سوال
اگرکوئی شخص دوسرے سے معافی مانگے لیکن دوسرا اسے معاف نہ کرے بلکہ غصہ میں کہہ دے تیرے اوپر اللہ کا غضب ہو ،تواس کا شرعی کیا حکم ہے؟ کیا ایسا شخص گناہ گار ہوگا؟
جواب
واضح رہے کہ اللہ رب العزت کے نام کی حرمت بہت زیادہ ہے،بات بات پر قسم اٹھانے سے اللہ کے نام کی حرمت وعظمت دل میں کم ہوجاتی ہے،پھر انسان قسم توڑنے میں جری ہوجاتاہےاور اللہ کے نام کی
سلام نے جہاں عدل و انصاف قائم کرنے کی تلقین فرمائی ہے، وہیں عفو و درگزر اور معاف کرنے کی بڑی فضیلت بھی بیان فرمائی ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ ظلم کے بقدر بدلہ لینا جائز ہے، لیکن معاف کر دینا زیادہ بہتر، افضل اور باعثِ اجر و ثواب ہے۔سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی عفو و درگزر کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں، فتح مکہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دشمنوں کو بھی معاف کر دیا تھا جنہوں نے آپ کو طرح طرح کی اذیتیں دی تھیں انہیں فرمایا تھا: ”جاؤ، آج تم پر کوئی گرفت نہیں“۔
لہٰذا مسلمان کے شایانِ شان نہیں کہ وہ کسی دوسرے مسلمان کو تکلیف یا ایذا پہنچائے۔ اگر کسی سے ایذا رسانی کا گناہ سرزد ہو جائے تو اس پر لازم ہے کہ وہ مظلوم سے معافی مانگے اور اس کی تلافی کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی توبہ اسی وقت قبول ہوگی جب اسے مظلوم معاف کردے، تاہم ظالم اگر اپنے کیےپر نادم ہو ،اور بارہا معافی مانگے اور مظلوم معاف نہ کرے، تو اس کا یہ طرزِ عمل غیر پسندیدہ اور اخلاقِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہے۔الغرض، شریعت نے بدلہ لینے کا حق دیا ہے، لیکن معافی کو افضل قرار دیا ہے۔ معاف کرنے والا نہ صرف دنیا میں عزت پاتا ہے بلکہ آخرت میں بھی اللہ کی مغفرت اور عظیم اجر کا مستحق بنتا ہے۔
اور معافی مانگنے والے کو بددعا دینا، مثلاً یہ کہنا کہ ”تیرے اوپر اللہ کا غضب ہو“یا اس طرح کے الفاظ کہنا، ناجائز اور کہنے والا گناہ گار ہوگا، کیونکہ کہ ایسے الفاظ کہنے سے احادیث میں ممانعت وارد ہوئی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
“فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ” (الشوری: 40)
ترجمہ:”جو معاف کر دے اور اصلاح کر لے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔“
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:
{وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا ۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ} (النور: 22)
ترجمہ:” اور چاہیے کہ معاف کریں اور درگزر کریں کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تم کو معاف کرے اور اللہ بخشنے والا ہے۔“(از تفسیر عثمانی)
باری تعالی کا ارشاد ہے:
{خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ} [الأعراف: 199]
ترجمہ:”عادت کر درگزر کی اور حکم کر نیک کام کرنے کا اور کنارہ کر جاہلوں سے۔“(از تفسیر عثمانی)
اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
{وَالْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظَ وَالْعَافِيْنَ عَنِ النَّاسِ ۭ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ} [آلِ عمران: 134]
ترجمہ:”اور غصہ کے ضبط کرنے والے ہیں اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں اوراللہ تعالی ایسے نیکو کاروں کو محبوب رکھتا ہے۔“(بیان القرآن)
صحیح مسلم کی روایت ہے:
“عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: « ما نقصت صدقة من مال،وما زاد الله عبدا بعفو إلا عزا، وما تواضع أحد لله إلا رفعه الله.”
ترجمہ”صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا، اور جو بندہ معاف کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی عزت بڑھا دیتا ہے، اور جو اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ اسے بلندی عطا فرماتا ہے۔“
(كتاب البر والصلة والآداب، باب استحباب العفو والتواضع، ج: 8، ص: 21، ط:دار طوق النجاة)
شعب الایمان کی ایک روایت میں ہے:
عن سمرة قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم:”لا تلاعنوا بلعنة الله ولا بغضب اللهولا بالنار.”
ترجمہ:”تم آپس میں اللہ کی لعنت،اللہ کے غضب یا جہنم کی آگ کے ذریعے ایک دوسرے پر بددعا نہ کرو۔“
(فصل ومما يجب حفظ اللسان منه الفخر بالآباء، ج: 4، ص: 310، ط: دار الكتب العلمية)
صحیح بخاری میں ہے:
“عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده، والمهاجر من هجر ما نهى الله عنه.”
ترجمہ:”کامل مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، اور حقیقی مہاجر وہ ہے جو ان چیزوں کو چھوڑ دے جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔“
(کتاب الإیمان، باب المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده، ج: 1،ص: 11، ط: دار طوق النجاۃ)
شرح مسند ابی حنیفہ ملا علی القاری میں ہے:
“من لم يقبل عذر مسلم يعتذر إليه فوزره كوزر صاحب مكس:
وبه (عن علقمة، عن ابن بريدة، عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “من لم يقبل عذر مسلم يعتذر إليه) بناء على أنه واجب عليه أن يحسن الظن به في تحقيق عذره، وتصديق أمره (فوزره كوزر صاحب مكس) بفتح فسكون، أي ظلم ونقص، وهو بهذا المعنى، يشتمل كل معتد وجائر في حق الخلق، لكن الصحابة رضي الله عنهم فهموا أنه عليه الصلاة والسلام أراد فردا خاصا في هذا المقام.
(فقيل: يا رسول الله، وما صاحب مكس، قال: عشار) أي الظالم في أخذ عشره، والمعتدي في حق غيره، وإنما سمي عشارا لأنه يأخذ من الحربي الذي مر عليه في طريق التجارة عشر ماله بشروط، ومن الذمي نصف عشره، ومن المسلم ربع عشره، وأما اليوم فترقى في ظلمه حتى يأخذ ربع المال، بل ثلثه، بل نصفه، بل كله. والحديث رواه ابن ماجه، والضيا عن جودان بلفظ: من اعتذر إليه أخوه بمعذرة فلم يقبلها، كان عليه من الخطيئة مثل صاحب مكس.”
(ذكر إسناده عن علقمة بن مرثد، ج: 1، ص: 326، ط: دار الكتب العلمية)
ان احادیث کا مطلب یہ ہے کہ حقیقی مؤمن کی شان یہ ہے کہ وہ اپنی زبان کو بددعا اور لعنت سے پاک رکھتا ہے۔ وہ دوسروں کے لیے خیر اور بھلائی چاہتا ہے، نہ کہ ان کے لیے غضب اور ہلاکت۔ لہٰذا بددعا اور لعنت کے بجائے عفو و درگزر کا راستہ اختیار کرنا اور نرمی سے کام لینا مؤمن کی اصل صفت ہے۔
فتاوی رشیدیہ میں ہے :
“معافی طلب کرنے والے کو معاف نہ کرنا
”(سوال) اگر زید بکر کو یہ بہتان لگادے اور انبوہ کثیر میں یہ کہتا پھرے کہ مجھ کو بکر نے ایسے الفاظ کہے ہیں کہ میں بباعث شرم کے نہیں کر سکتا ہوں اور بکر زید سے دریافت کرے کہ اگر میں نےکوئی کلمہ نا شائستہ ایسا کہا ہو تو مجھ کو مطلع کروتا کہ میں معافی ساتھ تو بہ کے چاہوں مگر زید بباعث کسی وجہ معقول یا غیر معقول کے نہ کہے تو اس صورت میں خطا وار کون ہے؟
(جواب )اگر معافی چاہنے والے کو معاف نہ کرے تو یہ معاف نہ کرنے والا خاطی ہے۔“
(کتاب جواز و حرمت کے مسائل ، ص: 566، ط: عالمی مجلس تحفظ اسلام مبوب بطرز جدید)
فقط واللہ اعلم
