سوال
ایک شخص نے باغ وقف کردیا, اب اس علاقے میں ایک مسجد کی تعمیر میں زیادہ رقم کی ضرورت ہے, یہ شخص چاہتا ہے کہ باغ مع زمین کے فروخت کرکے وہ رقم اس میں صرف کردے, کیا یہ جائز ہے؟
جواب
واضح رہے کہ اللہ رب العزت کے نام کی حرمت بہت زیادہ ہے،بات بات پر قسم اٹھانے سے اللہ کے نام کی حرمت وعظمت دل میں کم ہوجاتی ہے،پھر انسان قسم توڑنے میں جری ہوجاتاہےاور اللہ کے نام کی
اگر باغ وقف کردیا گیاہے تو وہ وقف کرنے والے کی ملکیت سے نکل چکا ہے، اب مسجد یا مدرسے یا کسی اور دینی کام کے لیے اسے فروخت کرناجائز نہیں۔
الجوهرة النيرة (3/ 292):
’’( وَإِذَا صَحَّ الْوَقْفُ عَلَى اخْتِلَافِهِمْ خَرَجَ مِنْ مِلْكِ الْوَاقِفِ ) حَتَّى لَوْ كَانُوا عَبِيدًا فَأَعْتَقَهُمْ لَا يَعْتِقُونَ قَوْلُهُ: ( وَلَمْ يَدْخُلْ فِي مِلْكِ الْمَوْقُوفِ عَلَيْهِ ) ؛ لِأَنَّهُ لَوْ دَخَلَ فِي مِلْكِهِنَفَذَ بَيْعُهُ فِيهِ كَسَائِرِ أَمْلَاكِهِ‘‘.
شرح فتح القدير (6/ 220):
’’وإذا صح الوقف أي لزم، وهذا يؤيد ما قدمناه في قول القدوري: وإذا صح الوقف خرج عن ملك الواقف، ثم قوله: لم يجز بيعه ولا تمليكه هو بإجماع الفقهاء‘‘.
“الفقہ الاسلامی وادلتہ” میں ہے:
’’إذا صحّ الوقف خرج عن ملک الواقف، وصار حبیسًا علی حکم ملک الله تعالی، ولم یدخل في ملک الموقوف علیه، بدلیل انتقاله عنه بشرط الواقف (المالک الأول) کسائر أملاکه، وإذا صحّ الوقف لم یجز بیعه ولا تملیکه ولا قسمته ‘‘. (الفقه الإسلامي وأدلته ۱۰/۷۶۱۷ ، الباب الخامس الوقف ، الفصل الثالث حکم الوقف) فقط واللہ ا علم
