بیوع
:
مبیع میں کتنا نفع لینے کی گنجائش ہے؟
سوال(۲۴۶):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: جن چیزوں کی قیمت بازار میں متعین نہ ہو، تو اُس چیز کو فروخت کرتے وقت کتنا نفع خریدار سے لینا جائز ہے؟ کوئی مقدار شرعاً متعین ہے، یا فروخت کرنے والے کو اختیار ہے جتنا چاہے نفع حاصل کرے۔
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: شریعت میں نفع کی کوئی حد متعین نہیں ہے، مالک اپنی مصلحت سے جتنی چاہے قیمت متعین کرسکتا ہے؛ تاہم مروت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ مشتری کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کرے، کسی کی مجبوری سے فائدہ نہ اٹھائے۔
لأن الثمن حق العاقد فإلیہ تقدیرہ۔ (الہدایۃ، کتاب الکراہیۃ / فصل في البیع ۴؍۴۵۵ إدارۃ المعارف دیوبند، بدائع الصنائع ۵؍۱۲۹ المکتبۃ النعیمیۃ دیوبند) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
املاہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۲۵؍۱؍۱۴۳۷ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ
الگ الگ لیبل کا عطر الگ الگ قیمت پر بیچنا؟
سوال(۲۴۷):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں
3 میں سے 496
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مسئولہ صورت میں دس روپئے کی چیز الگ الگ لیبل لگاکر مختلف قیمتوں میں کمی بیشی کے ساتھ فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، بشرطیکہ فریقین راضی ہوں، اور کسی قسم کی دھوکہ دہی نہ پائی جائے۔
من اشتریٰ شیئًا وأغلی في ثمنہ جاز … الخ۔ (الفتاویٰ الہندیۃ ۳؍۱۳۱ زکریا) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
املاہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۲۵؍۱؍۱۴۳۷ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ
گنگا کی مچھلیاں ٹھیکیدار کی اجازت کے بغیر پکڑنا؟
سوال(۲۴۸):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: بجنور میں گنگا بیراج پر حکومت مچھلی پکڑنے کے لئے ٹھیکہ چھوڑتی ہے، اور قانوناً ٹھیکے دار کے علاوہ کسی اور کے لئے مچھلی پکڑنا ممنوع ہے، اَب اگر کوئی شخص چوری چھپے جال وغیرہ ڈال کر مچھلی پکڑلے تو یہ مچھلی اُس کے لئے حلال ہوگی یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مسئولہ صورت میں چوںکہ گنگا بیراج کا متعین کنارہ بھی ٹھیکے دار کے زیر اختیار رہتا ہے، اِس لئے ٹھیکے دار کو اِس بات کا تو حق حاصل ہے کہ وہ دیگر لوگوں کو اس کے کنارے پر آکر مچھلی کا شکار کرنے سے روک دے؛ لیکن اگر کوئی شخص ٹھیکے دار سے
3 میں سے 497
وجاز إجازۃ القناۃ والنہر مع الماء، بہ یفتیٰ لعموم البلویٰ۔ (الدر المختار، کتاب الإجارۃ / باب ضمان الأجیر ۹؍۸۶ زکریا)
ولا یجوز إجازۃ ماء في نہر أو قناۃ أو بئر، وإن استاجر النہر وَالقناۃ مع الماء لم یجز أیضًا؛ لأن فیہ استہلاک العین أصلاً، والفتویٰ علی الجواز لعموم البلویٰ۔ (الفتاویٰ الہندیۃ، کتاب الإجارۃ / الباب الخامس عشر في بیان ما یجوز من الإجارۃ وما لا یجوز ۴؍۴۴۱ دار إحیاء التراث العربي بیروت) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
املاہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ
۲۲؍۱۱؍۱۴۳۵ھ
ابتدائی رجسٹری کے بغیر زمینوں کا کاروبار؟
سوال(۲۴۹):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: کچھ لوگ زمین کا کاروبار کرتے ہیں اور کسی سے زمین خریدکر اُس کو اس زمین کا روپیہ دے دیتے ہیں، اُس زمین کا بیع نامہ اپنے نام نہیں کرتے ہیں، پھر کچھ مدت گذر نے کے بعد یہ لوگ دوسرے سے اس زمین کو بیچ دیتے ہیں پھر پہلے والے شخص کو لے جاکر جس کے ہاتھ زمین اُن لوگوں نے بیچی ہے، اُس کے نام کرادیتے ہیں، اپنے نام بیع نامہ کراوانے میں زیادہ روپیہ لگتا ہے، اِس لئے صرف لے کر اپنی ملکیت میں اُس کو بیچ دیا کرتے ہیں، تو کیا اِس طرح سے زمینی کاروبار کرنا جائز ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: زمین وغیرہ کی بیع کی تکمیل کے لئے نامزد رجسٹری ہونا لازم نہیں؛ بلکہ فریقین کے درمیان پختہ طور پر معاملہ طے ہوجانا کافی ہے۔ بریں بناء مسئولہ صورت
کتاب النوازل جلد 17 صفحہ 494
