سوال:۷۸۳۔ ایک شخص پر حج فرض تھا وہ انتقال کر گیا اس نے اپنے حج کے سلسلہ میں کوئی وصیت بھی نہیں کی تھی ۔ لیکن اس کے انتقال کے بعد اس کے بیٹے نے اپنے مرنے والے باپ کی طرف سے کسی شخص کو حج کے لئے بھیج دیا ۔ کیا اس طرح بھیجنے سے باپ کا حج ہو جائے گا ۔ اور کیا باپ کا حج بدل مان لیا جائے گا ۔ سائل شریف ۔

محرم،أخرجہ البزّار، وفی الصحیحین،لا تسافر المرأۃ الّا مع محرم وفی روایۃ الّا ومعہا زوج أو ذو محرم، عمدۃ الرعایۃ فی حلّ شرح الوقایۃ ۔
قولہ علیہ السلام لا یحلّ لامراۃ تو من باﷲ والیوم الآخر أن تسافر فوق ثلٰثۃ أیام ولیالہا الّا ومعہا ابوہا أو زوجہا أو ذو محرم منہا ص۱۲ ۔ رواہ الطبرانی عن أبی أمامۃ رفعہ لا تحلّ لامرأۃ مسلمۃ أن تحجّ الّا مع زوج أو ذی رحم محرم رواہ محمد فی الآثار بروایۃ سعد،کذا فی احسن الحواشی علیٰ اصول الشاشی ﴾
سوال: ۷۸۱۔ کوئی صاحب اپنے  والد کو جو مرحوم ہو چکے  ہیں ، حج بیت اﷲ کا ثواب دلانے  کے  لئے  کسی حاجی صاحب کو اپنے  ساتھ لیجانا چاہتے  ہیں۔ ان کے  خیال میں  کسی غیر حاجی کو ساتھ لیجانے  سے  والد مرحوم کو ثواب نہ ہو گا ۔ (۱) اگر مسلمان غیر حاجی حج کو جائے  تو کیا اسے  اور والد مرحوم کو ثواب ہو گا ۔ (۲) کیا صرف ساتھ لیجانے  والے  کو ہی ثواب ہو گا ۔ (۳) کیا والد مرحوم کو ثواب پہنچانے  کے  لئے  کسی حاجی ہی کو ساتھ لے  جانا ہو گا ۔ فقط عبد الرحیم سکینہ میٹھی کوٹھی پہاڑگنج جے  پور ۔

الجواب :۔ یہ صورت حج بدل کی ہے۔ حج بدل کے  لئے  ایسے  ہی شخص کو لیجانا یا بھجانا چاہئے  جو اپنا حج پہلے  کر چکا ہو ۔ حج بدل کرانے ،حج بدل کرنے  اور جس کے  واسطے  حج بدل کیا جا رہا ہے  تینوں  ہی کو اﷲ تعالیٰ سے  ثواب ملیگا ۔ اور تینوں  انشاء اﷲ اجر ونیکی پائیں  گے۔ فقط ۱۶! فروری ۱۹۸۹ء؁ احمد حسن ۔
﴿ توضیح : ۔ جس شخص پر خود کا حج فرض ہو اور وہ اپنا حج نہ کرے  بلکہ حج بدل کرے  تو یہ مکروہ تحریمی ہے ، لیکن اگر اس پر خود کا حج فرض نہیں  تو اس کا حج بدل کے  لئے  جانا کراہت تنزیہی یا خلاف أولیٰ ہے ،علامہ شامی ؒ فرماتے  ہیں  ﴾
﴿  ولا یخفی أن التعلیل یفید ان الکراہۃ تنزیہیۃ لأن مراعاۃ الخلاف مستحبۃ فافہم والأفضل احجاج الحر العالم بالمناسک الذی حجّ عن نفسہ وذکر فی البدائع کراہۃ احجاج الصرورۃ لأنہ تارک فرض الحجّ ۔ ۔ ۔ تحریمیۃ علی الضرورۃ الذی اجتمعت فیہ شروط الحج ولم یحجّ عن نفسہٖ لأنہ أثم بالتاخیر، رد المحتار ج۲ ص ۲۶۲، رشیدیہ کوئٹہ ﴾
﴿اِنّ اﷲ لیدخل بالحجۃ الواحدۃ ثلٰثۃ نفرٍ الجنۃ المیتٰ
والحاجَّ عنہ والمنفذَ لذلک، عن جابرؓ کذا فی الکنز﴾
سوال:۷۸۲۔ حج کے  فارم بھرے  جانے  کا وقت آ گیا ہے۔ زید پر حج فرض ہو چکا ہے  وہ اچھا جوہری اور مالدار ہے  تندرست بھی ہے  سفر بھی کرتا رہتا ہے  کیا وہ خود حج پر نہ جا کر اپنے  بدل میں  کسی شخص کو حج کے  لئے  بھیج کر حج کی فرضیت سے  سبکدوش ہو جائے  گا ۔ فقط عبدالقادر تکیہ آدم شاہ جے  پور

جواب :۔ ایسا کرنا جائز نہیں۔ ان حالات میں  کسی دوسرے  کو اپنے  عوض میں  حج پر بھیجدینے  سے  زید کا حج ادا نہو گا ۔ ولجواز النیابۃ فی الحج منہا أن یکون المحجوج عنہ عاجزاً عن الاداء بنفسہ ولہ مال فان کانَ قادراً علی الآداء بنفسہ بأن کان صحیح البدن ولہ مالٌ لا یجوز حجّ غیرہ عنہ ۔ باب ۱۴ فی الحج عن الغیر من کتاب المناسک فی الفتاویٰ الہندیہ ۔ ۱! فروری ۱۹۸۸ء؁ احمد حسن غفرلہ ۔
﴿ فتاویٰ عالمگیری نولکشور ص ۲۰۳ ج۱﴾
سوال:۷۸۳۔ ایک شخص پر حج فرض تھا وہ انتقال کر گیا اس نے  اپنے  حج کے  سلسلہ میں  کوئی وصیت بھی نہیں  کی تھی ۔ لیکن اس کے  انتقال کے  بعد اس کے  بیٹے  نے  اپنے  مرنے  والے  باپ کی طرف سے  کسی شخص کو حج کے  لئے  بھیج دیا ۔ کیا اس طرح بھیجنے  سے  باپ کا حج ہو جائے  گا ۔ اور کیا باپ کا حج بدل مان لیا جائے  گا ۔ سائل شریف ۔

جواب :۔ ایسا کرنے  سے  باپ کی طرف سے  حج کا بدل مان لیا جائے  گا ۔ اور ایسا کرنا باپ کے  حج کے  لئے  کافی ہو جائے  گا ۔ نعم یجزئہ ان شاء اﷲ تعالیٰ کما صرّح بذلک مفصلاً فی النہر ۔ فتاوی حامدیہ ص۱۵ ج اول ۔
وان لم یوص بہ أی بالاحجاج فتبرّع عنہ الوارث وکذا من ہم أہل التبرّع ۔ ۔ ۔  والمعنیٰ جاز عن حجۃ الاسلام ان شاء اﷲ تعالیٰ ۔ ۔ ۔  حتی لومات رجل بعد وجوب الحجّ ولم یوص بہ فحجّ رجل عنہ أو حجّ عن أبیہ أو أمّہ عن حجۃ الاسلام من غیر وصے ّۃ قال أبو حنیفۃ یجزیہ ان شاء اﷲ الخ، رد المحتار ص۲۵۹ ج۲۔ رشیدیہ کوئٹہ ۔
سوال:۷۸۴۔ ایک شخص ریاح کا مریض ہے  ہر وقت اس کے  ریاح نکلتے  رہتے  ہیں۔ حج کی حالت میں  وہ خانہ کعبہ کا طواف کیسے  کرے  گا ۔ فقط عبد الرحیم
جواب :۔ اگر حالات ایسے  ہی ہیں  تو وہ بلا وضو طواف کرے  گا ۔ ( الضرورات تبیح المحظورات ) ۲۲! ربیع الاول ۱۴۱۰ھ؁

2 میں سے 284

﴿ ومثلہ فی احسن الفتاوی ص۵۵۷ ج۴ ﴾
سوال: ۷۸۵۔ احرام حج کی حالت میں  زید نے  اپنی زوجہ کو بوسہ وکنار کر لیا جماع تو نہیں  کیا لیکن اسی بوس وکنار کی حالت میں  زوج کو انزال بھی ہو گیا ۔ کیا زید کا حج فاسد ہو گیا یا اسے  کوئی قربانی دیدینا چاہئے۔ عبد الرحیم اجمیری دروازہ ۔ جے  پور
جواب :۔ حج فاسد نہیں  ہوا ۔ لیکن زید پر ایک قربانی واجب ہے۔ الجماع فی ما دون الفرج واللمس والقبلۃ لشہوۃ لا یفسد الحج والعمرۃ انزل أو لم ینزل وعلیہ دم ۔ ص ۱۹۳ فصل ۴ کتاب المناسک فتاویٰ عالمگیری ج اول ۲۹! ذی حجہ ۱۳۹۵ھ؁ احمد حسن غفرلہ
﴿مطبوعہ نولکشور﴾
سوال:۷۸۶۔ ایک شخص نے  حج کر لیا لیکن قربانی سہواً نہ کر سکا اس کا حج قبول ہوا یا نہیں ، کیا اب اس پر حج کے  بعد قربانی کرنا ضروری ہے  یا نہیں  فقط ۔ حسین احمد ولد عبد الحکیم فتح پور شیخاواٹی،راجستھان

الجواب :۔ اس وقت اگر قربانی رہ گئی ہے۔ ۔ ۔  پھر امور حج کی تکمیل ہو جائے  گی، اور قبولیت حج کی اﷲ سے  امید کیجا سکتی ہے  فقط ۲۸! ذی الحجہ ۱۴۰۸ھ؁
توضیح
ولا یجوز ذبح ہدی المتعۃ والقران الّا فی یوم النحر کذا فی الہدایۃ ۔ ۔ ۔  وبعدہ کان تارکاً للواجب عند الامام فیلزمہ دم ہکذا فی البحر الرائق ۔ ۔ ۔  ولا یجوز ذبح الہدایا الّا فی الحرم کذا فی الہدایۃ ۔ فتاوی عالمگیری ص۲۰۷ ج۱۔ مطبوعہ نول کشور
ہدایہ اول ص ۳۰۰ ۔ کتاب الحج باب الہدی
ولا یجوز ذبح الہدایا الّا فی الحرم لقولہٖ تعالیٰ فی جزاء الصید ہدیاً بالغ الکعبۃ فصار أصلاً فی کلّ دم ہو کفارۃٌ ولأن الہدی اسم لِما یہدی الیٰ مکان ومکانہ الحرم قال علیہ السلام منیٰ کلّہا منحر وفجاج مکۃ کلّہا منحر ہدایہ ص۳۰۱ ج۱۔
ولا یذبح الّا بمکۃ،ہدایہ ص۲۸۰ ج۱۔ فان حلق القارن قبل أن یذبح فعلیہ دمان ص۲۷۷
عبارت مذکورہ بالا سے  معلوم ہوا کہ اگر یہ شخص مفرد تھا تب تو قربانی واجب نہ تھی لیکن اگر متمتع یا قارن تھا تو اس پر دم شکر (ایک قربانی ) واجب تھی ۔
اور چونکہ قربانی سے  پہلے  حلق یا قصر کر الیا اس لئے  دم جنایت واجب ہو گئی اور ایام نحر گذر چکے  اور قربانی نہ کی اس لئے  دوسرا دم جنایت واجب ہو گیا ۔ لہذا اس اعتبار سے  متمتع پر تین قربانیاں  واجب ہو گئیں  جن کو حدود حرم میں  کیا جانا چاہئے۔
اس لئے  کہ حج کی قربانی اور دم جنایت کا حدود حرم میں  کیا جانا ضروری ہے  فقط واﷲ اعلم وعلمہ أعلیٰ وأتم حر رہ العبد محمد ذا کر غفرلہ ۲۵! شعبان المعظم ۱۴۳۲ھ؁

فتاوی حکمت جلد 1 – یونیکوڈ – غیر موافق للمطبوع صفحہ 282

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *