سوال
ایک مسلمان شخص نےایک ملک کی ہجرت کرنےکےلیےاپنےآپ کوعیسائی ظاہرکیا،اس کاکہناہےکہ میں دل سےاسلام کوسچامذہب مانتاہوں اورمیرامقصدصرف ہجرت تھا۔ کیا اسلام میں ایساکرنےکی گنجائش ہے؟اگرنہیںتوایسےشخص کے بارے میں اسلام کے کیااحکامات ہیں؟۔
جواب
جرِ اسود جنت کے یاقوتوں میں سے ایک ہے جسے سیدنا آدم علیہ السلام اپنے ساتھ جنت سے لائے تھے, اور تعمیر بیت اللہ کے وقت ایک گوشہ میں نصب فرمایا تھاجس طرح مسلمان ہونےکےاقرارسےآدمی مسلمان شمارہوجاتاہے اسی طرح غیرمسلم ہونے کےاقراریااظہارسےآدمی غیرمسلم، کافرہوجاتاہے،اس شخص پرتجدید ایمان وتجدید نکاح لازم ہے۔ فقط واللہ اعلم
“أما تفسیرها فھي تملیك المال من فقیر مسلم غیر هاشمي ولامولاہ بشرط قطع المنفعة عن المملك من کل وجه لله تعالی هذا في الشرع.”
(کتاب الزکوۃ، الباب الاول فی تفسیرالزکوۃ،ج:1 ص:170،ط:مکتبه حقانیه)
فقط واللہ اعلم
دار الافتاء:دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر:144506102743
تاریخ فتویٰ:11-01-2024
اصل ماخذ لنک:زکوۃ میں ملنے والی رقم سے حج
