سوال
نماز میں کتنے فرائض ہیں ؟
جواب
واضح رہے کہ اللہ رب العزت کے نام کی حرمت بہت زیادہ ہے،بات بات پر قسم اٹھانے سے اللہ کے نام کی حرمت وعظمت دل میں کم ہوجاتی ہے،پھر انسان قسم توڑنے میں جری ہوجاتاہےاور اللہ کے نام کی
نماز میں چھ فرائض ہیں :
(1)تکبیر تحریمہ
(2)قیام یعنی کھڑا ہونا،اگر آدمی کھڑے ہونے پر قادر ہو تو بغیر کھڑے ہوئے نماز صحیح نہیں ہوتی ، فرض اور واجب نمازوں میں قیام فرض ہے۔
(3) قراءۃ (تلاوت کرنا)
(4)رکوع
(5)سجود ،یعنی سجدہ کرنا ،ہر رکعت میں دومرتبہ فرض ہے۔
(6) قعدہ اخیرہ مقدار ِ تشہد، یعنی تشہد پڑھنے کے بقدر قعدۂ اخیرہ میں بیٹھنا۔
حضرات حنفیہ کے نزدیک نماز سے نکلنے کے لیے لفظ ’’سلام‘‘ واجب ہے۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 442):
“(من فرائضها) التي لا تصح بدونها (التحريمة) قائما (وهي شرط) في غير جنازة على القادر به يفتى، فيجوز بناء النفل على النفل وعلى الفرض وإن كره لا فرض على فرض أو نفل على الظاهر ولاتصالها بالأركان روعي لها الشروط وقد منعه الزيلعي ثم رجع إليه بقوله ولئن سلم، نعم في التلويح تقديم المنع على التسليم أولى، لكن نقول الاحتياط خلافه. وعبارة البرهان: وإنما اشترط لها ما اشترط للصلاة لا باعتبار ركنيتها، بل باعتبار اتصالها بالقيام الذي هو ركنها. (ومنها القيام) … (ومنها القراءة) لقادر عليها كما سيجيء وهو ركن زائد عند الأكثر لسقوطه بالاقتداء بلا خلف (ومنها الركوع) بحيث لو مد يديه نال ركبتيه (ومنها السجود) … (ومنها القعود الأخير).”
العنایہ شرح الہدایہ میں ہے :
“ثم إصابة لفظ السلام واجبة عندنا، وليست بفرض”. (2/22)
