سوال
میرے پڑوسی نے اپنے گھر کے نیچے کچھ دکانیں تعمیر کیں، ایک دکا ن کےبارے میں میری اس سے بات ہوئی کہ یہ میں خریدوں گااور قیمت طے کر لی، اس نے کہا کہ ٹھیک ہےاور کچھ دن بعد میں اس کے پاس 20 لاکھ رو پے ایڈوانس لے کر گیا کہ یہ دکان میں خریتا ہوں 20 لاکھ روپے بطور ایڈوانس رکھ لو، اس نے کہا کہ ٹھیک ہے اور مجھے کہا کہ یہ رقم میرے مقرر کیے ہوئے اس بندے کو دے دو( میرے پڑوسی کی اس بندے سے یہ بات ہوئی تھی کہ میری دکانیں فروخت کرو جو نفع ہو گا وہ آپس میں طے شدہ تناسب سے تقسیم کریں گے) چنانچہ میں نے اس بندے کو پیسے دے دیے ، اس کے بعد میرے پڑوسی کا اس بندے سے جھگڑا ہوگیا، اور پڑوسی نے مجھ سے کہا کہ آپ اس بندے سے اپنی رقم واپس لے لو، میں نے کہا کہ میں نے دکان آپ سے خریدی تھی اور پیسے آپ کے کہنے پر اس کو دیے تھے؛ لہذا اب یا مجھے دکان دے دو، یا مجھے میری رقم واپس کرو۔
سوال یہ ہےکہ کی اس کا اس طرح کرنا شرعاً جائزہے یا نہیں ؟کیا وہ مجھے پیسے یا دکان دینے کا پابند ہے یا نہیں ؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں جس گھر کی خریداری کے لیے سائل کے والد صاحب اور بھائی گئے تھے، اور یہ واضح نہیں کہ گھر کس کے لیے خریدا جا رہا تھا، چونکہ والد صاحب کا انتقال ہوچکا ہے، اور بھائی
واضح رہے کہ باہمی رضامندی سے قیمت طے کر کے سودا ہو جانے کے بعد عاقدین میں سے کسی کے لیے یک طرفہ طور پر سودا ختم کرنے کا اختیار باقی نہیں رہتا، لہذا صو رتِ مسئولہ میں مذکورہ دکان کا سودا ہوجانے کے بعد ساسائل کے مذکورہ پڑوسی (فروخت کنندہ) کے لیے سودا ختم کرنے یا فروخت کنندہ کے وکیل با لبیع سے رقم واپس لینے پر مجبور کرنا جائز نہیں ، فروخت کنندہ پر دکان حوالہ کرنا لازم ہو گا، نیز مذکورہ سودا ختم کرنے کے لیے عاقدین کا راضی ہونا شرعاً ضروری ہو گا، نیز باہمی رضامندی سے سودا ختم کرنے کی صورت میں 20 لاکھ روپے کی ادائیگی فروخت کنندہ ((مذکورہ پڑوسی) پر لازم ہوگی۔
فتح القدیر میں ہے:
“وإذا حصل الإيجاب والقبول لزم البيع ولا خيار لواحد منهما إلا من عيب أو عدم رؤية.”
(کتاب البيوع، ج:6 ، ص:257، ط:دار الفكر)
فتاوی شامی میں ہے:
“لأن من شرائطها اتحاد المجلس ورضا المتعاقدين أو الورثة أو الوصي وبقاء المحل.”
(كتاب البيوع، باب الاقالة، ج:5،ص:121، ط: سعيد)
المبسوط للسرخسی میں ہے:
“ثم قبض الوكيل في حق الموكل كقبضه بنفس.”
(كتاب الوكالة، باب الوكالة في الدم والصلح، ج:19، ص:147، ط: دار المعرفة بيروت)
شرح مختصر الکرخی میں ہے:
“قال أبو الحسن: فإن وكل كل واحد منهما بالقبض وكيلا أو أحدهما، فذلك جائز؛ لأن القبض يصح فيه النيابة، فكان قبض الوكيل كقبض موكله.”
(كتاب البيوع، باب قبض المبيع، ج:3، ص:33، ط:دار أسفار، الكويت)
فقط واللہ اعلم
