا الاحتمالین من المعرفة أعنی إدراک مطابقة دعوی النبي صلی ﷲ علیه وسلم للواقع، ومن أمر آخر هو الاستسلام الباطن والانقیاد بقبول الأوامر والنواهي المستلزم للإجلال وعدم الاستخفاف (مع التبری من الکفر الذی کان فیه) وهذا الاستسلام الباطن هو المراد بکلام النفس، وبه عبر المصنف (أي الغزالي) في کلامه علی الإیمان والإسلام، وإنما قلنا أنه لابد مع المعرفة من الأمر الآخر وهو الاستلام الباطن لما تقدم من ثبوت مجرّد تلك المعرفة مع قیام الکفر الخ قال العلامة الزبیدي في شرح الإحیاء: الأظهر أن التصدیق قول للنفس غیر المعرفة لأن المفهوم من التصدیق لغة هو نسبة الصدق إلی القائل، وهو فعل والمعرفة لیست فعلًا إنما هي من قبیل الکیف المقابل لمقولة الفعل فلزم خروج کل من الانقیاد الذی هو الاستسلام و من المعرفة عن مفهوم التصدیق لغة مع ثبوت اعتبارهما شرعاً في الإیمان، وثبوت اعتبارهما بهذا الوجه علی أنها جزءان لمفهومه شرعًا أو شرطان لاعتبارہ لإجراء أحکامه شرعًا، والثانی وهو الأوجه ،إذ في الأول یلزم نقل الإیمان من المعنی اللغوی إلی معنی آخر شرعی، وهو بلا دلیل یقتضی وقوعه منتف لأنه خلاف الأصل فلا یصار إلیه إلا بدلیل ولا دلیل بل قد کثر في الکتاب والسنة طلبه من العرب، وأجاب من أجاب إلیه دون استفسار عن معناہ، وإن وقع استفسار منھم فإنما هو عن متعلق الإیمان وعدم تحققق الإیمان بدون المعرفة والاستسلام لا یستلزم جزئیة هما لمفھومه شرعًا لجواز أن یکونا شرطین للایمان شرعًا وحقیقة التصدیق بالأمور الخاصة بالمعنی اللغوی وإذا تقرر ذلك ظهر ثبوت التصدیق لغة بدونھما مع الکفر الذی ھو ضد الایمان اھـ۔
وناقش فی بعضه العلامة الآلوسی رحمه ﷲ فقال بعد کلام: وحاصل ذلك منع حصول التصدیق للمعاند فإنه ضد الإنکار، وإنما الحاصل له المعرفة التی هي ضد النکارۃ والجهالة، وقد اتفقوا علی أن تلك المعرفة خارجة عن التصدیق اللغوي وهو المعتبر في الإیمان.”
(کتاب الإیمان، ج: 1، ص: 437، ط: دارالعلوم کراتشی)
فقط واللہ اعلم
