ایمان و عقائد
سوال
تقریباًتیس سال پہلے ہمارے والدصاحب اور بڑے بھائی نے ایک زمین خریدی ،والدصاحب کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں تھا،ہمارے یہی بڑے بھائی برسرِروزگار تھے،اور گھر کا پورا خرچ بھی وہ اٹھاتےتھے،اس لیے مذکورہ زمین کی مکمل قیمت بھی انہوں نے اپنی کمائی سے ادا کی،اس بات پر ہم تمام بھائی متفق ہیں ،اب والدصاحب کا انتقال ہوگیاہے،والدصاحب کا ترکہ تقسیم کرنا ہے ،لیکن پریشانی یہ ہے کہ مذکورہ مکان والد صاحب اور بڑے بھائی میں میں سے کسی ایک نے خریدا ہے،اس لیے اس کو ترکہ میں شامل کرنے یا نہ کرنے کےلیے اس با ت کا طے کرنا ضروری ہےکہ اس مکان کا اصل مالک کون ہے؟بھائی کا کہنا ہےکہ اس مکان کے خریدے ہوئے تیس سال ہوگئے ہیں،مجھے صرف اتنا یاد ہے کہ تمام رقم کی ادائیگی میں نے کی تھی،البتہ یہ یاد نہیں کہ خریدنے کااصل معاملہ والدصاحب نےکیا تھا،اور میں محض ایک معاون تھا،یا زمین کی خریداری کا فیصلہ بھی میراتھا،چوں کہ جب تک اصلی خریدار کا تعین نہیں ہوتااس وقت تک اس کو میراث سمجھ کر تقسیم کرنا یا پھر بھائی کی ملکیت قرار دے کر اس کے حوالے کردینا نا ممکن ہے، اس لیے برائے مہربانی ہمیں اس کا حل ارشاد فرمائیں کہ اس کا اصل مالک کون ہے۔
جواب
صورتِ مسئولہ میں جس گھر کی خریداری کے لیے سائل کے والد صاحب اور بھائی گئے تھے، اور یہ واضح نہیں کہ گھر کس کے لیے خریدا جا رہا تھا، چونکہ والد صاحب کا انتقال ہوچکا ہے، اور بھائی کوبھی ابھی یاد نہیں کہ یہ خریداری کس کے لیے تھی، البتہ یہ طے ہے کہ گھر کی خریداری میں پیسے بھائی کے دیے گئے ہیں،لہذا بھائی کی بات کا اعتبار ہو گا، اگر وہ خود رکھنا چاہے تو رکھے، اور اگر والد کے ترکہ میں تقسیم کرنا چاہتا ہے، تو ترکہ میں تقسیم کر دیں۔
درر الحكام ميں ہے:
“و يوجد ثلاثة شروط لأجل اعتبار الولد معينا لأبيه:1 – اتحاد الصنعة، فإذا كان الأب مزارعا والابن صانع أحذية فكسب الأب من المزارعة والابن من صنعة الحذاء، فكسب كل منهما لنفسه وليس للأب المداخلة في كسب ابنه لكونه في عياله.
وقول المجلة: (مع ابنه) إشارة لهذا الشرط. مثلا إن زيدا يسكن مع أبيه عمرو في بيت واحد ويعيش من طعام أبيه وقد كسب مالا آخر فليس لإخوانه بعد وفاة أبيه إدخال ما كسبه زيد في الشركة …(ولده) ليس احترازيا فالحكم في الزوجة والإخوة على الوجه المذكور أيضا وذلك لو عمل أحد في صنعة مع زوجته الموجودة في عيال و اكتسبا أموالًا فكافة الكسب للزوج وتعد الزوجة معينة (الهندية) أما إذا كان للزوجة كسب على حدة فكافة الكسب لها و لاتعد معينة للزوج.”
(كتاب الشركة :المادة:1398:ج:3:ص:420:ط:دار الجيل)
فتاوی شامی میں ہے:
“إعلم أن أسباب الملك ثلاثة :ناقل كبيع وهبة خلافة كإرث وأصالة،وهو الاستلاء حقيقة ّ بوضع اليد أو حكماّبالتهيئة كنصب شبكةالصيد لا لجفاف على المباح الحالي عن مالك ،فلو استلوى في مفازة على حطب غيره لم يمكله ولم يحل للمقلش مايجده بلاتعريف وتمام التفريع في المطولات.”
(کتاب الصید،ج:6،ص:463،ط:سعید)
فتاوی دار العلوم دیو بند میں ہے:
ایک بیٹے نے اپنے ذاتی روپے سے جو جائداد خریدی اس کا مالک تنہا وہی ہے:
سوال : باپ اور چار فرزند ایک مکان میں رہتے تھے، اور باپ کو وظیفہ ملتا تھا ، فرزند اکبر نے جو جائداد اپنی محنت سے خریدی اس کا مالک کون ہے؟
الجواب : فرزنداکبر نے اگر وہ جائداد اپنے کسب اور محنت اور اپنے ذاتی روپے سے خرید کی تھی تو مالک اس کا تنہا وہی ہے ، دوسرے بھائیوں کا اس میں کچھ حصہ اور حق نہیں ہے ۔
(شرکت اور بٹوارہ ،ج:13،ص:68،ط:دارالاشاعت)
فقط واللہ اعلم
(کتاب الطلاق، الباب السادس، ج:1، ص:470، ط:المكتبة الرشيدية كوئته)
فقط واللہ اعلم
