گائے اور بکرے کے گوشت سے متعلق روایت کی تحقیق

سوال

کیا ایسی کوئی حدیث ہے جس میں کہا گیا ہو کہ: ”گائے کے گوشت میں بیماری ہے اور بکرے کے گوشت میں شفا ہے؟“

جواب

سوال میں مذکور الفاظ یا اسی مفہوم کی کوئی روایت معتبر  کتُبِ حدیثِ  میں نہیں ملی، بلکہ صحیح احادیث سے یہ ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود گائے اور بکرے کا گوشت تناول فرمایا ہے، ذیل میں متعلقہ روایات ذکر کی جاتی ہیں۔

صحیح بخاری میں ہے:

“عن الزهري قال: أخبرني جعفر بن عمرو بن أمية: أن أباه عمرو بن أمية أخبره: أنه رأى النبي صلى الله عليه وسلم ‌يحتز ‌من ‌كتف ‌شاة في يده فدعي إلى الصلاة، فألقاها والسكين التي يحتز بها، ثم قام فصلى ولم يتوضأ.”

(كتاب الأطعمة، باب: قطع اللحم بالسكين، 5/ 2065، ط: دار ابن كثير)

وفيه أيضا:

“عن عبد الله بن عباس: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌أكل ‌كتف ‌شاة، ثم صلى فلم يتوضأ.”

(كتاب الوضوء، باب: من لم يتوضأ من لحم الشاة والسويق، 1/ 86، ط: دار ابن كثير)

صحیح مسلم میں ہے:

“عن عائشة  وأتي النبي صلى الله عليه وسلم بلحم بقر، فقيل: هذا ما تصدق به على بريرة فقال: ‌هو ‌لها ‌صدقة، ولنا هدية.”

(كتاب الزكاة،‌‌باب إباحة الهدية للنبي صلى الله عليه وسلم، ولبني هاشم، 3/ 120، ط: دار المنهاج)

امدادالفتاوی میں ہے:

ثبوتِ لحم بقر خوردن آنحضور

سوال(۴۹۷) : رسول اللہ ﷺکبھی گائے کا گوشت کھائے یا نہیں ؟ اگرکھائے تو کون سی کتاب ہے؟ آگاہ فرماکر سرفراز فرماویں ۔
الجواب“عن أبي الزبیر عن جابر قال: ذبح رسول اللّٰہ ﷺ عن عائشة بقرۃً یوم النحر.” (صحیح مسلم کتاب الحج ج ۱ ص ۴۲۴)
وعن الأسود عن عائشة وأتي النبي صلى الله عليه وسلم بلحم بقرۃ، فقیل: هذا ما تصدق به علی بریرۃ، فقیل: هو لھا صدقة، ولنا هدیة.” (صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ، ج۱، ص ۳۴۵).
 حدیث اول میں ذبح بقرہ اور حدیث ثانی سے دستر خوان پر لحم بقرہ کا حاضر ہونا اور مانع عن الاکل کا جواب دینا جس کا لازم عادی ہے نوش فرمانا یہ سب تصریحاً حضور اقدس ﷺسے ثابت ہے۔ (۱۷ ذِی الحجہ ۱۳۴۵؁ھ(تتمہ ص ۵۵۱ ج ۵) ۔“

(کتاب العقائدوالکلام، 6/ 197، ط: مکتبۂ دار العلوم کراچی)
فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144706100676

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *