وقف کی تعریف اورحکم

سوال

1۔وقف کی تعریف کیاہے؟

2۔کون کونسی اشیاءکاوقف درست ہے؟

3۔وقف کاحکم کیاہے؟نیزوقف عام ووقف خاص کیاہے ؟

4وقف کےمتعلق واقف کی نیت کااعتبارہوگایانہیں ،اگرواقف نےصراحتاوقف کی نیت نہ کی ہوتوکیاعرف کےمطابق صدقہ جاریہ یا ایصال ثوب سمجھنادرست ہے؟

5۔مسجد،خانقاہ ،مدرسہ ،تبلیغی مرکز یاکوئی بھی ادارہ ہویہ کون سےوقف میں آتاہے؟ان جگہوں میں سےکہاں پرواقف کاتصرف پوراماناجائےگااورکن جگہوں  میں محدوداورکہاں بالکل بھی نہیں ؟

6۔وقف میں عوام دعوی کرسکتےہیں کہ یہ ہم سب کی مشترکہ ہے،اس میں جانی ،خاص کرمالی تعاون کیاہویانہ کیاہو؟

7۔جولوگ رقم مسجد،مدرسہ یاخانقاہ میں وقف کرتےہیں کیاوہ واپس لینےکاحق رکھتےہیں ؟

8۔گاؤں دیہات میں یہ عرف ہوتاہےکہ اگرمسجدمیں کوئی نیک کام کرناہوتوواقف کی اجازت کےبغیرناممکن ہے،توکیاایسےعرف کااعتبارہوگایانہیں؟

9۔کیاوقف کرنےکےبعدواقف کایہ کہنادرست ہےکہ میں خوداس کامتولی ہوں ،میں کام اپنےطریقےپرکروں گا؟

10۔ واقف کی جانب سے تخریب یاتعمیرمیں لوگ رکاوٹ ڈال سکتےہیں  ؟کیاعوم ازخودواقف کی اجازت کےبغیرتخریب یاتعمیرکرسکتےہیں کہ نہیں ؟اگرلوگ واقف کی مخالفت کریں توکیاواقف عدالت سےرجوع کرسکتاہے؟

جواب

واضح رہے کہ   اللہ رب العزت کے نام کی حرمت بہت زیادہ ہے،بات بات پر قسم اٹھانے سے اللہ کے نام کی حرمت وعظمت دل میں کم ہوجاتی ہے،پھر انسان قسم توڑنے میں جری ہوجاتاہےاور اللہ کے نام کی

1۔مال ِموقوف کو مالک کی ملکیت سے نکال کر اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں اس طورپردیناکہ اس مال سے حاصل ہونے والی آمدنی ہمیشہ نیک اور دینی کاموں میں خرچ کی جائے،  وقف کہلاتا ہے۔

2۔غیرمنقولی اشیاءجیسےگھر،زمین وغیرہ میں وقف بالکل درست ہے،اورمنقولی اشیاءکےوقف میں اگرتعامل ہوجیسےقرآن مجیدکاوقف تودرست ہے،لیکن اگرتعامل  نہ ہوتوغیرمنقولی  کےتابع کرکےتومنقولی اشیاءکاوقف درست ہوگا،البتہ اصالۃً وقف درست نہیں ہوگا۔

3۔شرائط وقف کی پاسداری کےساتھ جب کوئی چیزوقف کردی جائےتوموقوفہ چیزتاقیامت مالک کی ملکیت سےنکل کرخالق کائنات کی ملکیت میں داخل ہوجاتی ہے،جس کے  نتیجےمیں موقوفہ چیز کسی کوہبہ کرنا،فروخت کرنایاواقف کےورثہ میں تقسیم کرناجائزنہیں ہوتا۔

بلاتعیین کےوقف کرناوقف عام کہلاتاہے،جبکہ مخصوص افراد،ادارہ کےلیےوقف کرناوقف خاص کہلاتاہے۔

4۔محض وقف کی نیت سےوقف تام نہیں ہوتابلکہ  وقف کےلیےایسےالفاظ کہناجووقف پردلالت بھی کرتےہوں ،ضروری ہے،دل میں وقف کرنےکی محض نیت کرناکافی نہیں ،البتہ اگرکوئی جگہ کسی شخص نےمسجد،مدرسہ ،اسپتال یاکسی فلاحی ادارےکودی ہو،توعرف کی بنیادپراس کےوقف ہونےکافیصلہ کیاجائےگا۔

5۔ان تمام جگہوں  میں واقف کی نیت کا اعتبار ہوگا ، اگر مطلقاً کسی بھی مسجد، مدرسہ وغیرہ کے لیے وقف کیا ہو تو وہ وقفِ عام ہوگا، ورنہ وقفِ خاص شمار ہوگا۔ وقف کے بعد اگر متولی خود واقف بنے تو ایسی صورت میں موقوفہ چیز کے تمام تصرفات مصلحتِ وقف کو مدنظر رکھتے ہوئے واقف کے سپرد ہوں گے۔

6۔”ہم سب کی مشترکہ ہے”سےسائل کی مرادکیاہےمشترکہ ملکیت یاکچھ اوراگرملکیت مرادہےتوایساکہنادرست نہیں ہے،کیوں کہ موقوفہ شئی واقف کی ملکیت سےنکل جاتی ہےاوراگرکچھ اورمرادہےتوواضح کرکےدوبارہ معلوم کرلیاجائے۔

7۔وقف سےرجوع کرناجائزنہیں ہے۔

8۔اگر مسجد وقف کرتے وقت واقف یہ شرط رکھ دے کہ مسجد کی تمام ضروریات وہ خود پوری کرے گا اور کسی دوسرے کو اجازت نہیں ہے، تو ایسی صورت میں اس کی اجازت ضروری سمجھی جائے گی اور اس شرط کا اعتبار ہوگا۔البتہ چونکہ مسجد اللہ کا گھر ہے، اس لیے واقف کے لیے بہتر ہے کہ وہ دوسروں کو بھی مسجد کے لیے عطیہ دینے کی اجازت دے۔تاہم انتظامی اعتبارموقوفہ جگہ میں واقف یامتولی کی اجازت کےبغیرہرکس وناکس کوتصرف کاحق نہیں ہے،اگرچہ خیرخواہی کےارادےسےہو،پس مسجدکےلیےکوئی کام کرناتوتوواقف یامتولی کی مشاورت سےکیاجائے۔

9۔وقف کرنے کے بعد واقف خود بھی متولی بن سکتا ہے، اور وقف کی دیکھ بھال اور انتظام کے تمام اختیارات  کسی اورکوبھی دےسکتاہے۔

10۔بلا ضرورت وقف کی تخریب (توڑ پھوڑ ) مصلحت وقف کےخلاف ہونےکی وجہ سےجائز نہیں، البتہ اگر وقف کی عمارت بوسیدہ ہو چکی ہو تو تعمیرِ نو کے مقصد سے اس کی تخریب جائز ہے۔ نیزاگروقف میں  تعمیرکی ضرورت ہوتواس کا حق واقف یااس کی جانب سےمقررکردہ متولی کوحاصل ہے،ایسی صورت میں لوگوں کا تعمیرمیں رکاوٹ ڈالنادرست نہیں ہوگا،اورلوگوں کاواقف کی اجازت کےبغیروقف میں  تعمیرکرنادرست نہیں ہےاگرلوگ واقف کی مخالفت کریں توواقف کوعدالت سےرجوع کاحق ہوگا۔

فتح القدیر میں ہے:

“وعندهما حبس العين على حكم ملك الله تعالى فيزول ملك الواقف عنه إلى الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد، فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولايورث.”

(کتاب الوقف، ج: 6، ص: 203، ط: دار الفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

“(قوله: كل منقول قصدا) إما تبعا للعقار فهو جائز بلا خلاف عندهما كما مر لا خلاف في صحة وقف السلاح والكراع أي الخيل للآثار المشهورة والخلاف فيما سوى ذلك فعند أبي يوسف لا يجوز وعند محمد يجوز ما فيه تعامل من المنقولات واختاره أكثر فقهاء الأمصار كما في الهداية وهو الصحيح كما في الإسعاف، وهو قول أكثر المشايخ كما في الظهيرية؛ لأن القياس قد يترك بالتعامل ونقل في المجتبى عن السير جواز وقف المنقول مطلقا عند محمد وإذا جرى فيه التعامل عند أبي يوسف وتمامه في البحر والمشهور الأول.”

(کتاب الوقف، مطلب في وقف المنقول قصدا، ج: 4، ص: 363، ط: سعید)

فتاوی دارالعلوم دیوبندمیں ہے:

“اشیاء منقولہ کا وقف کرنا جو قابل وقف اور دیر پا ہیں، غیر منقول کی تبعیت میں جائز ہے، اور مستقلاً ان کے وقف کے لیے تعامل کی ضرورت ہے،اثاث البیت میں سے بعض کپڑوں اور برتنوں وغیرہ کا وقف مستقل طور پر بھی جائز ہے۔”

(باب الوقف ،ج:13،ص:120،ط:دارالاشاعت )

الموسوعۃالفقهیۃ الكويتیۃ میں ہے:

8 “الأصل في الوقف أنه من القرب المندوب إليها، وقد تعتريه أحكام أخرى في حالات معينة: فقد يكون الوقف فرضا وهو الوقف المنذور كما لو قال: إن قدم ولدي فعلي أن أقف هذه الدار على ابن السبيل، وقد يكون مباحا إذا كان بلا قصد القربة، ولذا يصح من الذمي ولا ثواب له، ويكون قربة إذا كان من المسلم .وقد يكون الوقف حراما كما لو وقف مسلم على معصية كوقفه على كنيسة.”

(وقف، ج: 44، ص: 112، ط: طبع الوزارة)

الدر المختار مع ردالمحتارمیں ہے:

“وفي الدرر وقف مصحفا على أهل مسجد للقراءة إن يحصون جاز وإن وقف على المسجد جاز ويقرأ فيه، ولا يكون محصورا على هذا المسجد.”

(قوله: ولا يكون محصورا على هذا المسجد) هذا ذكر في الخلاصة بقوله وفي موضع آخر ولا يكون إلخ أي وذكر في كتاب آخر فهو قول آخر مقابل لقوله: ويقرأ فيه، فإن ظاهره أنه يكون مقصورا على ذلك المسجد وهذا هو الظاهر حيث كان الواقف عين ذلك المسجد، فما فعله صاحب الدر حيث نقل العبارة عن الخلاصة، وأسقط منها قوله وفي موضع آخر غير مناسب لإيهامه أنه من تتمة ما قبله إلا أن يكون قد فهم أن قوله: ويقرأ فيه محمول على الأولوية فيكون ما في موضع آخر غير مخالف له تأمل.”

(کتاب الوقف، ج: 4، ص:365، ط: سعید)

فتاویٰ شامی میں ہے:

“‌لا ‌يجوز ‌الرجوع ‌عن ‌الوقف.”

(كتاب الوقف، مطلب في إقالة المتولي عقد الإجارة، ج: 4، ص: 456، ط: سعيد)

فتاوی شامی میں ہے:

“(وركنه ‌الألفاظ ‌الخاصة ك) أرضي هذه (صدقة موقوفة مؤبدة على المساكين ونحوه) من الألفاظ كموقوفة لله تعالى أو على وجه الخير أو البر واكتفى أبو يوسف بلفظ موقوفة فقط قال الشهيد ونحن نفتي به للعرف.”

(كتاب الوقف، ج: 4، ص: 40 3، ط: دار الفكر بيروت)

الدر مع الرد میں ہے:

“(‌جعل) ‌الواقف (‌الولاية ‌لنفسه جاز) بالإجماع.”

(كتاب الوقف، مطلب في الوقف اذا خرب ولم يكن عمارته، ج: 4، ص: 379، ط: سعید)

فتاوی ہندیہ  میں ہے:

“رجل ‌بنى ‌مسجدا وجعله لله تعالى فهو أحق الناس بمرمته وعمارته وبسط البواري والحصر والقناديل، والأذان والإقامة والإمامة إن كان أهلا لذلك فإن لم يكن فالرأي في ذلك إليه. كذا في فتاوى قاضي خان.”

(كتاب الصلاة، الباب الثامن في الوتر، ج:1، ص:110، ط: دار الفكر)

فتاوی شامی میں ہے:

“على أنهم صرحوا بأن مراعاة غرض الواقفين واجبة…وقد مر وجوب العمل بشرط الواقف.”

(کتاب الوقف، ج: 4، ص: 445، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *