مضاربت میں خیانت ثابت ہونے کے بعد مال مضاربت کی تقسیم کا طریق کار

حرام مال سے حاصل شدہ نفع کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص محکمہ ایری گیشن (پائپ لائن) میں اکاؤنٹینٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہا ہے اور اسے تنخواہ کے علاوہ مزید کافی رقم مل رہی ہو جبکہ نہ لینے پر سٹاف تنگ کرتا ہو، پھر اس شخص سے ایک آدمی ایک لاکھ روپے کی مالیت مضاربت کیلئے لے لے اور مضارب اس کو آدھا منافع دیتا ہو، آیا ان پیسوں پر مضاربت درست ہوگی؟ اگر مضاربت والا طالب علم کو برائے حصول تعلیم یہ رقم دے رہا ہوتو کیا ان پیسوں پر دینی علوم کا حصول جائز ہوگا یا نہیں؟ بینواتوجروا
المستفتی: نامعلوم…۱۹۸۶ء/۱/۱
الجواب :حرام مال سے حاصل شدہ نفع حلال ہے، اگر چہ یہ معاملہ حرام ہے{۱} لعدم جری العادۃ علی تعین الدراہم عند الشرآء بہا، پس اس نفع سے ہر غنی وفقیر کی اعانت جائز ہے، بخلاف المال الحرام{۲}۔  وھوالموفق
{۱} قال العلامۃ الشامی: (قولہ اکتسب حراما الخ)توضیح المسألۃ ما فی التتارخانیۃ  حیث قال: رجل اکتسب مالا من حرام ثم اشتری فہذا علی خمسۃ اوجہ، اما ان دفع تلک الدراہم الی البائع اولاً ثم اشتری منہ بہا او اشتری قبل الدفع بہا ودفعہا، او اشتری قبل الدفع بہا ودفع غیرہا، او اشتری مطلقا ودفع تلک الدراہم، او اشتری بدراہم اخر ودفع تلک الدراہم، قال ابونصر یطیب لہ ولا یجب علیہ ان یتصدق الا فی الوجہ الاول… وقال الکرخی فی الوجہ الاول والثانی لا یطیب،وفی الثلاث الاخیرۃ یطیب، وقال ابوبکرلا یطیب فی الکل، لکن الفتوی الآن علی قول الکرخی دفعا للحرج عن الناس۔
(ردالمحتار ۴:۲۴۴ مطلب اذا اکتسب حراما ثم اشتری فہو علی خمسۃ اوجہ)
{۲}فی شرح المجلۃ: لانہ اما غاصب او مستودع، وکل منہما استربح فیما فی یدہ لنفسہ، یکون ربحہ لہ لا للمالک لکن یملکہ ملکاً خبیثاً سبیلہ التصدق بہ علی الفقراء۔ (شرح المجلۃ ۴:۳۰ المادۃ:۱۰۹۰)
مضاربت میں خیانت ثابت ہونے کے بعد مال مضاربت کی تقسیم کا طریق کار
سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید اور بکر نے مضاربت کا کاروبار شروع کیا، زید نے دو لاکھ روپے سرمایہ لگایا اور بکر مضارب کو نصف پر دیا، پھر بکر نے زید سے مشورہ کئے بغیر ایک ملازم رکھا ، زید نے اس پر اعتراض کیا تو بکر نے جواباً کہہ دیا کہ یہ میرا معتمد دوست ہے، اس پر زید خاموش ہو گیا، ڈیڑھ سال بعد زید کو معلوم ہوا کہ دکان میں تیرہ ہزار روپے کا خسارہ ہواہے، بکر اور عمر نے چوری کی ہے، بکر نے اسی عرصہ میں اپنی ضروریات کیلئے دکان سے پینتالیس ہزار روپے لئے تھے جبکہ زید کو باوجودمطالبہ کے کچھ نہیں دیا، اب بکر کہتا ہے کہ میں نے دکان میں محنت کی ہے لہٰذا مجھے اس کا عوض ملنا چاہئے، فیصلہ کیلئے دو علماء ثالث مقرر کئے گئے

3 میں سے 227

انہوں نے حساب کتاب کرکے آخر کار یہ فیصلہ سنا دیا کہ دکان زید کے پاس رہے اور بکر کو محنت کے عوض پینتالیس ہزار روپے دئیے جائیں جو وہ پہلے لے چکا ہے اس طرح زید (رب المال) کو اٹھاون ہزار روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑا، اب سوال یہ ہے کہ یہ فیصلہ شرعاً درست ہے یا نہیں؟ مذکورہ فیصلہ شرعی نہ ہونے کی صورت میںشرعی فیصلہ بھی رقم فرمادیں؟ جزاکم اللہ خیرا
المستفتی:ڈاکٹر اسماعیل میمن مدینہ منورہ…۲۶/مئی ۱۹۸۷ء
الجواب : اگر زید شہادت شرعیہ سے یہ ثابت کرے کہ بکر نے خیانت اور چوری کی ہے تو اس خیانت کا عہدہ بکر پر عائدہوگا{۱} اوراس کے بعد جب تمام سامان (کپڑے) فروخت ہو تو اصل رقم
{۱}فی الہندیۃ: فان صحت الدعوی سأل المدعی علیہ عنہا فان اقر او انکر فبرہن المدعی قضی علیہ۔ (فتاویٰ ہندیۃ ۴:۱۳ الباب الثالث فی الیمین)
وقال العلامۃ الکاسانی: فاذا خالف شرط رب المال صاربمنزلۃ الغاصب ویصیر المال مضمونا علیہ۔
(بدائع الصنائع ۵:۱۲۰ کتاب المضاربۃ، فصل فی بیان حکم المضاربۃ)
زید (رب المال) کو دی جائے اور زیادت اصل رقم پر (مثلاً دو لاکھ پر) مساوی طور سے تقسیم کریں{۱} اور جو رقم بکر نے اخراجات کیلئے لی ہے وہ بکر کے حصہ کمائی سے منہا کی جائے۔  وھوالموفق
مضارب کا نفقہ اور اس پر مال ِمضاربت کے تاوان کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے بکر کو دس ہزار روپے دئیے اور کہا کہ پانچ ہزار ورپے قرضہ ہے اور پانچ ہزار روپے ہمارے لئے بطور مضاربت استعمال کریں،اگر ساری رقم ہلاک ہو جائے تو آپ پانچ ہزار کے ضامن ہونگے اور آپ کو اس رقم سے خوراک کی اجازت ہے اس مضاربت کا کیا حکم ہے؟بینوا توجروا
المستفتی:۔ گل محمد بلوچستانی متعلم حقانیہ …  ۶۸ء / ۷/۲۱
الجواب: یہ شخص مال ِمقروض کا ضامن  ہے {۲}نہ کہ مال مضاربت کا {۳} اور اگر یہ شخص
{۱}قال العلامۃ ظفر احمد العثمانی: وفی العالمگیریۃ: سئل ابو بکر عن شریکین جن احدہما وعمل الآخر بالمال حتی ربح او وضع قال الشرکۃ بینہما قائمۃ الی ان یتم اطباق الجنون علیہ فاذا قضی ذلک ینفسخ الشرکۃ بینہما فاذا عمل بالمال بعد ذلک فالربح کلہ للعامل والوضیعۃ علیہ وہو کالغصب بمال المجنون فیطیب لہ من الربح حصۃ مالہ ولا یطیب لہ من مال المجنون فیتصدق بہ قال الشامی وفی القہستانی ولہ ان یؤدیہ الی المالک ویحل لہ التناول لزوال الخبث (۵:۱۸۴) اور مضارب کیلئے بھی یہی حکم ہے کہ کل نفع مقررہ اس کی ملک ہے لیکن جس شریک نے اس سے عقد مضاربت کیا ہے اس کے حصہ کے موافق حلال ہے اور زائد حلال نہیں بلکہ دوسرے شرکاء کو دے دے یا فقراء کو دے دے۔ وہذا ہو مقتضی

3 میں سے 228

القواعد ولم ارہ صریحا۔
(امداد الاحکام ۳:۳۲۰ کتاب الشرکۃ والمضاربۃ)
{۲} وفی شرح المجلۃ: ھو عقد مخصوص یرد علی دفع مال مثلی لردّ مثلہ‘‘۔
(شرح المجلۃ  ۲:۴۳۷ کتاب البیوع، احکام القرض)
{۳} وفی الھدایۃ: ثم المدفوع إلی المضارب …(بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
تجارت اپنے شہر میں کر رہا ہو تو اس کانفقہ اپنے مال میں ہے نہ کہ مال مضاربت میں  (شامی){۱}۔ واللّٰہ اعلم
مہتمم کا مالِ زکوٰۃ مضاربت پردینا
سوال : کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مال زکوٰۃ کا فنڈ جو کہ مدرسہ کیلئے جمع کیا گیا ہے اگر اس میں بطور مضاربت بمشورہ متولی واراکین مدرسہ برائے مدرسہ تجارت کی جائے تو جائز ہے یا نہیں ؟ جواب دے کر عنایت فرما ئیں ؟ بینوا توجروا
المستفتی: سید جلال الدین، مہتمم مدرسہ زرگری ضلع ہنگو…  ۱۹۶۹؁ء/ ۱/۲۰
الجواب: چونکہ مضاربت صحیحہ میں اصلِ زر کل یا بعض کی ہلاکت کا خطرہ موجود ہے،لہٰذا ملاک کے اذنِ صریحی کے بغیر مالِ زکوٰۃ کو مضاربت پر دینا خیانت ہے{۲}فقط ۔وھو الموفق
(بقیہ حاشیہ)امانۃ فی یدہ لأنہ قبضہ بأ مر مالکہ لا علی وجہ البدل والو ثیقۃ ۔
(الھدایۃ : ۳:۲۵۷ کتاب المضاربۃ)
{۱}قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالٰی ’’ ( وإن عمل فی المصر ) سواء و لدفیہ أو اتخذہ داراً( فنفقتہ فی مالہ) کدوائہ علی الظاھر‘‘۔
(الدرالمختار۴:۵۴۶ کتاب المضاربۃ، فصل فی المتفرقات)
{۲}وفی شرح المجلۃ : لا یجوز لأحد أن یتصرف فی ملک غیرہ بلا إذنہ أووکالۃ منہ أوولایۃ علیہ و إن فعل کان ضامنا‘‘۔
(شرح المجلۃ لسیلم  رستم باز رحمہ اللہ تعالٰی ،۶۱ المادۃ ۹۶)
کتاب الہبۃ
تملیک اور ہبہ میں فرق
سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہبہ اور تملیک ایک چیز ہے یا جدا جدا؟ فقہی قانون کے تحت جزوی جواب کی ضرورت ہے؟ بینواتوجروا
المستفتی: فضل ربانی سکنہ چترال…۲۲/جون ۱۹۷۰ء

 

فتاوی فریدیہ جلد 7 – یونیکوڈ – غیر موافق للمطبوع صفحہ 225

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *