ایک آدمی کو سودی بینک اپنے قرضے کی وصولی کیلئے اپنا وکیل بناتا ہے تو کیا اس وکالت کی اجرت صحیح ہو گی؟

ایمان و عقائد

سوال

ایک آدمی کو سودی بینک اپنے قرضے کی وصولی کیلئے اپنا وکیل بناتا ہے تو کیا اس وکالت کی اجرت صحیح ہو گی؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم Fatwa ID: 940-761/D=11/1437
شریعت میں سودی لین دین، اور کسی بھی طرح سے اس کی معاونت پر سخت وعید آئی ہے، اور صورت مسئولہ میں سودی قرض کے وصول کے لیے وکیل بننا یا بنانا سودی معاملے کی معاونت ہے، جو کسی بھی طرح جائز نہیں، اور نہ ہی اس کی اجرت جائز ہے۔ ولا یجوز أخذ الأجرة علی المعاصي (کالغنا والنوح والملاہی) لأن المعصیة لا یتصور استحقاقہا بالعقد فلا یجب علیہ الأجر/ مجمع الانہر: ۳/۵۳۲، فقیہ الأمة دیوبند ۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

دار الافتاء:دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتویٰ نمبر:68857
تاریخ فتویٰ:Sep 3, 2016

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *